اقوام متحدہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں فوج کے ملوث ہونے کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے چھ اعلیٰ فوجی افسروں کے خلاف عالمی کریمنل کورٹ میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے۔ یہ انسانی تاریخ کی واحد مثال ہے کہ سینکڑوں سال سے نسل در نسل آباد روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی حکومت اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ میانمار حکومت نے 1982ء میں اراکان کے مسلمانوں کی شہریت یہ کہتے ہوئے منسوخ کردی تھی کہ ان برما سے کوئی تعلق نہیں اور چار سو برس پہلے مسلمانوں کے آبائو اجداد ہندوستان سے آ کر اس علاقے میں آباد ہوئے تھے۔ میانمار حکومت کے اس انوکھے فیصلے کی پوری دنیا مثال نہیں ملتی مسلمانوں سے نفرت اور تعصب کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ امتیازی سلوک کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو اپنی زمینوں پر بھی پکے مکان بنانے کی اجازت ہے اور نہ وہ دو سے زائد بچے پیدا کرسکتے ہیں۔ برمی فوج نے مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کوقطاروں میں کھڑے کر کے گولیاں ماری جاتی ہیں اور ان کے گائوں کے گائوں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیے جاتے ہیں۔
ہزاروں روہنگیا اپنی جان بچانے کی کوشش میں سمندر میں بھوک پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہوگئے توترکی کے بحری بیڑے نے کچھ لوگوں کو بچایا اور انہیں ترکی میں پناہ دی۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسلی کشی پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے احتجاج پر اقوام متحد ہ نے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کیں تو امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی میانمارکی صدر نے اسے داخلی معاملہ قرار دے کرعالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اب جبکہ اقوام متحدہ کی تحقیقات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی تصدیق ہو چکی ہے تو مناسب ہوگا کہ اس قتل عام کے مجرموں کے خلاف اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق عالمی جرائم کی عدالت میں مقدمہ چلا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تاکہ مستقبل میں برما اور بھارت میں مذہبی تعصب کی بنا پر قتل عام کو روکا جا سکے۔
The post میانمار میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی کی تصدیق appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2MZryWS
via IFTTT


No comments:
Write komentar