جتنے منہ اتنی باتیں!!!
جتنے منہ اتنی باتیں!!!
The post جتنے منہ اتنی باتیں!!! appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2R6xWxB
via IFTTT
جتنے منہ اتنی باتیں!!!
The post جتنے منہ اتنی باتیں!!! appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
ڈونلڈ ٹرمپ متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے 45 ویں صدر
The post ڈونلڈ ٹرمپ متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے 45 ویں صدر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)اسٹریٹجک امور کی ایک روسی ماہر نے کہا ہے کہ ایران اورروس کے خلاف امریکہ کے بڑھتے دباؤ اور پابندیوں کا بھرپور جواب دینے کیلئے تہران اورماسکو کے درمیان تعاون میں مزید فروغ کی ضرورت ہے۔ ’’ارانا فیوڈوروا ‘‘نےکہاکہ ایران اورروس کے خلاف امریکہ کے بڑھتے دباؤ اور پابندیوں کا بھرپور جواب دینے کیلئے تہران اورماسکو کے درمیان تعاون میں مزید فروغ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران اورروس کے خلاف امریکی اقدامات میں اضافہ ہورہا ہے اس لئے ان حالات میں تہران اورماسکو کے درمیان آپسی تال میل کو مزید بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فروغ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پورے ایشیا کی صورتحال مستحکم ہوگی۔
تجزیہ نگار نے کہاکہ تہران اورماسکو کو مقامی کرنسیوں میں تجارت فوری طورپر شروع کرنی چاہئے تاکہ امریکہ کی طرف سے دونوں ممالک پر ڈالے جانے والے اقتصادی دباؤ کے اثر کو کم کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں امریکی ڈالر کو ترک کرکے مقامی کرنسیوں کا استعمال مثبت پیشرفت ثابت ہوگی۔
The post روس ایران تعلقات مشرق وسطیٰ کے امن واستحکام کی ضمانت ہیں:اسٹریٹجک امور کی روسی ماہر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے متحارب گروہوں کے مابین سویڈن میں ہونے والی جنگ بندی کا آج آدھی رات سے آغاز ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس نے منگل کی صبح سویرے جنگ بندی پر باضابطہ طور پر عمل درآمد ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تشکیل پانے والی کمیٹی نے نگرانی کا اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
جنگ بندی کا آدھی رات سے آغاز ایسے میں ہوا ہے کہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے پیر کی رات بھی تین مرتبہ الحدیدہ کے علاقے الضحی پر حملے کئے۔یمن کی اعلی انقلابی کونسل کے صدر محمد علی الحوثی نے الحدیدہ میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔الحدیدہ بندرگاہ یمن کیلئے انسانی ہمدردی کے ناطے بھیجے جانے والے سامان کا اہم ترین ذریعہ شمار ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں سویڈن میں یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان الحدیدہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا تھا۔یہ مذاکرات چھے دسمبر کو یمنی فریقوں کے درمیان یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس کی صدارت میں سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں شروع ہوئے تھے اور تیرہ دسمبر کو الحدیدہ میں فائربندی کے بارے میں ہونے والے سمجھوتے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔
اس سے قبل یمن کے امن مذاکرات سعودی عرب کی خلاف ورزیوں کی بنا پر بارہا شکست سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب میں واقع فوجی ٹھکانوں کو اپنے چار زلزال ایک میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں سعودی فوج کو بھاری نقصان پہنچا۔
المیادین کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں واقع الخوبہ نامی علاقے میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جس میں کئی سعودی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں واقع قیس نامی علاقے کی پہاڑیوں میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی طرح عسیر اور صعدہ کے درمیان واقع علب سرحدی گذرگاہ کے قریب جارح سعودی اتحاد کا حملہ بھی پسپا کر دیا۔
یمنی فوج کے ترجمان یحیی السریع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے گذشتہ اڑتالیس گھنٹے کے دوران مغربی یمن میں واقع الحدیدہ سمیت یمن کے مختلف علاقوں پر اناسی بار بمباری کی۔
The post یمن :الحدیدہ میں جنگ بندی پر عمل در آمد شروع appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ صوبے ادلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانا دمشق کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ادلب کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنا اہم ترجیح ہے اور دمشق اس صوبے کو بھی مکمل طور پر آزاد کرائے گا۔
ولید المعلم نے شام کی آئینی کمیٹی کی کارروائی کے بارے میں کہا کہ ابھی کام کا آغاز جلد بازی ہو گی۔ انھو ں نے اسی طرح اس کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کو بھی بعض مغربی ملکوں کی مداخلت اور ان مسائل کا نتیجہ قرار دیا جو ترکی نے اس راہ میں پیدا کئے ہیں۔
شام کے وزیر خارجہ نے ادلب کے بارے میں سوچی سمجھوتے کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور دہشت گردوں نے اب تک اس سمجھوتے پر عمل نہیں کیا ہے۔واضح ر ہے کہ شام میں ادلب دہشت گردوں کا آخری گڑھ شمار ہوتا ہے۔
The post ادلب کی مکمل آزادی ہماری پہلی ترجیح ہے، شامی وزیر خارجہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)شام کے امور میں امریکہ کے نمائندے نے شام کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے میں دہشت گردوں کی ناکامی کے سات برس بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ اب شام میں اس ملک کے صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کا خواہاں نہیں ہے۔
