Technology

Ads

Most Popular

Friday, 5 October 2018

ناں ناں کے بعد بالآخر ہاں :آپ ہماری امداد بحال کریں بدلے میں ہم ۔۔۔۔ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

 

واشنگٹن (ویب ڈیسک) واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک یونائٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں منعقد ہوئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہتری افغانستان کے حالات میں بہتری پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے واشنگٹن جانے کا راستہ کابل سے ہو کر گزرتا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور امریکی حکومتوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں ہے بلکہ مصالحت پر مبنی سیاسی حل ہی کامیاب رہے گا۔ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کا طالبان پر اثرو رسوخ بہت کم ہو چکا ہے۔امریکہ پر زور دیتے ہوتے کہا کہ پاکستان کی امداد بحال کی جائے۔ امریکہ کی افغانستان میں ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ امریکی وزیر خارجہ ہماری بات سننے کیلئے تیار ہیں اور وہ اب امید کے ساتھ اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان میں نئے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کو پاکستان کے حوالے سے بیان دینے سے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ دو دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کی سہ پہر وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے ملاقات کی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیائی خطے کی صورت حال سمیت افغانستان کے تنازع کے پرامن حل پر گفتگو ہوئی۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کی قیادت میں، افغانستان میں مفاہمت کے عمل کی حمایت جاری رکھے گاانہوں نے ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے افغانستان کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دیرپا استحكام اور ترقی خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔بیان کے مطابق جنوبی ایشیا میں استحكام کے حصول کے تناظر میں وزیر خارجہ قریشی نے امریکی عہدے دار کو بھارت کے جارحانہ رویے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی امن کی کوشش کے جواب میں بھارت مذاكرات کے لیے تیار ہونے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع امن مذاكرات اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔دونوں راہنماؤں نے اس پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون علاقائی امن اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے مفاد میں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سینیٹ آرمڈ سروسز کے ممبر جیب ریڈ سے ملاقات ۔ 2 اکتوبر 2018میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی محکمہ خارجہ گئے جہاں ان کی ملاقات امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو سے ہوئی۔ تاہم اس بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔اس سے قبل پچھلے مہینے پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سفارتی عہدے داروں کے درمیان ایک ملاقات اسلام آباد میں اس وقت ہوئی تھی جب مائیک پومپیو اور امریکی وزیر دفاع بھارت جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں رکے تھے۔اسلام آباد کی ملاقات میں امریکی عہدے داروں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کلیدی مسائل پر کئی برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات پر پاکستان میں قائم ہونی والے نئی حکومت کیا سوچ رکھتی ہے۔شاہ محمود قریشی نے امریکی سینٹرز کوری بوکر اور لینڈسے گراہم اور ڈیمو کریٹک سینیٹر جیک ریڈ سے بھی ملاقات کی۔سینیٹر بوکر سینیٹ کی غیرملکی تعلقات سے متعلق کمیٹی کے رکن ہیں ۔ دونوں راہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر بات چیت کی۔وزیر خارجہ قریشی اتوار کو نیویارک سے واشنگٹن پہنچے تھے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 اجلاس میں 29 ستمبر کو اپنی تقریر میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا تھا۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2NlJoQ0
via IFTTT

No comments:
Write komentar