Technology

Ads

Most Popular

Friday, 4 May 2018

(کچھ آس پاس کی باتیں3)

 

قبروں کےپھیلاؤ سے شام و عراق کا جغرافیہ بدلاجارہا ہے پہلے ہی ہم اپنے گذشتہ مضمون ’’کچھ آس پاس کی باتیں 2کہ جس کا عنوان ’’ہم اس گنبد کو زمین بوس کردینگے ۔۔‘‘میں واضح کرچکے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی بھی طور مذہبی مضمون نگاری نہیں لیکن دوسری جانب اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو اس وقت مغربی ایشیا میں جاری بحران سے جڑا ہوا ہے اور ا سکے پیچھے دنیابھر میں مضمون نگار ،تجزیہ کار اور اہم سیاسی و سرکاری شخصیات لکھ رہی ہیں ۔حال ہی میں اسٹراٹیجکل موضوعات پر مطالعات کرتے ہوئے ایک مضمون نظر سے گذار جس کی کھوج لگانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انگلش اور عربی زبان میں اسٹرٹیجکل مطالعات سے تعلق رکھنے والی ایک ویب سائیٹ سے تعلق رکھتا ہے ۔

مضمون نگار پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور اسی مرکز سے وابستہ ہیں ویب سائیٹ کو بغور کھنکھالنے کے بعد جو چیزیں سامنے آئیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ کہنے کو تو یہ ایک اسٹرٹیجکل مطالعات کا مرکز ہے لیکن اگر اسے مخصوص ذہینت اور سوچ کا مرکز کہا جائے تو مناسب ہوگا ۔مضمون نگار کے مضمون کا عنوان تھا ’’ایران کی جانب سے شام اور عراق میں شیعہ مزاروں کی تعمیر‘‘

مضمون نگار لکھتا ہے کہ ’’ایران کی ولایت فقیہ والی حکومت شام اور عراق میں شیعہ مقدس مزارات کی تعمیر میں لگی ہوئی ہے ،وہ پہلے ان مزارات کی حفاظت کے نام پر وہاں موجود ہے ،دنیا بھر کے شیعہ ایران کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے مذہبی مقدسات کو تکفیری دہشتگردوں سے محفوظ رکھے گا ‘‘

وہ مزید لکھتا ہے کہ ’’شام اور عراق میں خامنہ ای کی براہ راست نگرانی میں ان مزارات کی تعمیر کا کام جاری ہے جسے ایک ایرانی کنسٹریکشن کمپنی انجام دے رہی ہے ۔وہ شام میں سیدہ زینب بنت علی کے مزار کے احاطے کو مزید وسیع کرناچاہتے ہیں اسی طرح دمشق شہر کے وسط میں رقیہ یعنی سکینہ بنت امام حسین کے مزار کو بھی مزید بڑا کرنا چاہتے ہیں ‘‘

مضمون نگار لکھتا ہے مضحیکہ خیز بات یہ ہے کہ ایران سیدہ زینب کے مزار میں سینکڑوں مہمانوں کے لئے ایک جگہ بنانا چاہتا ہے اور اب اس مزار کو عالمی تاریخی میراث کے ادارے یونیسکو میں بھی ایک تاریخی مقام کے طور پردرج کروایا ہے ‘‘

مضمون نگار مزید لکھتا ہے کہ ’’ایران صرف ان دو جگہوں تک اکتفا نہیں کرنا چاہتا ایران آیت اللہ خامنہ ای کا ادارہ چاہتا ہے کہ حلب ،حمص ،اورحوران سمیت جہاں جہاں بھی ان کے مزارات ہیں ا سکی تعمیر کرے ‘‘