جیفری جیمز نے اٹلانٹک تھنک ٹینک میں امریکہ کی پالیسی میں اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شام میں بشار اسد کی حکومت جب تک بنیادی تبدیلی نہیں لائے گی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک تعمیرنو کے عمل میں شام کی مالی مدد و حمایت نہیں کریں گے۔امریکی نمائندے نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بے بنیاد دعوی کرتے ہوئے شام سے ایرانی فوجی مشیروں کے انخلا کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ شام میں اس کے فوجی مشیروں کی موجودگی اس ملک کی حکومت کی باضابطہ درخواست کی بنیاد پر ہے جبکہ دہشت گردوں کی حمایت کر کے شام میں امریکہ و اسرائیل کو اب تک کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے اور اسی بنا پر انھیں ایران کے فوجی مشیروں کی شام میں موجودگی ناگوار لگ رہی ہے۔
واضح رہے کہ علاقے میں صیہونی حکومت کے مفاد میں صورت حال تبدیل کرنے کے لئے شام میں دہشت گردوں کے ذریعے حکومت تبدیل کرانے کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوشش شکست سے دوچار ہو گئی ہے۔
The post امریکہ شامی صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کا خواہاں نہیں ہے، جیفری جیمز appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ آئی این ایف معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کی صورت میں ان کا ملک اپنے دفاع کے لئے پوری طرح آمادہ ہے۔ اپنے ایک بیان میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیر فورس ٹریٹی سے نکل گیا تو ماسکو اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے لازمی اقدامات عمل میں لائے گا۔
صدر ولادیمیر پوتن نے مزید کہا کہ آئندہ سال کے دوران ملک کی جوہری طاقت میں اضافہ کرنا روسی افواج کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی معاہدوں سے امریکہ کو باہر نکالنے کی پالیسی کے تحت بیس اکتوبر کو کسی ثبوت وشواہد کے بغیر روس پر آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ اور سابق سویت یونین نے سن انیس سو ستاسی میں درمیانی فاصلے سے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں میں کمی کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ اور روس دونوں کو یورپ میں درمیانی فاصلے سے مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تنصیب سے منع کیا گیا ہے۔
The post امریکہ کے مقابلے میں اپنے بھرپور دفاع کے لیے تیار ہیں، ولادیمیر پوتن appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں اپنی خواہشات و نظریات کی تکمیل کے لئے امریکی کانگریس کے اراکین کی آرا کی تبدیلی اور ان پر اثرانداز ہونے کی ہرممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔ البتہ نومبر کے انتخابات میں کانگریس میں جب سے ڈیموکریٹ اراکین کی اکثریت ہوئی ہے ریپبلکن صدر ٹرمپ کے لئے کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی کانگریس سے ٹرمپ کی ایک اپیل، میکسیکو سے ملنے والی سرحد پر حائل دیوار کی تعمیر کے لئے پانچ ارب ڈالر کا بجٹ منظور کرنے کے بارے میں تھی۔ البتہ یہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کے دائرے میں انجام پا رہا ہے اس لئے کہ ٹرمپ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا داخلہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ٹرمپ اور ڈیموکریٹ اراکین کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی کے دوران جو حقیقت میں فریقین کے لئے سیاسی آزمائش کی مانند ہے، ڈیموکریٹ اراکین نے میکسیکو کی سرحد پر حائل تعمیر کی تعمیر سے متعلق ٹرمپ کی خواہش کے مطابق پانچ ارب ڈالر کا بجٹ منظور کرنے سے گریز کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ڈیموکریٹ اراکین نے حکومتی شٹ ڈاؤن سے متعلق ٹرمپ کی دھمکی پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ حکومتی اخراجات کا بجٹ منظور نہ کئے جانے سے جمعے کے روز سے بعض وفاقی ادارے بند ہو جائیں گے، سینیٹ کے اقلیتی ڈیموکریٹ دھڑے کے رہنما چک شومر نے پیر کے روز امریکی صدر ٹرمپ یا ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں سے حکومتی اداروں کو بند ہونے سے روکنے کے لئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
شومر نے کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کو بند ہونے سے روکنے کے طریقہ کار کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ یا ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں سے کسی بھی طرح کے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں یہاں تک کہ ریپبلکن سینیٹر تک اس بات کو نہیں جانتے کہ امریکی صدر ٹرمپ کرنا کیا چاہتے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ڈیموکریٹ رہنماؤں سے گفتگو میں دھمکی دی تھی کہ ضرورت پڑنے پر وہ میکسیکو کی سرحد پر حائل دیوار کی تعمیر کے بجٹ کی فراہمی کے لئے حکومتی شٹ ڈاؤن کر سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ ڈیموکریٹ اراکین کے مذاکراتی موقف کی بھی تقویت کا باعث بنا ہے اس لئے کہ امریکی عوام بھی اس بات کو دیکھ اور سمجھ رہے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی بات کو اوپر رکھنے کے لئے کس طرح سے قومی مفادات اور یہاں تک کہ امریکی عوام کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ حکومتی شٹ ڈاؤن تک کے لئے آمادہ ہیں۔
