(الجزیرہ ۔انگلش TV پروگرام Haed to Head)
اس پروگرام میں پروگرام کے اینکر پرسن مہدی حسن نے اسرائیل کے سابق نائب وزیرخارجہ اور اور امریکہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ایلون کو چیلنج کیا کہ کیا گزشتہ ماہ غزہ میں فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں میں ہونے والی فلسطینیوں کی اموات کا اسرائیل ذمہ دار نہیں ہے؟
اسرائیل کے سابق وزیر خارجہ اور امریکہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ایلون اسرائیلی وزارت خارجہ میں گزشتہ دودہائیوں سب سے اہم مشیرِ خارجہ امور اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں انتہائی اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، وہ اسرائیل کے دو سابق وزراء اعظم ایریل شیرون ، ایہود باراک اور موجودہ وزیراعظم بینجمین نیتن یاہو کے سیاسی مشیر بھی رہے ہیں۔ جس وقت اسرائیل اپنا 70واں یوم تاسیس منا رہا ہے، جب اس نے آج سے 70 سال پہلے سات لاکھ پچاس ہزار (750000) فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے زبردستی اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا جسے تاریخ میں یوم نقبہ یا عظیم تباہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، الجزیرہ TV اینکر مہدی حسن نے ڈینی ایلون کو چیلنج کیا کہ کیا گزشتہ ماہ غزہ احتجاج میں نہتے فلسطینیوں کی اموات کا اسرائیل ذمہ دار نہیں ہے؟ کیا نہتے احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانا اخلاقی اور قانونی ہے؟
پروگرام میں ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ امریکہ ایران معاہدے کے خاتمے کے بعد کیا ایران کسی طور پر امریکہ کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ جس طرح اسرائیلی وزیراعظم عوام کے حقوق کو طاقت کے بل بوتے پر غصب کر رہے ہیں کیا یہ اسرائیلی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہو گا؟ اس پروگرام میں تین ماہرین نے بھی حصہ لیا:
1۔ اوی شیلم جو کہ ایک مشہور اسرائیلی برطانوی تاریخ دان اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سابق سینٹر پروفیسر ہیں۔
2۔ پال چرنے جو کہ برطانوی یہودی فیڈریشن کے چیئرمین ہیں۔
4۔ ڈیانا بوتو جو کہ اسرائیل فلسطینی قانون دان اور آزادی فلسطین تنظیم (PLO) کی سابقہ مشیر بھی ہیں۔
اس پروگرام کو اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بیت السلام کی ان تحقیقات کے بعد ریکارڈ کیا گیا جس میں غزہ احتجاج میں خدمات سرانجام دینے والی 21 سالہ نرس رازان النجار کو اوراسرائیلی سیکورٹی فورسز کو جان بوجھ کرقتل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ یہ پروگرام اسرائیلی پارلیمنٹ کیسنیٹ میں متنازعہ یہودی ریاست کے قانون کے پاس ہونے کی تاریخ 19 جولائی 2018 سے صرف ایک دن پہلے ریکارڈ کیا گیا، ’’غزہ اموات کا ذمہ دار کون‘‘ پروگرام 20 جولائی 2018ء کو الجزیرہ ٹی وی ہر نشر کیا گیا۔
غزہ اموات ذمہ دار کون؟
الجزیرہ ٹی وی (رپورٹ)
20 مئی 2018 فلسطینی اور اسرائیلی اپنے 70 سالہ تنازعہ کا دن منا رہے ہیں، اسرائیلی، یوروشلم میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا جشن منا رہے ہیں۔
’’کیا یاد گار دن ہے، اس لمحہ کو یاد رکھیں‘‘ اسرائیلی وزیراعظم بینجمین نیتن یاہو۔
دوسری طرف فلسطینی اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف غزہ میں احتجاج کر رہے ہیں، جس نے ان کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں 100 سے زیادہ بےگناہ فلسطینیوں کو بےرحم اسرائیلی نشانہ بازوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا، بچے، نرسنگ سٹاف، صحافی سب اسرائیلی نشانہ بازوں کی درندگی کا نشانہ بنے، ‘‘اسرائیلی ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ان کو پشت پر، سر پر اور ہونٹوں پر سیدھے فائز کیے گئے۔
اسرائیل ان تمام لوگوں کی اموات کا الزام حماس پر لگاتا ہے، بقول اسرائیل کے دہشت گرد تنظیم حماس ان افراد کو اپنے خفیہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتی ہے، تاہم اسرائیل فلسطینیوں کو بطور تماشا دیکھتا ہے۔ اسرائیل دنیا کو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس کے لیے خطرہ ہے اور حماس کے پیچھے بھی ایران کا ہاتھ کا ہے۔ (اب ہم انٹرویو کی طرف بڑھتے ہیں)
مہدی حسن۔ اس سال یعنی 14 مئی 2018 کو اسرائیلی حکومت نے اپنی حکومت کی آزادی کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جو کہ یوروشلم میں امریکی سفارے خانے کے افتتاح کے موقع پر منایا گیا اور آپ بھی اس میں شامل تھے، اسی دن اسرائیلی فوج کے نشانہ بازوں نے غزہ میں احتجاج کرنے والے 62 فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جس کو تمام دنیا کے میڈیا نے دکھایا، جس میں بچے، نرسیں اور صحافی سب شامل تھے، آپ ان نہتے فلسطینیوں کی اموات کو کس طرح جائز قرار دے سکتے ہیں؟ ان اموات کی کیا اخلاقی اور قانوی حیثیت ہے؟ کیا ان اموات کو قانونی اور اخلاقی طور پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
