نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ امریکہ میں خواجہ سراؤں کو دی گئی باضابطہ شناخت کو ختم کر دیا جائے، جنس کا تعین پیدائش کے وقت کیا جائے گا اور بعد میں اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
نیو یارک ٹائمز نے سرکاری میمو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت اور ہیومن سروسز نے کئی محکموں سے رابطہ کر کے جنس کی قانونی تشریح کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تشریح کے مطابق جنس یا تو مرد یا پھر عورت ہو گی جس کا فیصلہ پیدائش کے وقت جنسی اعضاء کو دیکھ کر کیا جائے گا اور اس کو بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔ جنس کی تشریح میں تبدیلی سے امریکی صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں جو خواجہ سراؤں کو حقوق ملے ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔
امریکہ میں صفر اعشاریہ سات فیصد عوام اپنی شناخت خواجہ سرا کے طور پر کراتے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کے حقوق ختم ہونے سے معاشرے میں برداشت اور مساوات ختم ہو جائے گی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ صحت اور ہیومن سروسز نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب دنیا کے دیگر ممالک خواجہ سراؤں کو زیادہ حقوق دینے کیلئے پرعزم ہیں۔
The post امریکی خواجہ سراء: جنس کا تعین پیدائش کے وقت، بعد میں تبدیل نہیں کی جا سکتی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2O73NsA
via IFTTT


No comments:
Write komentar