The post ٹرمپ اور ڈیموکریٹ اراکین میں محاذ آرائی جاری، حکومتی شٹ ڈاؤن کا امکان appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر انٹیلی جینس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے امریکہ کے تعاون سے خطے میں دہشت گرد گروہوں کو منظم کر رہے ہیں۔ایرانی پارلیمینٹ مجلس شورائے اسلامی میں بیان دیتے ہوئے وزیر انٹیلی جینس سید محمود علوی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دہشت گردوں کو ٹریننگ سینٹر بھی بنا کر دیئے ہیں اور وہ اسلحے بھی فراہم کر رہا ہے۔
ایران کے وزیر انٹیلی جینس نے بتایا کہ دہشت گردوں کو اسلحہ چلانے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جینس تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ کس طرح سے کسی ملک کے خفیہ اداروں کی نظروں سے خود کو بچا سکتے ہیں۔
سید محمود علوی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر بتایا کہ بعض پڑوسی ملکوں حتی دور دراز کے ملکوں کے خفیہ ادارے بھی ایران کے خلاف سرگرم ہیں اور دہشت گرد گروہوں کی مالی حمایت کے علاوہ انہیں تربیت اور اسلحہ بھی فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی وزارت انٹیلی جینس نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کرلی ہے اور ہم کسی کو بھی اپنی سلامتی میں رخنہ اندازی کی اجازت نہیں دیں گے۔
The post امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کو منظم کر رہے ہیں، ایرانی وزیر انٹیلی جینس appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ آصف زرداری، شہباز شریف یا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ عمران خان کی حکومت تو خود گر رہی ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں عمران خان کی حکومت کو گرانے کی کیا ضرورت ہے، آصف زرداری، شہباز شریف یا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں یہ تو خود گر رہا ہے، ان کے پاس آج بھی جو اکثریت ہے وہ اپنی نہیں ہے، بی این پی مینگل، ایم کیو ایم، باپ، دو تین جماعتیں ہیں جن کی اکثریت ہے، ہم تو چاہتے ہیں نظام چلے، مڈ ٹرم الیکشن ہوتا ہے تو یہ دوبارہ آنے کا بھی نہ سوچیں، مڈ ٹرم ہوئے تو کیا یہ 2013 والی 35 سیٹیں بھی لے پائیں گے، ابھی کراچی سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی 11 سیٹیں چھینی وہ نہیں ملیں گی۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کو کھڑا کرنے سے انہیں 30 کے قریب زائد نشستیں ملیں، جو اب ان سے ناراض ہے، ہمارے کچھ اداروں نے 30 ،35 اچھے لوگ پکڑ کر دیے تھے وہ الیکٹ ایبلز ناراض ہیں، ان کی پارٹی کے اپنے لوگ ناراض ہو چکے ہیں۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ کابینہ ایسی تنظیموں سے ملاقاتیں کر رہی ہے جو شک کے دائرے میں ہیں، مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور یہ اپنی غلطیوں کو چھپا رہے ہیں، ہم نیب قانون میں ترمیم سمیت ہر اس چیز کے لیے تیار ہیں جس سے پاکستان بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں دو دفعہ بجٹ لے آئے اور اب تیسرے کی تیاری ہے، 12-2011 میں دنیا میں تیل قیمت 110 ڈالر فی بیرل اور ملک میں 94 روپے لیٹر تھی، آج دنیا میں تیل 60 ڈالر فی بیرل اور ملک میں 114 روپے لیٹر ہے، انہیں صرف تیل سے اربوں روپے اضافی مل رہے ہیں۔
The post زرداری اور شہباز کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں عمران خان خود گر رہے ہیں، خورشید شاہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بالی ووڈ کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے اںڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بدتمیز کھلاڑی ہیں۔انڈین میڈیا کے مطابق نصیر الدین شاہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر کپتان ویرات کوہلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ”ویرات کوہلی نا صرف دنیا کے سب سے بہترین بلے باز ہیں بلکہ سب سے بدتمیز کھلاڑی بھی ہیں۔ کرکٹ کی ان کی قابلیت ان کے غرور اور برے رویہ کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہے اور میرا ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنی پوسٹ کے ذریعہ ویرات کوہلی کے اس بیان پر ردعمل دیا جس میں انہوں نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پسند کرنے والے مداحوں کو ملک چھوڑ کر چلے جانے کیلئے کہا تھا۔ کوہلی نے ایک پروموشنل پروگرام کے دوران ایک مداح کے تبصرے پر یہ بیان دیا تھا۔
اس پوسٹ نے سوشل میڈیا صارفین کی کافی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے، کچھ لوگوں نے اس پوسٹ کی حمایت جبکہ کچھ نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ کچھ صارفین یوزرس نے ویرات کوہلی کو بدتمیز کہنے پر نصیر الدین شاہ کو آرے ہاتھوں لیا جبکہ کچھ نے کوہلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کو شکست سینے کیلئے اس طرح کے جارحانہ رویہ کی ضرورت ہے۔ ان میں سے متعدد صارفین ایسے بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ کوہلی کئی مرتبہ حد پار کر چکے ہیں۔
The post ’ویرات کوہلی دنیا کے سب سے بدتمیز کھلاڑی ‘ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کر دی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غور نے واضح کیا ہے کہ گولیوں سے بہادر حریت پسندوں کو نہیں دبایا جاسکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، کنٹرول لائن پر غیر اخلاقی طور پر معصوم کشمیریوں کو ہدف کا نشانہ بنانا قابل مذمت اقدام ہے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ گولیاں کبھی بھی آزادی کے لیے لڑنے والے غیرمسلح بہادر جنگجوؤں کو نہیں روک سکتیں، بھارت کی مسلح افواج پیشہ ورانہ فوج کے طور پر اخلاقیات کا مظاہرہ کریں۔آئی ایس پی آر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر ترانہ بھی جاری کر دیا ہے۔
