(تسنیم خیالی)
شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں ایک نئے ڈرامے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس ڈرامے کے ہیرو وائٹ ہیلمٹ کے رضاکار ہوں گے،آپ کو یاد ہوگا کہ وائٹ ہیلمٹ ایک ایسی تنظیم کا نام ہے جو شام کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو امداد دینے کا ڈھونگ کرتی ہے،اس تنظیم کے کارکن دراصل النصرہ فرنٹ ،احرارالشام اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے کارکن ہیں ،جن کا جان بچانے سے نہیں بلکہ جان لینے سے تعلق ہے اور مشرقی غوطہ میں وائٹ ہیلمٹ کے کارکن موجود ہیں۔
شامی سیکورٹی اطلاعات کے مطابق وائٹ ہیلمٹ کے کارکن مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں سے بچنے کیلئے چہرے پر لگائے جانے والے ماسک بانٹ رہے ہیں جس کی بنا پر قوی امکان ہے ک ہ مشرقی غوطہ میں کسی بھی وقت دشمنوں کے ہاتھوں کیمیائی حملہ برپا ہوسکتا ہے جس کا الزام ہمیشہ کی طرح شامی حکومت پر عائد کی جائے گی،مزید برآں اس حملے کے لیے کلورائیڈ گیس سے بھرے دو ٹرک بھی براستہ ترکی شام داخل کردیے گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں 2017ء میں خان شیخون پر ہونے والے کیمیائی حملے کا تذکرہ کرنا پڑے گا،اس وقت شامی افواج خان شیخون پر کنٹرول حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ گیا تھا اور واقعی میں بہت جلد اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے جارہی تھی۔شامی افواج کی پیش رفت کو روکنے کے لیے دہشت گردوں نے امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا،اس حملے کے بعد امریکہ،فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرنے کی کوشش جسے روس اور چین نے مقرر کر دیا تھا۔سلامتی کونسل میں ناکامی کا بدلہ امریکہ نے یوں لیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر شامی فوجی ایئرپورٹ شعیرات پر 59 ٹماہاک بم برسائے گئے ،یہ کہہ کر کہ خان شیخون پر کیمیائی حملہ شیعرات ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے شامی لڑاکا طیاروں نے کیا تھا۔
مشرقی غوطہ کے معاملے میں بھی یہی صورت حال درپیش ہے،اس وقت شامی افواج مشرقی غوطہ کی طرف کامیابی سے گامزن ہیں اور علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے پیش قدمی کررہی ہے،اس شامی پیشرفت کو روکنے کی کوشش میں مشرقی غوطہ پر کیمیائی حملے کی تیاری کی جارہی ہے جسکے بعد امریکہ،فرانس اور برطانیہ شور مچانا شروع کردیں گے۔
اب قابل غور بات یہ بھی ہے کہ برطانیہ نے چند ہی روز قبل شامی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ شام میں کیمیائی حملہ ہونے کی صورت میں برطانیہ شام پر فوجی حملہ کرے گا تو کیا برطانیہ کو اس بات کا علم ہے کہ شام میں کیمیائی حملہ ہونے جارہا ہے؟برطانیہ کی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں واقعی کیمیائی حملہ ہونے جارہا ہے،البتہ حملہ آور کوئی بھی ہو ذمہ دار شامی حکومت ٹھہرایا جائے گا،جس کے بعد شام کے خلاف کارروائی کا بہانہ مل جائے گا۔
اس سارے معاملے میں مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ شام نے 2014ء میں روس کی وساطت سے طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنے تمام کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ کردیا ہے اور اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے تو پھر شام میں ہونے والے کیمیائی ہتھیارشامی فوج کیسے کرے گی،جبکہ اس کے پاس اس قسم کا کوئی ہتھیار موجود نہیں ۔
بات دراصل یہ ہے کہ شام اور اس کے اتحادی شام میں جاری جنگ میں پےدرپے کامیابیاں حاصل کرتے جارہے ہیں جو کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی اور بعض خلیجی ریاستوں کو گوارہ نہیں جس کے لئے وہ آئے دن کوئی نئی سازش لے کر سامنے آتے رہتے ہیں اور اس بار ان کی سازشوں کا نشانہ مشرقی غوطہ اور اس کے باسی بننے جارہے ہیں،شام میں حالات اس وقت انتہائی نازک موڑ پر ہیں اور آنےوالے دن انتہائی حساس ہوں گے۔
The post لوجی شام میں نئے ڈرامے کی تیاریاں شروع appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ http://ift.tt/2t8dfX8
via IFTTT

No comments:
Post a Comment