مر جانیوالے شوہر کے ساتھ اسکی بیوہ کو ستی کرنے کی ہندوانہ رسم : مگر جیتی جاگتی عورت کو یہ سزا کیوں دی جاتی ہے ؟ جانیے لاہور(خصوصی رپورٹ) ہندو مذہب میں لاش کو دفنانے کی بجائے جلانے کا رواج ہے۔قدیم ہندو ایک عورت کو پانے والے خاوند کے ساتھ شادی کے لباس میں عقائد کی وجہ سے زندہ جلادیتے تھے ،
ان کا گمان ،ان گمان تھا کہ اگر اس عورت کو اس خاوند کے ساتھ جلایا جائے گا تا کہ میاں بیوی کے تمام گناہ دھل جایئں گے اور وہ دونوں مرنے کے بعد بھی ایک دوسرے کے ہمراہ رہیں گے ۔اس کے بر عکس خاوند کو اپنی بیوی کی وفات کے بعد زندہ جلنے کے عمل ست نہیں گزرنا پڑتا تھا بعض اوقات عورت کو نشہ آور شے دے کر یا زبردستی زندہ جلایاجاتا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ستی کا آغاز 3 قبل مسیح میں ہوا۔ ستی کے خلاف قوانین برطانوی دور حکومت میں آئے ، ستی کی روائت نیپال بھی عام تھی ،جبکہ اس کا اختتام 1920ء میں قانونی طور پر ہوا۔آج کی مہزب دینا میں بھارت کے پسماندہ علا قوق میں ستی کی رسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں ۔دوسری جانب بھارت میں ایک قصبہ ورندوان ہے جسکو بیوہ خواتین کا قصبہ کہا جاتا ہے ۔ہندوؤں کے عقائد کے مطابق یہاں کوشن کی پیدائش ہوئی تھی جس کے پیش نظر وہ اس شہر کو مقد س تصویر کرتے ہیں ۔ ملک بھر سے بے سہارا بہوہ عورتیں اکھٹا ہوتی ہیں جن کو ان کے خاوند اپنانے سے انکار کر دیتے ہیں ۔یہاں آکر وہ مختلف زرائع ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرتی ہیں ۔(ن)
ٹاپ نیوزسینیٹ الیکشن: 12 میں سے 11 نشستوں پر کس جماعت کی کلین سویپ فتح کا امکان ہے ؟ سیاسی پیشگوئی کر دی گئی
from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://ift.tt/2FHkxDT
via IFTTT

No comments:
Write komentar