The post نہتے کشمیریوں کوظلم و ستم سے نہیں دبایا جاسکتا، ترجمان پاک فوج appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وزیر قانون پنجاب اور ایم ایس بینظیر بھٹو ہسپتال کی ٹیلیفون گفتگو کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے اسیر رہنما حنیف عباسی کی صاحبزادی کے تبادلے معاملے پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور بینظیر بھٹو ہسپتال کے ایم ایس کے درمیان ہونے والی گفتگو کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت عامر کیانی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ادھر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر عمر کو رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یاسمین راشد نے محکمہ صحت کے سٹاف سے کہا کہ سیاسی مداخلت پر براہ راست مجھے رپورٹ کی جائے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی بیٹی ڈاکٹر اربیہ کے بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے دوسرے شعبے میں تبادلے کے حوالے سے آڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر آنے والی ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت ایم ایس بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ڈاکٹر طارق نیازی کو ٹیلیفون کر کے لیگی رہنما حنیف عباسی کی بیٹی ڈاکٹر اریبہ کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سے واپس سکن ڈپارٹمنٹ میں ٹرانسفر ی ہدایت دیتے ہیں۔
گفتگو میں ڈاکٹر طارق یہ بھی موقف اختیار کر رہے ہیں کہ چاہے اُن کا تبادلہ کر دیا جائے، وہ ڈاکٹر اریبہ کا ٹرانسفر نہیں کریں گے۔ ایم ایس کے اس موقف پر راجہ بشارت غصے میں آ گئے اور دھمکی دی کہ اگلے دن ایم ایس اس اسپتال میں نہیں ہوں گے۔نجی چینل کے رابطہ کرنے پر راجہ بشارت نے آڈیو کی تردید کی نہ تصدیق، انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔
The post راجہ بشارت، ایم ایس ٹیلیفونک کال معاملہ، وزیراعظم نے نوٹس لے لیا appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں گدھوں کی تعداد روز بروز بڑھنا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد صرف لاہور شہر میں گدھوں کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکومت نے گدھوں کی بہتر صحت کیلئے ڈونکی اسپتال قائم کر دیا جہاں نہ صرف بیمار گدھوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات بھی دی جا رہی ہیں۔
انسان اور گدھے کا ساتھ تو صدیوں پرانا ہے مگر لاہور میں گدھوں کا کاروبار اچانک چمک اٹھنے سے گدھے پالنے والے بھی خوش ہیں۔گدھوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ گدھا پال اسکیم منافع بخش ہے، 35 سے 55 ہزار روپے تک کا گدھا روزانہ 800 سے ایک ہزار روپے تک کمائی کر کے دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گدھا چار سال کی عمر میں کماؤ بن جاتا ہے اور 12 سال تک مالک کیلئے روزگار کا ذریعہ بنا رہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک ہے جب کہ اس فہرست میں ایتھوپیا پہلے اور چین دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
The post پاکستان، گدھوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میںتیسرا بڑا ملک بن گیا appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے تحریک انصاف کی حکومت کو ملک چلانے کے لیے نااہل قرار دےد یا۔مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نوازشریف اور پارٹی صدر شہبازشریف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ازسرِ نو تنظیم سازی سے متعلق امور پر غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں 30 دسمبر سے عوامی رابطہ مہم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ نیب کا پردہ عوام کے سامنے چاک ہوچکا ہے، اب عوام کی آواز پر کان دھرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ملک کو سنبھالنے کی اہلیت نہیں، اس وقت سب سے بڑا چیلنج معیشت کا ہے، موجودہ حکومت نے 100 روز میں ہی معیشت کا برا حال کردیا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو کارکنان سے روابط بڑھانے اور انہیں فعال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
The post موجودہ حکومت ملک سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتی: نوازشریف appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کامیابی کا راز ہے کہ غلطیوں سے سیکھا جائے۔اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی تقریب سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد جلسوں کو یاد کرتا ہوں اور آج پنڈال بھرا ہوا اچھا لگ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام سے ملک ترقی کرتا ہے، تاجروں کو سہولیات دینے کیلئے کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات 24 ارب ڈالرز کے قریب ہیں، ہمیں اپنے ذہنوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت سے خوشحالی آئے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا کوئی بزنس ہے نہ ہی کوئی انڈسٹری لیکن کاروباری طبقے اور برآمدکنندگان کی ہر ممکن مدد کریں گے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راز ہے کہ غلطیوں سے سیکھا جائے اور پاکستان میں اب تک جو غلطیاں ہوئیں اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو بہتر بنانا ہے جب کہ ماضی میں برآمدات اور تجارت کیلئے سوچا ہی نہیں گیا۔
