Technology

Ads

Most Popular

Friday, 5 October 2018

بنی گالہ اراضی کیس:وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کارروائی ۔۔۔ چیف جسٹس نے حکم جاری کر دیا

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف جسٹس ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ سی ڈی اے کو سب سے پہلا ایکشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف لینا چاہیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان درخواست گزار ہیں،ریگولر کرانے کے لیے پہلا قدم اٹھائیں، جس پر وزیر اعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ بنی گالا کا گھر ریگولر کرانے کے لیے سی ڈی اے کے پاس جائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپکی ملکیت تو بالکل ٹھیک ہےلیکن کسی ادارے سے آپ کا نقشہ منظور نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا کہ سی ڈی اے کے پاس آپ کیا لے کر جائیں گے؟ کیا وہ دستاویزات لے کر جائیں گے جن میں نقشے کا کوئی ثبوت نہیں ؟، سی ڈی اے کو سب سے پہلا ایکشن وزیراعظم کے خلاف لینا چاہیے۔ بابر اعان نے عدالت میں کہا کہ 15 دن کے اندرعمران خان اپنا جواب جمع کرا دیں گے۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان کو مخالطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا جواب جمع کرائیں گے وہ ہی مبہم سا نقشہ جمع کروائیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق سروے آف پاکستان کی رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کیں ان سے جرمانے لیے جائیں، حکومت اپنے جرمانے بھی ادا کرے اور دوسرے لوگوں سے بھی لے، گھر ریگولرائز کرانے کے لئے سب سے پہلے عمران خان کوفیس ادا کرنا ہوگی۔

جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ آفپاکستان نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معاملے پر کمیشن قائم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی زیر صدارت تین رکنی بنچ نے از خود نوٹس پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے معاملے پر تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کردیا۔کمیشن ہائیکورٹ کے سینئیر جج کی سربراہی میں کام کرے گا۔ سپریم کورٹ نے کمیشن کی مدت میعاد 4 ہفتوں سے بڑھا کر 46 ہفتے کر دی۔ آرمی پبلک اسکول پشاورحملہ کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا کمیشن چھ ہفتوں میں رپورٹ دے گا۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سانحہ کی تحقیقات کے علاوہ لواحقین کے خدشات اور ان کی داد رسی بھی کی جائے۔ انہوں نے سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں کی ماؤں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بہنوں سے معافی چاہتا ہوں۔ زبانی حکم تو دیا لیکن فائل پر آرڈر نہیں کر سکا۔۔پشاور سماعت کے موقع پر بنچ ٹوٹ جانےسے ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کےدُکھ میں برابر کے شریک ہیں، انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مجھ سے جو ہو سکا میں کروں گا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل ادھوری رہ گئی تھی میں اس پر شرمندہ ہوں۔ شہدا کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں اصل مجرمان نہیں پکڑے گئے ۔ متاثرین کو عدالت آنا پڑا اس پر بھی شرمندہ ہوں۔ لواحقین نے کا کہ ہم سانحہ کے شہدا کے لیے ہر ماہ قرآن خوانی کرواتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں 16 اکتوبر کو آرمی پبلک اسکول کا دورہ کروں گا۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Rv1HFs
via IFTTT

No comments:
Write komentar