ڈینی: کوئی بھی شخس بےگناہ افراد کی موت کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کر سکتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہاں پر یہ صورتحال نہیں تھی۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، 14 جولائی 2018 کو 62 فلسطینیوں کی اموات ہوئیں، ان کو ان کے راہنماؤں (یعنی حماس) نے بھیجا تھا، جن کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا تھا، حماس انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی تھی اور ان افراد کے پیچھے حماس کے مسلح جنگجو تھے جن کے پاس، بم، گرنیڈ اور مختلف قسم کا اسلحہ تھا، 15 مئی کو حماس نے خود اعتراف کیا کہ ان 62 افراد میں سے 50 حماس کے متحرک کارکن تھے، ہم اسے غیر دانستہ اموات کہہ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان اموات کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اور اس کا ذمہ دار صرف اور صرف حماس ہے۔
مہدی حسن: یہاں پر میرا ایک سوال ہے کہ 30 مارچ 2018 سے لیکر اب تک 143 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ، ہو سکتا ہے اس سے بھی زیادہ ہوں کیونکہ یہ اعداد و شمار تبدیل ہوتے رہتے ہیں کیوں کہ اسرائیل لوگوں کو مسلسل مار رہا ہے۔ اب تک پندرہ ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے چار ہزار پر جدید ہتھیاروں سے براہ راست فائرنگ کی گئی، آپ کواس وقت ساری دنیا دیکھ رہی ہے، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ تمام کے تمام پندرہ ہزار افراد حماس کے متحرک کارکن تھے۔
ڈینی : میں تمام دیکھنے والوں کو کہوں گا کہ اسرائیل پوری پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو قتل نہ کرے جو دہشت گردی میں ملوث نہ ہو، یہ جاننا بہت ضروری ہے کی ان تمام اموات کا ذمہ دار کون ہے؟
مہدی حسن: کیا یہ ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے جو مشین گن کا ٹرگر (Trigger) دباتے ہیں؟ جن کا مقصد دوسروں کوقتل کرنا ہوتا ہے اور جس وجہ سے افراد کی اموات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کو عام طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
ڈینی: ان کو آپ کس طرح ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں؟
مہدی حسن: ایک آدمی جس کے پاس بندوق ہے ، ایک بچے کا نشانہ لیتا ہے اور صرف 50 میٹر کے فاصلہ سے اس کے سر میں سیدھی گولی مارتا ہے تو کیا گولی مارنے والا ذمہ دار نہیں ہے؟
ڈینی : آپ ان فلسطینی دہشت گردوں کے بارے میں کیا کہیں گے، جو ان عام افراد کی پشت پر مسلح ہو کر آئے تھے، راکٹس اور دیگر اسلحہ لے کر؟
مہدی حسن: ایک سادہ سا سوال ہے کہ ان پندرہ ہزار زخمی افراد میں سے کتنے لوگ حماس کے متحرک کارکن یا بقول آپ کے حماس کے دہشت گرد تھے۔
ڈینی : مجھے نہیں معلوم ؟ لیکن اتنا معلوم ہے کہ 14 مئی کو ہلاک ہونے والے 62 افراد میں سے 50 افراد حماس کے ممبر تھے جس کا حماس نے خود اعتراف کیا ہے۔
مہدی حسن: اس بارے میں کوئی انوسٹیگیشن نہیں ہوئی، کیا ان کے جسموں پر حماس کے کارڈز لگے ہوئے تھے؟ حقیقت کیا ہے؟
ڈینی: حقیقت یہ ہے کہ حماس غزہ کے غریب لوگوں کو بندوق کی نوک پر غزہ کے بارڈر کی طرف بھیجتی ہے۔
مہدی حسن: لیکن اقوام متحدہ نے یہ کبھی نہیں کہا: انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کبھی یہ بات نہیں کہی۔
اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ پندرہ ہزار افراد حماس کے ممبر تھے تو عالمی قوانین یا اخلاقیات اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتی کہ آپ کسی شخص کو کسی تنظیم کا ممبر ہونے کی وجہ سے قتل کر دیں، جب تک کہ وہ آپ کے لیے حقیقی خطرے کا باعث نہ ہوں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ پندرہ ہزار نہتے افراد اسرائیل نشانہ بازوں یا اسرائیل کیلئے حقیقی خطرہ تھے؟
ڈینی: یقیناً، یقیناً وہ ان اسرائیلی نشانہ بازوں کے لیے خطرہ تھے، (حال میں موجود ناظرین کی طرف سے زوردار قہقہہ) میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ کس طرح خطرہ تھے، نہ صرف اسرائیلی نشانہ بازوں کے لیے بلکہ اسرائیلی حدود میں رہنے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے حماس ان لوگوں کو بھیج رہی ہے صرف مظاہرہ کرنے کیلئے نہیں۔
مہدی حسن : یہ کس طرح ممکن ہے؟ بےشمار مظاہرین نے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں حماس نہیں نے نہیں بھیجا، کیا وہ سب جھوٹ بول رہے تھے؟
ڈینی: حماس کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ’’اسرائیلی سور کے بچے ہیں‘‘ ، ’’اسرائیلی کتے کے بچے ہیں‘‘ ، آپ حماس کے میگزین میں پڑھ سکتے ہیں۔
مہدی حسن: آپ انتہائی معتبر ذرائع سے خبر دے رہے ہیں، آپ پہلے اسرائیلی ہیں جو حماس کے میگزین کا حوالہ دے کر بات کر رہے ہیں، یعنی آپ کہہ رہے کہ میری خبر کا ذریعہ حماس ہے۔
ڈینی : جی ہاں ، حماس کے میگزین ملاخطہ فرمائیں۔ (بقیہ اگلی قسط میں)
The post غزہ اموات: سابق اسرائیلی وزیر خارجہ کے غیرمنطقی جوابات appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2M0Rmy7
via IFTTT


No comments:
Write komentar