The post غلطیوں سے سیکھنا ہی کامیابی کاراز ہے،وزیراعظم appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری خوں ریزی کے خاتمے کو پاکستان اور چین واضح اسباب کی بناء پراپنے قومی مفادکا معاملہ سمجھتے ہیں۔یہ دونوں ملک افغانستان کے ایسے پڑوسی ہیں جو سی پیک جیسے انقلابی منصوبے کے ذریعے پورے خطے کیلئے امن واستحکام کیلئے کوشاں ہیں ۔ اپنے مفادات کیلئے دوسرے ملکوں پر سیاسی غلبے اور ان کے وسائل پر تسلط کی سامراجی فکر کے بجائے چینی قیادت نے ترقی کے سفر میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا انقلابی تصور متعارف کرایا ہے اور اس کے فروغ میں پاکستان چین کے شانہ بشانہ سرگرم عمل ہے۔ افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ روز چین، پاکستان اورافغانستان کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات اور ان میں انسداد دہشت گردی اور دیگر امور میں ہمسایوں کے مابین تعاون بڑھانے کی خاطر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط تینوں ملکوں کی قیادتوں کی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سہ فریقی مذاکرات کا یہ سلسلہ گزشتہ سال چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بات چیت کے پہلے دور کے انعقاد سے شروع ہوا تھا۔ کابل مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرس میں ترقی و استحکام کیلئے مشترکہ حکمت عملی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ افغانستان کا استحکام پاکستان کی مضبوطی کیلئے ناگزیر ہے
۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان شروع ہی سے متحارب افغان قوتوں کے درمیان بات چیت کوقیام امن کا واحد طریقہ سمجھتا ہے اور اب وہ لوگ بھی اس کے قائل ہوگئے ہیں جو عسکری حل کے سوا کسی بات پر غور کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سازگار ماحول بنانے کیلئے تعاون کرنا ہے جبکہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کریں گے، چین پاکستان اور افغانستان کو سرحد کے دونوں جانب پینے کے پانی اور اسٹرکچر بنانے نیز پشاور،کابل اور قندھار کے درمیان ریلوے لائن بچھانے میں مدد کرے گا۔اس موقع پر افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ کہتا رہا کہ وہ افغانستان کی حمایت کرتا ہے، اب موقع ہے کہ اس بارے میں عملی اقدامات کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سدا بہار دوست اور اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، ہم ایسا ہمسایہ ملک ہیں جسے جدا نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے دوست کی حیثیت سے پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے اعتماد سازی کیلئے کردار ادا کر رہا ہے۔آج کے مذاکرات کا مقصد بھی یہی تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو قریب لایا جائے۔افغان وزیر خارجہ نے طالبان کو امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سال افغانستان کی آزادی کو سو سال ہوجائیں گے اوراس موقع پر افغان عوام کو سب سے بہتر تحفہ امن کا دیا جاسکتا ہے۔
تینوں وزرائے خارجہ کے اظہار خیال سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہے کہ افغان امن کی کلید بہتر پاک افغان تعلقات ہیں۔ اس مقصد کیلئے چین کی کوششیں لائق ستائش ہیں۔ چین دونوں بردار مسلم ملکوں کا ایسا ہمسایہ اور علاقائی و عالمی طاقت ہے جس کا اپنا مفاد خطے کے امن اور استحکام سے وابستہ ہے۔ افغانستان چین اور پاکستان سے تعلقات مستحکم کرکے یقینی طور پر اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کرسکتا ہے۔ طالبان کیلئے بھی چین کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد ضامن کا کردار ادا کرسکتا ہے اور امریکہ بھی ان سہ فریقی کوششوں کی حمایت کرکے افغانستان کی دلدل سے نکلنے کا راستہ پاسکتا ہے ۔ تاہم سہ فریقی مذاکرات کی شکل میں کابل میں ہونے والی خوش آئند پیش رفت کی کامیابی کیلئے سب سے زیادہ ضروری افغانستان اور پاکستان کے درمیان بدگمانیوں کا خاتمہ ہے جس کیلئے دونوں ملکوں کو وہ تمام اقدامات کرنا ہوں گے جن کی نشان دہی مذاکرات میں کی گئی ہے۔بشکریہ جنگ نیوز
The post پاک افغان چین مذاکرات:خوش آئند پیش رفت appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

(عارف نظامی)
ریاستی مشینری کی طرف سے شریف فیملی بالخصوص اور مسلم لیگ(ن) کی لیڈر شپ کے خلاف بالعموم کریک ڈاؤن کا دائرہ وسیع ہوتاجا رہا ہے۔ منگل کو ہونے والی کارروائیوں سے لگتا تھا کہ یہ دن ن لیگ کے لیے ڈراؤنا خواب تھا ،اسی روز پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں مسلم لیگ(ن) کے روح رواں اور رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور برادرخورد خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد انھیں احاطہ عدالت سے نیب نے گرفتار کر لیا۔ اسی روز علی الصبح قطر کے راستے لندن جانے والی فلائٹ سے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کو اتار لیا گیا۔ اس پر مستزادیہ کہ مریم اورنگزیب جو مسلم لیگ(ن) کی مرکزی ترجمان بھی ہیں اور میڈیا پر ہرروز تحریک انصاف کی حکومت پر تابڑ توڑ حملے کرتی رہتی ہیں، ان کے خلاف بھی ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر نیب نے کارروائی شروع کردی ہے۔ ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے ، سرکاری فنڈسے ن لیگ کی اشتہاری مہم چلانے اور دیگر الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے نواز شریف،مریم صفدر اور کیپٹن(ر)صفدر جیل کی یاترا کر کے آئے ہیں،اسحاق ڈار مفرور اور رانا ثناء اللہ کا نام ماڈل ٹاؤن سانحہ میں لیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ خواجہ آصف پر منی لانڈرنگ اور احسن اقبال پر نارووال میں سٹیڈیم کی تعمیر میں مبینہ خورد برد کے الزامات ہیں۔میاں شہباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلمان شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا سامنا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ کے داماد علی عمران یوسف پنجاب پاور کمپنی میں مبینہ طور پر کک بیک لینے کے کیس میں بیرون ملک مفرور ہیں۔
