Technology

Ads

Most Popular

Friday, 5 October 2018

ٹرمپ کا سعودیہ بارے جارحانہ رویہ

 

(محمد اسلم خان)

پاک چین اقتصادی راہداری میں سعودی عرب کی شمولیت کی گرما گرمی دم توڑ رہی تھی، سازشوں اور نت نئی تاویلوں کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے تھے، امریکی بادشاہ سلامت ٹرمپ نے اپنے ایک جارحانہ بیان سے ملت اسلامیہ کی رہی سہی علامتی آبرو کا جنازہ نکالنے کی جسارت کرڈالی۔ داخلی، علاقائی اور عالمی مسائل میں بری طرح الجھے سعودی شاہی خاندان کے لئے امریکی صدر کے بیان نے لال قلعہ دہلی کے قیدی شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی یاد تازہ کردی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’شاہ سلمان کو بتادیا تھا ہمارے بغیرآپ دوہفتے بھی اپنا اقتدار برقرار نہیں رکھ سکتے‘‘۔ یہ اسی دریدہ دہن کے الفاظ تھے جس نے بطور صدرامریکہ پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔ اس بیان کو زیادہ سے زیادہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔امریکی ریاست ’میسیسپی‘ کے شہر ’ساؤتھ ہیون‘ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ کریڈٹ خود لے لیا کہ ’’ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔ شاہی خاندان کی امارت کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز اپنایا۔ٹرمپ نے ’’خادمین حرمین وشریفین‘‘ کو عوام میں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنی ملاقات کا قصہ بھی ٹرمپ نے فخر ورعونت سے امریکیوں کوسنایا کہ۔’’ میں نے صاف صاف سعودی بادشاہ کو بتادیا تھا کہ ’شاہ سلمان۔۔۔ ہم تمھاری حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بغیر تم دو ہفتے بھی برسراقتدار نہیں رہو گے‘‘ اورساتھ ہی اس حفاظت کی قیمت اس جملے کی صورت بیان کردی کہ ’’ تمھیں امریکی فوج کے لئے معاوضہ ادا کرنا ہوگا‘۔وہ ہمارے سپہ سالار کی قیادت میں تشکیل دیا جانے والا اسلامی لشکر جرار کیا ہوا وہ 34 ممالک کی اسلامی سپاہ کدھر گئی وہ اس کے کمانڈر راحیل شریف کدھر گئے۔حجاز مقدس کی اہمیت دو مقدس ترین اسلامی مقامات سے ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی کا پاکیزہ گھر خانہ کعبہ اور آقائے محترمؐ کا روضہ انور مسجد نبوی ہر مسلمان کے دل کی ٹھنڈک اور آنکھوں کا نور وسرور ہے۔ ان مقدس و مطہر مقامات کا نگہباں خاندان اس وقت شدید داخلی کشمکش اور ریشہ دوانیوں کا شکارہے۔

