Technology

Ads

Most Popular

Monday, 15 October 2018

اے آر وائی نیوز سے صحافیوں کو نکالے جانے پر صحافی خاتون کا احتجاج۔۔ نجی چینل نے خاتون صحافی کیساتھ ایک کام کردیا کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

 

لاہور(ویب ڈیسک) گذشتہ دنوں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نے مالی بحران کے پیش نظر درجنوں ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ۔ جس کے خلاف ملک بھر میں صحافی برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اور چینل کے اقدام پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

صحافتی اور دیگر تنظیمیں نجی چینلز سے صحافیوں کے جبری انخلا پر سراپا احتجاج ہیں ، جبکہ احتجاجی ملازمین کے خلاف بھی میڈیا مالکان کی انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نے گذشتہ ہفتے مالی بحران پر اپنے ملازمین کو فارغ کیا۔ جس پر اسے چینل سے وابستہ خاتون صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نوشین نقوی نے بھرپور احتجاج کیا اور ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔ نوشین نقوی کے اس اقدام کے خلاف چینل انتظامیہ انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نوشین نقوی نے 12 اکتوبر کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے سٹیٹس دیا کہ ” اے آر وائی نیوز سے صحافیوں کو نکالا جا رہا ہے،دو یونین لیڈر ز ، صدوراسی چینل میں نوکری کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی جانب سے تاحال کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے صحافیوں کو ملازمت پر رکھوانے کے لئے کوئی اقدام کیا ہے۔ انہوں نے یونین لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ مجھے نوکری سے نکلوا دیں یا میرے خلاف انتقامی کارروائی کریں میں صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھوں گی اور اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔

خاتون صحافی نوشین نقوی کا مزید کہنا تھا کہ میری 12 اکتوبر کی اس پوسٹ کے بعد چینل انتظامیہ میرے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے میرے دفتر میں جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، جبکہ اے آر وائی کے دفتر میں میرا داخلہ روک دیا گیا ہے۔ نوشین نقوی کے مطابق اس اقدام سے قبل انہیں کسی بھی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سےکوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ نوشین نقوی نے چینل انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں دفتر کے باہر بیٹھ جاوں گی اور اے آر وائی کے علاوہ کسی بھی چینل میں نہیں جاوں گی۔خاتون صحافی کے خلاف چینل انتظامیہ کی اس انتقامی کارروائی پر صحافیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور نجی چینل انتظامیہ سے اپنی روش بدلنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ خاتون صحافی کے اس بیان کے بعد اے آر وائی چینل کی انتظامیہ کی جانب سے موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ انتظامیہ نے اس بیان پر اپنی تصدیق اور تردید جاری نہیں کی۔دوسری جانب میڈیا ہاوسز سے ملازمین کے جبری انخلا کے خلاف لاہور پریس کلب اور صحافتی یونینز نے مشترکہ ٹاسک فورس بنا دی ہے جس کا کام ایسے اقدامات کے خلاف اپنے احتجاج ریکارڈ کروانا ہے ۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2pV3eZc
via IFTTT

No comments:
Write komentar