دوسری طرف سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین اور پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے پریس کانفرنس میں یہ گلہ کیا ہے کہ بلاول بھٹو ایک جلسہ کرتے ہیں تو اڑٹالیس گھنٹے میں نیب کا نوٹس آجاتا ہے، ہمارا جتنا مرضی احتساب کریں پیپلزپارٹی نہیں جھکے گی۔ دوماہ سے زائد عرصہ سے زیر حراست میاں شہباز شریف نیب کی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اس حد تک چلے گئے کہ ملک میں سویلین آمریت نافذ ہے، ان کے مطابق احتساب کے نام پر چیرہ دستیاں ہو رہی ہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی میں بھی احتساب کے حوالے سے دھواں دھار تقریریں ہوئیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے اپنی تقریروں میں احتساب کو یکطرفہ اور انتقام کا شاخسانہ قراردیا، نوید قمر نے کہا کہ گرفتاریاں جاری رہیں تو اجلاس اڈیالہ جیل میں نہ بلانا پڑے۔ وزیراطلاعات فواد چودھری، وزیر تعلیم شفقت محمود اور دیگر حکومتی ارکان کاکہنا ہے کہ اب جبکہ احتساب ہو رہا ہے تواپوزیشن کو تکلیف ہو رہی ہے۔ شفقت محمود نے بجا طور پر کہا کہ نیب کا چیئرمین پیپلزپارٹی اور اس وقت حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے مل کر بنایا تھا کیونکہ میاں نوازشریف کا خیال تھا کہ یہ ان کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ لیکن شاہد خاقان عباسی نے درست نکتہ اٹھایا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق چیئرمین نیب کی تقرری پر ہوا تھا، ہم تو نیب کی بطور ادارہ بات کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کو متنبہ کیا کہ اس قسم کے ہتھکنڈے بالآخر ناکام ہو جاتے ہیںاور انھیں استعمال کرنے والوں کو آخرکار لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ یقینا اس وقت سابق حکمران جماعت کواس تلخ حقیقت کامکمل ادراک ہو گیا ہو گا۔
دوسری طرف چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک اور کیس کے حوالے سے کہا ہے کہ نیب حد سے نکل رہا ہے، یہ لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں، شرم نہیں آتی۔ فواد چودھری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت نیب قوانین میں تبدیلی کے لیے اپوزیشن سے بات چیت کر رہی ہے اور ایک کمیٹی بھی کام کر رہی ہے۔ یقینا اس ضمن میں دورائے نہیں ہو سکتیں کہ سیاستدانوں سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے لیکن ایسا احتساب جو شفاف اور بلاامتیاز ہو تب ہی اس کی کریڈبیلٹی ہوتی ہے۔ اس وقت یہ تاثر جاگزیں کر گیا ہے کہ نام نہاد احتساب کا نشانہ صرف اپوزیشن ہے۔ اس بات میں بھی کسی حد تک صداقت ہے جب میاںنوازشریف کے دور حکومت میں آصف زرداری کے دست راست ڈاکٹر عاصم حسین کی اربوں روپے کی مبینہ نام نہاد کرپشن کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور انھیں قید میں ڈالا گیا تو میاں نوازشریف نے چپ کا روزہ رکھ لیا بعدازاں میاں صاحب نے وہی استدلال پیش کیا جو آج کل تحریک انصاف کی حکومت پیش کر رہی ہے کہ ان کا زرداری صاحب کے حواریوں کے خلاف نیب کی کارروائیوں کا کوئی تعلق نہیں۔ آج تحریک انصاف کے کارپردازان بھی یہی کہتے ہیں ہم نے کسی کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی اور کوئی کیس ہمارا بنایا ہوا نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ آمر مطلق جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں نوازشریف کا تختہ الٹنے کے بعد نیب کا قانون بنایا تھا، جیسا کہ پاکستان میں رواج ہو چکا ہے کہ ہر طالع آزما اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اپنے ڈھب کا سویلین سیٹ اپ لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی انداز فکر کے تحت نیب تشکیل دیا گیا۔ اسی متنازعہ قانون کے تحت نیب کو بے محابہ اختیارات دے دیئے گئے جن کے تحت کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے تین ماہ کے لیے کسی اپیل اور دلیل کے بغیر بند کیا جا سکتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اس قسم کے حربوں کے ذریعے نیب کی مدد سے مسلم لیگ(ن) کے اندر سے مسلم لیگ(ق) بنائی اور فیصل صالح حیات اور راؤسکندر اقبال اینڈ کمپنی کے ذریعے پیپلزپارٹی میں نقب لگائی اور پیٹریاٹس بنائے۔
اس کے باوجود 2002ء کے عام انتخابات میں لوٹوں کی اس نئی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔یہ بات درست ہے کہ ایسے حربوں سے کوئی دیرپا سیاسی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے آج پیٹریاٹس کانام و نشان بھی مٹ چکا ہے جبکہ مسلم لیگ(ق) محض چودھری برادران کے گھر تک محدود کر رہ گئی ہے۔ اب بھی جیسا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ لوگ جو حکمران جماعت میں ہیں یا اس کے حواری ہیں اور جن میں سے بہت سے نیب کے ریڈار پر بھی ہیں کے ساتھ بڑاشریفانہ سلوک کیا جا رہاہے اور وہ دھونس اور تحریص کے حربے جو اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں ان کے خلاف استعمال نہیں ہوتے۔ کریشن کے نام پر انتقامی کارروائیاں ایک سویلین حکومت کے دور میں ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف کے دوسرے دور کے نام نہاد احتساب بیورو نے بھی سیف الرحمان کی سربراہی میں احتساب کے نام پر مخالفین کو نشانہ بنایا تھا۔ ستم ظریفی ہے حکومت کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا ان کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں تو کیا فرشتے یہ سب کچھ کروا رہے ہیں۔
