لاہور (ویب ڈیسک) نواز لیگ کے میڈیا سیل اور ان کی اشتہاری ٹیم کی جانب سے یہ بیانیہ ترتیب دیا گیا ہے کہ جس طرح عام جلسوں میں میاں نواز شریف اور سوشل میڈیا کنونشن کے نام سے ہونے والے جلسوں میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا یا جا رہا ہے کہ
نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ نواز شریف کو اقامہ پر اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا ہے اسے مقبولیت مل رہی ہے تو صبر کیجئے کیونکہ۔۔ میاں نواز شریف، مریم صفدر اور کیپٹن صفدر سمیت حسن نواز او رحسین نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ اگلے تین سے چار ہفتوں تک متوقع ہے تو اس سے پہلے ہی دو قسم کے تاثرات پر فریب اور دلکش رنگوں سے مزین خبروں اور تبصروں سے ہر طرف اڑا ئے جا رہے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ واجد ضیا معافیاں مانگنا شروع ہو گیا ہے تو کہیں کہا جا رہا ہے کہ کچھ ثابت ہی نہیں کیا جا سکا؟۔ یہ کھیل اس لئے رچایا جا رہا ہے تاکہ ان کے خلاف فیصلہ آتے ہی لوگ کہنے لگیں کہ ” دیکھو جی واجد ضیا نے تو عدالت میں بیان دیا تھا کہ میاں نواز شریف کی لندن میں کوئی جائداد ہی نہیں پھر بھی انہیں سزا سنا دی گئی ہے‘‘ یہی تاثر کوئی تین چار ہفتے قبل بڑے پر اسرار طریقے سے کیلبری فونٹ کے بارے میں بار بار سنایا اور لکھا گیا۔۔۔۔گوئبلز اگر آج زندہ ہوتا اور مراعات یافتہ اس صحافتی گروہ کی خبروں اور تبصروں کو ایک بار پڑھ اور سن لیتا تو اسی وقت جاتی امراء اور وزیر اعظم ہائوس اسلام باد میں بیٹھے ہوئے مشیروں کو اپنا استاد مان لیتا۔۔۔
ہٹلر اگر زندہ ہوتا تو وہ فوری طور پر گوئبلز کی جگہ ان کو تعینات کر دیتا۔کوئی دن کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جب یہ مراعات یافتہ گروہ عدالت کے دیئے جانے والے کسی بھی ریمارکس کو اپنے ڈھب کے مطا بق توڑ مروڑ کر پیش نہ کر رہا ہو؟۔ جھوٹ اور پراپیگنڈا کا پاکستان میں معیار یہ ہے کہ80 فیصد لوگ بعد میں کی جانے والی کسی تردید کو نہیں دیکھتے بلکہ اسی پہلی ضرب کی شدت کو یاد رکھتے ہیں جو ان پر لگ چکی ہوتی ہے اور میاں نواز شریف کی سیا ست میں اب تک کامیابی میں اس قسم کی ضربوں کا ہمیشہ دخل رہا ہے ۔ احتساب عدالت کے اندر اور باہر میاں نواز شریف کے گرد آپ کو صحافیوں کا خاص گروہ پہلے سے تھمائے گئے مفہوم پر مبنی سوالات کے طے شدہ جوابات کو بریکنگ نیوز کی صورت میں اگلے چوبیس گھنٹوں تک دکھاتا رہتا ہے۔ میڈیا کا وہ کون سا فرد ہے جو اس بات کو نہیں جانتا کہ میاں نواز شریف کی عادت ہی نہیں کہ وہ میڈیا کے سوالات کا اکیلے سامنا کر سکیں۔ وہ ایک بھی تیز اور چبھتے ہوئے سوال کا جواب دینا تو دور کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔۔۔
کیا لاہور اور اسلام آباد کے میڈیا ورکر نہیں جانتے کہ کسی بھی پریس کانفرنس میں ان کی طبع نازک پر نا گوار گزرنے والا صرف ایک سوال ہی پوری پریس کانفرنس کا ماحول تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے؟۔ جس طرح وہ اپنا انٹرویو کرنے والے سے دو دن پہلے ہی اس کے سوالات کی کاپی منگوا لیتے ہیں اسی طرح ان کی پریس کانفرنس یا کسی بھی موقع پر دیئے جانے والے سوالات کی ریہرسل پہلے سے ہی کی جا چکی ہوتی ہے۔23 مارچ کی پریڈ کے موقع پر مدعو کئے گئے کچھ غیر ملکی معزز مہمانوں نے درخواست کی کہ اپنا بڑا ملزم خاندان سمیت ہمیں دے دیا جائے ہم آپ کو گارنٹی دیتے ہیں کہ وہ ” سیا ست‘‘ نہیں کرے گا لیکن اب تک کی اطلاعات کے مطا بق اس معزز مہمان سے انتہائی احترام کے ساتھ معذرت کر لی گئی ہے۔۔ نوٹ:۔قصور میں سولہ اپریل کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے نواز لیگی اراکین نے نکالے گئے مظاہرے کے دوران عدلیہ کے خلاف جو توہین آمیز زبان استعمال کی ہے اس کے ملزمان تو خواجہ آصف پر سیا سی پھینکنے والے سے اچھے نکلے۔ سیاہی والے کی ضمانت بیس دن بعد اور ساتھ وقفے وقفے سے تیس لتر اور اعلیٰ عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کو قصور پولیس کی جانب سے مٹن کڑاہیاں اور اگلی صبح ضمانتیں؟۔ کیا اس فرق پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نوٹس لیں گے۔(ش س م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2KuuIO8
via IFTTT

No comments:
Write komentar