لاہور (ویب ڈیسک) کشتی رانی کرتے ہوئے، شی جن پنگ نے مودی کو اور مودی نے، شی جن پنگ کو چائے بنابنا کر چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں پیش کی، گانا سن کر مودی کے چہرے پہ مسکراہٹیں بکھر گئیں، لیکن اچھا یہ ہوا کہ وہ جذباتی ہوکر بھی آپے سے باہر نہیں ہوئے شاید اِس لیے کہ
نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ اپنے ملک میں نہیں تھے۔ ایک بات جو مجھے یاد آئی کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی کی جو بات شروع کی تھی وہ بے محل اور مہمل نہیں تھی۔ میں تو صرف یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ آج کل گلوکار علی ظفر کا میشاشفیع کو ہراساں کرنے کا جو الزام ہے، میں کسی کی طرف داری کرنے پر تیار اِس لیے نہیں ہوں کہ شیطان حضرت آدم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام کو اگر بہکا سکتا ہے تو پھر وہ کسی کو بھی بہکا سکتا ہے، حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی اللہ سے دعا مانگنی پڑی تھی ۔سورة یوسف میں ارشاد ہے کہ ” زلیخا اُس کی طرف بڑھی (حالانکہ وہ اس وقت خاتون اول یعنی ملکہ وقت تھی)اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا ، اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا۔ور برہان کا مطلب ہے، کہ خدا کی سمجھائی ہوئی دلیل، اور دلیل یہ تھی کہ میرے رب نے مجھے یہ عزت اور منزلت بخشی اور میں یہ کام کروں، اب خدا جانے کہ کس وقت کس پہ ٹرمپ کی روح سرایت کر گئی تھی۔ مگر میرا تجربہ جوکہ مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے ہے، جب تک عورت کی مرضی شامل نہ ہو، تو کوئی مرد کا بچہ، چاہے ”آمروقت“ ہی کیوں نہ ہو، عورت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اپنی مرضی تو چار بیویاں ہونے کے باوجود بھی کسی پہ مسلط نہیں کی جاسکتی، آخر میں اپنا پرانا مو¿قف پھر دوہراتا ہوں کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کو چین کی دوستی پہ نہیں اترانا چاہیے، دونمبر کی چیزیں بنانے والا ملک، کیا پتا ہمارا ایک نمبر دوست ہے، یا دو نمبر، ہمارے تو کسی لیڈر کو اُس نے چائے بنا بنا کر کبھی نہیں پلوائی، نہ ہی نہر کے پل پہ بلایا ہے۔(ش س م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2FHjuCd
via IFTTT

No comments:
Write komentar