Technology

Ads

Most Popular

Monday, 15 October 2018

عدالت نے ایک میجر جنرل ، 2 کرنلز اور 4 سپاہیوں کو عمر قید کی سزا سنا دی

 

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں 1994 میں ہونے جانے والے جعلی مقابلے میں 5 نوجوانوں کی ہلاکت کے کیس کی سماعت ہوئی ۔ جس کے بعد فوجی عدالت نے بھارتی فوج کے ایک میجر جنرل، 2 کرنلز اور 4 سپاہیوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنادی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سزا پانے والوں میں میجر جنرل اے کے لال، کرنلز تھومس میتھو اور آر ایس سیبرین جبکہ دیگر میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے او سی) اور غیر کمیشنڈ افسر دلدیپ سنگھ، جاگیدو سنگھ، البندر سنگھ اور شیوندر سنگھ شامل ہیں۔فوجی عدالت کا فیصلہ آسام میں آل آسام اسٹوڈینٹس یونین (اے اے ایس یو) کے کارکنان پرابین سونووال، پردیپ دوتہ، دبجیت بسواس، اخیل سونووال اور بھابین موران کو جعلی مقابلے کے دوران ہلاک کرنے پر سامنے آیا، انہیں پنجاب ریجمنٹ کے یونٹ نے 17 اور 19 فروری 1994 کو آسام کے ضلع تنسوکیہ میں مختلف مقامات سے گرفتار کرنے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل کردیا تھا۔ گذشتہ چوبیس سالوں سے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل جگدیش بھیان نے فوجی عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ثابت ہوا کہ بھارتی فوج انصاف فراہم کرنے میں غیر جانبدار ہے اور اس نے بے گناہ نوجوانوں کے قتل میں ملوث اپنی ہی فوج کے اہلکاروں کو سزا دے کر انصاف کا بول بالا کیا ہے۔ جگدیش کے مطابق اس فیصلے سے عوام میں فوج کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ آرمی کا مورال بھی بلندہوگا۔

واضح رہے کہ 18 فروری 1994 کو 18 پنجاب رجمنٹ کے فوجی جوانوں نے 9 نوجوانوں کو ضلع تنسوکیا میں چائے کے باغات کے مالک کے قتل کے الزام میں اٹھایا۔ اس گرفتاری کے خلاف ریاست بھر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فوج نے ان نوجوانوں کو الفا نامی دہشت گرد گروپ سے جوڑا اور انہیں جعلی مقابلے میں قتل کردیا ۔ جبکہ دیگر 4 نوجوانوں کو جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔ بعدازاں آل آسام سٹوڈنٹس کے لیڈر نے گھوٹی ہائیکورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی اور ان نوجوانوں کی تفصیلات طلب کیں۔ عدالت نے فوج کو تمام 9 نوجوانوں کو قریبی پولیس سٹیشن میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔ بعدازاں آرمی نے 5 نوجوانوں کی لاشیں پولیس سٹیشن جمع کرادیں ۔اس کے بعد یہ کیس سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) کو سونپا گیا ۔ جس نے آرمی کے سات افراد کو اس کا مجرم قرار دیا۔ گھوٹی ہائیکورٹ نے بھارتی فوج کو ان افراد کے کورٹ مارشل کا حکم جاری کیا ۔ جس پر فوج نے بھارتی ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے کورٹ مارشل کے فیصلے کو برقرار رکھا جس پر 27 جولائی کو عملدرآمد کر لیا گیا۔ اب فوجی عدالت نے ان فوجی جوانوں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2OoNBrn
via IFTTT

No comments:
Write komentar