عمران خان توالٹی بات کہتے ہیں کہ ان کو نیب سے گلہ ہے کہ وہ بڑی نا اہل ثابت ہو رہی ہے، ان کے مطابق تو کم از کم پچاس افراد جیلوں میں ہونے چاہئیں تھے۔ اس صورتحال کی بنا پر کاروبار مملکت رکا ہواہے۔ اسمبلی میں دنگافساد اور لاحاصل بحث ومباحثہ کے سوا قانو ن سازی کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ۔ فواد چودھری کا دعویٰ ہے کہ حکومت کوکسی سیا سی چیلنج کاسامنا نہیں ہے البتہ گورننس اور اکانومی کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں۔ ان کے مطابق نوازشریف اور آصف زرداری کی جگہ جیل یا گھر بیٹھناہے کیونکہ ان کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ اس بات کا فیصلہ پاکستان کے عوام اور عدالتیں ہی کر سکتی ہیں لیکن موجودہ حکومت اگر واقعی گورننس کے جھنڈے گاڑنا چاہتی ہے تو اسے اسی اپوزیشن جسے وہ چورا ور ڈاکو قرار دیتی ہے کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ تلاش کرنا پڑے گا اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر بلاامتیاز احتساب کے لیے قانون بنانا پڑے گا۔ بالآخرقائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنانا اس سمت پہلا قدم ہے۔ بشکریہ 92 نیوز
The post نیب کا جادو؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.

چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے خلیجی ریاست سلطنت اومان کا دورہ کیا اور اومانی فرمانروا سلطان سعید بن قابوس سے ملاقات کی۔ اس واقعے کے بعد ایسے لگ رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے لیے عرب اور مسلمان ممالک کے دارالحکومتوں کا اعلانیہ دورے کا در کھل گیا ہے۔ اگرچہ عرب اور مسلمان ممالک کے عوام کی جانب سے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے مگر یہ بات باعث تشویش ہے کہ عرب دنیا کے حکمران گویا صہیونی ریاست کی طرف لپکے چلے آرہے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کی دوڑ دھوپ صہیونی ریاست کے جرائم کو نظر انداز کر کے کیسے روکی جا سکتی ہے۔ ایک طرف صہیونی ریاست غزہ کی پٹی، غرب اردن اور بیت المقدس میں صہیونی ریاست کھلے عام جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ صہیونی ریاست کے ان جرائم میں عرب اقوام، ان کے منتخب نمائندگان، دانشور اور رائے عامہ کا کیا کردار ہے اور یہ سب صہیونی ریاست کے جرائم کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
درکار جدو جہد
اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے عوامی مہم کے رابطہ کار خالد منصوور نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ امر ناگزیر ہے کہ قضیہ فلسطین تمام عرب اور مسلمان ممالک، آزاد دنیا اور زندہ ضمیر انسانیت کے ہاں ایجنڈے میں سر فہرست رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے عرب ممالک کے حکمرانوں کی اپیلوں، بیانات اور مطالبات پر کان دھرنے کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ حکمران صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہیں قضیہ فلسطین سے خاطر خواہ دلچسپی نہیں اور نہ ہی فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق کے حوالے سے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کررہے ہیں۔
خالد منصور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عرب ممالک کی اقوام، ان کے زندہ ضمیرلوگ اور بائیکاٹ کمیٹیاں فلسطینی قوم کی معاونت اور مدد کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں۔ انہیں پوری قوت کے ساتھ صہیونی ریاست کے ساتھ حکومتوں کے تعلقات کے استوار کرنے کی راہ روکنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عرب ممالک صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کےقیام کے لیے ہانپے جا رہے ہیں۔ ان کی یہ ساری دوڑ دھوپ قضیہ فلسطین کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنا عرب ممالک کے امن اقدام کے حوالے سے اجماع کے بھی خلاف ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی راہ روکنے کے لیے عرب اقوام، یونینز، پیشہ ور تنظیموں، دانشوروں، مصنفین اور صحافیوں کوایک صف میں کھڑے ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
خالد منصورنے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کی دوڑ کے دوران سلطنت اومان اور کویت میں سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کی کھل کر مخالفت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خلیجی ممالک تیونس کے نقش قدم پر چلیں جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کو جرم قرار دیا ہے۔
عوامی طاقت پر انحصار
اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ مہم کے رکن حیدر عید نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے حوالے سےعوامی فیصلوں پر انحصار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی اقوام صہیونی ریاست سے دوستی کے خواہاں نہیں۔ عوام کو حکومتوں پر دبائو ڈالنے کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں عرب اسٹڈی سینٹر کی جانب سے رائے عامہ کا ایک جائزہ لیا گیا جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کا سوال پوچھا گیا گیا تھا۔ اس سروے میں 87 فی صد عوام نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی مخالفت کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے قضیہ فلسطین کو غیر معمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عید نے عرب ممالک کے عوام پر زور دیا کہ وہ صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے جاری مہمات اور تحریکوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔ بی ڈی ایس تحریک کو کامیاب بنائیں۔ حال ہی میں سلطنت اومان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مہم کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردن اور مصر میں بھی بائیکاٹ تحریک شروع کر دی گئی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین
The post اسرائیل سے تعلقات ۔۔۔۔ عربوں کو کیسے روکا جائے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
بحران یمن کے بارے میں سویڈن کے دار الحکومت اسٹاک ہوم میں کامیاب مذاکرات ہوئے اور مغربی یمن کے الحدیدہ شہر نیز الحدیدہ صوبے میں جنگ بندی پر مفاہمت ہو گئی جس پر یمن میں خوشیاں منائی گئیں ۔
دارالحکومت صنعا سے اسٹاک ہوم جانے والے وفد کے سربراہ محمد عبد السلام نے کہا کہ یہ سمجھوتہ پورے یمن کے عوام کی فتح ہے تاہم یہ اندیشہ شروع سے ہی تھا کہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہےاور یہی ہو رہا ہے ۔ الحدیدہ سے میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے اس علاقے میں پھر سے فائرنگ ہو رہی ہے ۔ سنيجر کو بھی فائرنگ کی خبریں موصول ہوئیں ۔
تقریبا چار سال سے جاری جنگ کے بعد جنگ بندی کے بارے میں مفاہمت ہو گئی تھی ۔ اس لئے یمن کے متعدد حلقے اس سے خوش تھے ۔ یمن کے حالات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک کے عوام تو جنگ سے تھک چکے ہیں اور امن چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کا فوجی اتحاد یمن میں امن نہیں چاہتا ۔ سعودی عرب نے یمن کے ایک گروہ کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور اسی کو یمن کی قانونی حکومت کا نام دیتا ہے جبکہ حالات یہ ہیں کہ اس گروہ میں شامل افراد یمن کے بجائے سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں موجود ہیں اور مذاکرات کے لئے ان کا وفد ریاض سے اسٹاک ہوم گیا تھا اور مذاکرات کے بعد ریاض لوٹ گیا ۔ یعنی یمن کے اندر ان کا کوئی عوام اثر و رسوخ نیز ٹھکانہ نہیں ہے ۔
اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب مذاکرات یمنی فریق کے درمیان ہوگئی تو امن کا قیام آسان ہوگا لیکن جہاں معاملہ سعودی عرب کا ہوگا وہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی کوشش تھی کہ یمن کی سیاست پر سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم کر لیں ۔ سعودی عرب، یمن ہی نہیں بلکہ علاقے کے دیگر ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر، لبنان اور عراق کے بارے میں بھی اسی طرح کی کوشش کرتا رہا ہے لکن اسے بحرین کے علاوہ کہیں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی حالانکہ بحرین میں بھی جس دن تحریک انقلاب کامیاب ہوئی سعودی عرب کا اثر و رسوخ وہاں بھی ختم ہو جائے گا۔
یمن کے حوالے سے سعودی عرب نے منصور ہادی اور ان سے وابستہ گروہوں کو اپنا وسیلہ بنایا ہے جن کے ذریعے سے وہ یمن کی سیاست کو ہائی جیک کرنا چاہتا ہے حالانکہ حالات یہ ہیں کہ ان گروہوں کو یمن کے اندر جگہ نہیں مل پا رہی ہے ۔ سویڈن مذاکرات میں شرکت کے لئے سعودی حمایت یافتہ گروہ جو گیا تھا وہ یمن کے بجائے ریاض سے گیا تھا اور مذاکرات کے بعد ریاض ہی لوٹ کر گیا ۔
مذاکرات کے دوران جب کچھ نکات کے بارے میں اس وفد کو مشورہ کرنا ہوتا تو وہ یمن کے بجائے سعودی عرب اور امارات سے مشورہ کرتے تھے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ گروہ یمن کے عوام کے کسی حصے کے بجائے سعودی عرب اور امارات کی قیادت کر رہا تھا ۔
اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کو یمن میں کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے اور اسی لئے وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی نافذ ہو تاہم دوسری جانب عالمی سطح پر سعودی عرب اور خاص طور پر ولیعہد محمد بن سلمان پر سینئر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں شدید دباؤ ہے ۔
امریکی سینیٹ میں سعودی عرب کے خلاف دو قراردادیں منظور ہوئی ہیں ۔ ایک میں محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے بے رحمانہ قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور دوسری قرارداد میں سعودی عرب کو جنگ یمن کے لئے امریکا سے ملنے والی حمایت کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس عمل میں بن سلمان کی حمایت کرنے کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بری طرح پھنس گئے ہیں ۔
بہر حال ان حالات میں سعودی عرب کو یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ جنگ یمن کو جاری رکھنا آسان نہیں ہوگا ۔ چونکہ اس جنگ پر ریاض حکومت اربوں ڈالر برباد کر چکی ہے اس لئے اب اس کی کوشش ہے کہ یمن میں کچھ اس کے ہاتھ لگ جائے لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کا امکام بہت ہی کم ہے ۔بشکریہ سحر نیوز
The post یمن میں سعودی عرب نے گھٹنے ٹیکے، عوام کی تاریخی فتح appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
Hello, my name is Jack Sparrow. I'm a 50 year old self-employed Pirate from the Caribbean.
Learn More →