مضمون نگار مزید لکھتا ہے کہ بات صرف شام تک محدود نہیں بلکہ عراق میں بھی ایسا ہی ہے وہ عراق میں امام علی کے مزار میں ایک نیا احاطہ بنارہا ہے کہ جس کے بعد مزار کا علاقہ 11 ہزار مربع میٹر سے بڑھ 3لاکھ مربع میٹر ہوجائے گا ایرانیوں کا بہانہ یہ ہے کہ زائرین کی تعداد بڑھی ہے لہذا ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے ۔
اسی طرح وہ زینب بنت علی کے بھائی حسین ابن علی کے مزار میں بھی ایک لاکھ ساٹھ ہزار مربع میٹر کا اضافہ کرنے جارہے ہیں اور یہی حال بغداد میں کاظمین کے مزاروں کا ہے ‘‘

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ’’پس یہ ایک حقیقی جنگ ہے جو شیعہ اپنے علاقوں کے لئے لڑ رہے ہیں اور وہ قبروں کے پھیلاو ٔسے شام اور عراق کی تاریخ اور جغرافیہ بدل رہے ہیں ۔۔‘‘اگر ہم اس مرکز کی جانب سے چھپنے والی کتابوں اور اس کی ایکٹیویٹیز کو ملاحظہ کریں تو واضح ہوجاتا ہے کہ اسٹراٹیجکل مطالعات میں اس کا مکمل فوکس جیسا کہ اس مرکز کا دعوی ٰہے

بطور مثال مرکز سے چھپنے والی ایک ضخیم کتاب کا نام ’’The Iranian experience Imamad and wilyalat ہے اس کتاب میں وہ شیعہ مسلک میں موجود تقلید و مرجعیت و فقاہت نیز شیعہ طرز حکومت پر تنقید کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ چیزیں ان کی قوت کا بھی مظہر ہیں ۔

بات صرف اس ایک مرکز کی نہیں بلکہ اس قسم کے سینکڑوں مراکز ہیں جو اس وقت مغربی ایشیا (مشرق وسطی)کے بحران کو لیکر مختلف زاویوں سے کام کررہے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں ایسے گروہ موجود ہیں جنہیں مخصوص فکری ،سیاسی و من پسند مذہبی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مختلف مسالک میں موجود سماجی و سیاسی قوت اور طاقت کے نقاط کو کمزور کرنے میں کردار ادا کریں ۔اسی سلسلے میں سعودی نیشنل سیکورٹی گارڈ زکی وزارت سے وابستہ اورمرحوم بادشاہ عبداللہ کا مشیر خاص کہ جسے مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کیخلاف بغاوت کا انجینئر بھی کہا جاتا ہے ۔

خالد التویجری نےولایت فقیہ اور شیعہ نظام تقلید کیخلاف کتاب لکھی اور بعض عرب قلم کاروں کے بقول اس کتاب کو لکھنے میں اسے برطانیہ اور یورپ میں بیٹھے کچھ شیعہ مسلک کے افراد نے مدد فراہم کی تھی ۔شائد یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ شیعہ اکابرین کے ہاں برطانوی شیعہ کی اصطلاح عام ہونے لگی اور اس سے مراد وہ شیعہ ہیں جو کھلے عام دوسرے مسالک کی مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور شیعہ اکثریت کی تعلیمات کے کچھ حصوں کی خاص تشریح رکھتے ہیں ۔

واضح رہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشمکش کےپیچھے مذہبی عنصر سے انکار ممکن نہیں جیسا کہ ہم اپنے گذشتہ مضمون میں واضح کرچکے ہیں لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ مذہبی عنصر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ حال ہی میں امریکی جریدہ The Trumpetمیں Jeremiah Jacquesکا چھپنے والا ایک مضمون کہ جس کا عنوان ہے جدید ڈپلومیسی ہے میں مضمون نگار نے چین اور روس کی بڑھتی دوستی کو انجیل کی ایک پیشن گوئی کی عملی شکل سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’روس اور چین کے درمیان اتحاد مقدس کتاب انجیل کی پیشن گوئی ہے ‘‘مضمون نگار کے مضمون نے تاریخ شواہد اور انجیل کی پیشن گوئیوں کو یکجا کرکے جو تجزیہ پیش کیا ہے ہم اپنے اگلے مضمون میں تفصیل سے گفتگو کرے گے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

The post (کچھ آس پاس کی باتیں3) appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2jq4wrL
via IFTTT

No comments:
Write komentar