حقیقی طورپر بادشاہت اور قوت وطاقت شہزادہ محمد بن سلمان کے پاس ہے۔ یہ تہلکہ خیز خبر بھی جاری ہوئی تھی کہ شاہی محل پر حملہ ہوا یہی وہ نوجوان شہزادہ ہے جو ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر کا دوست ہے۔ا نہوں نے اپنے ’کزن شہزادوں‘ کو 7 سٹار ہوٹل میں بند کرکے ان سے کرپشن کی دولت نکلوائی ۔ ارب پتی سرمایہ کار اور کامیاب تاجر کی شہرت کے حامل شہزادہ ولید بن طلال سے بھی اربوں ڈالر وصول کئے گئے تھے۔’ قید خانے‘ سے نجات کے خواہش مند شہزادوں نے حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے محمد بن سلمان کے ہاتھ پر ’بیعت‘ کرنے میں عافیت جانی۔ ایک برطانوی اخبار پہلے ہی یہ خبر شائع کرچکا ہے کہ شاہی خاندان کے بڑے بوڑھے محمد بن سلمان کی بادشاہت قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور خفیہ انداز میں سرگرم عمل مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے شہزادہ محمد والا فارمولہ اشاہی خاندان پر لاگوکرنے کی کوشش کی ہے ۔اس قضیہ سے جڑی اصل حقیقت تیل کی دولت ہے۔دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک سعودی عرب ہے۔ یہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب میں کہتے تھے کہ اوپیک رکن ممالک ’معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔ٹرمپ نے یہیں بریک نہیں لگائی۔ کہا کہ ’ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلا وجہ دفاع کر رہے ہیں۔ وہ ہم سے اس کا فائدہ بھی وصول کررہے ہیں، بھاری قیمتوں پر ہمیں تیل فروخت کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں۔ ہم چاہتے ہیں وہ تیل کی قیمت نہ بڑھائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں کمی کا آغاز کریں۔ ماہرجواری رفتہ رفتہ ’تگڑی پارٹی‘ سے سب کچھ جیت لیتا ہے اور اسے قلاش بناکر نمونہ عبرت بنادیتا ہے۔ ٹرمپ کا کاروبار ہی یہ رہا ہے۔ وہ اپنے تمام حربے عرب حکمرانوں پر استعمال میں لارہاہے۔ موت دکھا دکھا کر مال نکلوارہا ہے۔ یمن میں جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے عالمی کمیشن کے قیام پر رائے شماری ہوئی۔ اس قرارداد کے حق میں 21 اور مخالفت میں 8 ووٹ ڈالے گئے۔ آٹھواں ووٹ ہمارا ، پاکستان کا تھا۔ہم نے سعودی عرب کا ساتھ دینے میں حق ادا کر دیا۔

ممتاز سعودی صحافی جمال خشوگی استنبول میں سعودی سفارتخانے کے دورے کے دوران لاپتہ ہوچکے ہیں۔ جمال خشوگی ان دنوں امریکی صحافتی ادارے واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ ہیں اور ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی ہے۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ ہمیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق جمال خشوگی ابھی تک سفارتخانے کے اندر موجود ہیں۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔یہ وہی شخص ہے جس نے ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے مشیر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ جمال خشوگی، سعودی ولی عہد کی حالیہ اصلاحات اور 2030 وژن کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ وہ الوطن اخبار کے سابق مدیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جو ’انقلاب‘ برپا ہے اس میں فیصلے لینے اور پھر بدلنے کا چلن کچھ اچھا تاثر پیدا نہیں کررہا۔ ایک دو نہیں پیہم یہ روش چلی جارہی ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب کو تیسرے فریق کے طورپر شامل کرنے کا بھی جو غلغلہ بلند ہوا، اس نے کئی اطراف بیک وقت کئی طرح کے پیغامات بھیجے۔ درون خانہ کی گفتگو کا تو کیا کہئیے؟ لیکن فیصلہ سازی میں وہ امور بھی محونظر کردئیے گئے جو اس اہم فیصلہ سے قبل چینی دوستوں سے مشاورت اور پہلے سے طے شدہ معاہدات کے دائرہ میں رہتے ہوئے انجام پاتے۔ اب حکومت نے میڈیا میں اتنی ’بلند اقبال‘ پانے کے بعد ’دھڑام‘ سے خبر دی کہ سعودی عرب کو تیسرے فریق کے طورپر شامل نہیں کیاجارہا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ سی پیک میں تیسرے فریق کو شامل کیاجارہا ہے۔حرف آخر یہ کہ جناب جواد نظیر کی جدائی کا زخم تازہ تھا کہ برادر مکرم’ عزیز دوست،عِلم پرور،مایہ ناز آرکیٹیکٹ ڈیزائنر اور دانشور ، تحریک بابِ پاکستان کے روحِ رواں امجد مختار چوہان اپنے گھر واپڈا ٹاؤن لاہور میں پر اسرار طور پر جاں بحق ہوگئے مدتوں سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن ملنے کی آس رہتی تھی سو آج وہ بھی ختم ہو گئی ایک اور نام حذف ہوا ایک اور نمبر کٹ گیا۔

The post ٹرمپ کا سعودیہ بارے جارحانہ رویہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2E89irg
via IFTTT

No comments:
Write komentar