Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 13 October 2018

پاک فوج کے بہادر سپاہی مقبول حسین تو آپ کو یاد ہوں گے،،لیکن اب حکومت پنجاب نے ان کیلئے ایسا کام کردیا کہ آپ کی آنکھیں نم ہوجائیں گی

 

راولپنڈی (ویب ڈیسک ) راولپنڈی آرٹس کونسل 1965کی جنگ کے ہراو سپاہی مقبول حسنذ کی زندگی پر مبنی ڈرامہ ’’ وطن کا شدتائی‘‘ آج شام 6 بجے راولپنڈی آرٹس کونسل مںر پشت کاب جائے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فانض الحسن چوہان اس موقع پر مہمان خصوصی ہونگے۔ ڈرامہ ناہدو منظور نے لکھا ہے ۔

سپاہی مقبول حسنم کو 1965کی جنگ مںد ہندوستان کی فوج نے قدب کر لاا اور وہ 40سال ہندوستان کے قدن خانوں مںھ تشدد اور صعوبتںگ برداشت کرتے رہے مگر انہوں نے ملک کے راز اگلنے سے انکار کر دیا اور بلند آواز مںگ ’’پاکستان زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگاتے رہتے۔ ان کے اس جذبہ حب الوطنی کو ہندوستان کے حکام برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے سپاہی مقبول حسنے کی زبان بے دردی سے کاٹ دی۔ سپاہی مقبول حسن کو ہندوستان کے حکام نے 2015مںو رہا کر دیا اور رہائی کے بعد سپاہی مقبول حسنم اپنی یونٹ مںد واپس آئے اور یونٹ کمانڈ ر کو سلوٹ کاا اور کاغذ پر پیائ نمبر 335139لکھا جس سے ان کی شناخت ہوئی۔ارض پاک کے باغیرت سپوت کا خراج تحسین پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی انداز نہیں ہے۔ ڈرامہ نگار ناہید منظورکی تحریرمیں اداکاروں کی خوبصورت ایکٹنگ مقبول حسین کی زندگی کے درخشاں پہلووں کو اجاگر کرے گی۔ جس سے نہ صرف تاریخ کو سمجھنے کا موقع ملے گا ، وہیں قومی ہیروز کی یادیں بھی محفوظ ہوجائیں گی ، راولپنڈی آرٹس کونسل انتطامیہ ڈرامے کی کامابی کیلئے پر امید ہیں۔منتظمین کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی سپاہی مقبول حسین کی کہانی جاننےکیلئے بیتاب ہے۔

واضح رہے کہ 1965ء جنگ مںو سپاہی مقبول حسنو کپٹن شرب کی قافدت مںل دشمن کے علاقے مںض ایک اسلحہ ڈپو کو تباہ کرنے کا حدف پورا کرنے کے بعد واپس آرہے تھے اس کی پشت پر وائرلسہ سٹم بھی تھا کہ دشمن کی فائرنگ سے مقبول زخمی ہو گئے ساتھو ں نے اٹھایا مگر فائر شدید اور خطرناک صورت حال تھی مقبول نے قربانی دی کہا آپ لوگ نکلو مجھے ادھر ہی رہنے دو مںت کور فائر دوں گا تاکہ تم لوگ نکل سکو خود کو چھپانے کی کوشش کی مگر دشمن کے فائر سے شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہوگات اور بھارتی فوج نے گرفتار کرلاک گم ہوگا اور ییر سمجھا گار کہ شہدن ہوگال ہے یادگار شہداء پر دیگر شہداء کے ساتھ اس کا نام بھی شامل ہوگا قدر کے دوران اس پر خوفناک تشدد ظلم کے پہاڑ توڑے گئے 4×4کے کمرے مںو رکھا گام جہاں نہ لٹگ سکتا تھا نہ کھڑا ہوسکتا تھا دوران تفتشگ 40سال تک تشدد برداشت کرتا رہاہندوستانی فوجی کہتے پاکستان مردہ باد نعرہ لگاؤ مگر بے پناہ تشدد کی کتوک مں مقبال پاکستان زندہ باد کے مستانہ وار نعرے لگاتا بار بار اس عمل کی وجہ اس کی زبان کاٹ دی گئی تاکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہ لگا سکے



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2CfORGi
via IFTTT

No comments:
Write komentar