سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں پڑھنے والے کشمیری طلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر 3 طالب علموں پر لگائے گئے بغاوت کے الزام کو واپس نہیں لیا جاتا تو وہ 17 اکتوبر پر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں گے۔ خیال رہے کہ 3 کشمیر طلبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اے ایم یو کے سابق پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی کے قتل کے خلاف احتجاج میں بھارت مخالف نعرے لگائے تھے۔
اخبار کے مطابق طلبہ یونین کے سابق نائب صدر کی جانب سے یہ پیغام بڑی تعداد میں کشمیری طلبا کی موجودگی میں اے ایم یو کے پروکٹر محسن خان کے حوالے کیا گیا۔ دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترجمان شافع کدوائی نے کشمیری طلبہ کے حراساں کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ ’ کوئی بے گناہ متاثر نہیں ہو گا‘۔ انہوں نے کہا کہ طلبا پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور منان وانی کی نماز جنازہ ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کے دوران فائرنگ کر کے کشمیری نوجوان اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین زرگر کو قتل کر دیا تھا۔
پی ایچ ڈی اسکالر اور کشمیری نوجوان کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آتے ہی ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے، بھارتی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ اور شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری نوجوان زخمی ہو گئے۔
The post علی گڑھ مسلم یونیورسٹی:1200 کشمیری طلاب نے یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی دے دی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2pQVqYm
via IFTTT


No comments:
Write komentar