لاہور (ویب ڈیسک) مجھے قومی ایشوز پر اکثر ای میلز اور خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں۔ الیکشن کمشن کی جانب سے منعقد کرائے گئے 25 جولائی کے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ حقیقت کیا ہے، اس بارے میں پروفیسر محمد حسین صاحب نے اپنے مراسلہ میں تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔
معروف کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔یہ مراسلہ الیکشن کمشن کی توجہ کے لئے آج کالم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ ”میں آپکا پرانا قاری اور اس ملک پاکستان کا ایک استاد و پروفیسر ہوں آپ کے کالم کے توسط سے الیکشن کے حوالے سے اپنا تکلیف دہ تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہوں اور کچھ خدشات سوالات اربابِ بست و کشاد سے کرنا چاہوں گا کیونکہ میں بھی انسان ہوں اور پاکستان کے نظام میں بہتری لانا چاہتا ہوں۔ الیکشن کے کامیاب انعقاد کے پیچھے لمبے چوڑے اخراجات ا ور انتظامات ہوتے ہیں جو عموماً حکومت کے آخری یعنی پانچویں سال سے شروع ہو جاتے ہیں جس میں ووٹر لسٹوں کی تیاری، عملے کی تربیت، بیلٹ پیپرز کی چھپائی، ترسیل، ووٹنگ، رزلٹ اور ”بحفاظت“ واپسی اور بالخصوص امن و امان اور ایمانداری کا برقرار رکھنا شامل ہے۔ دو روزہ تربیت کے بعد جب الیکشن ڈیوٹی کے لئے عموماً اساتذہ و دیگر محکموں کے لوگوں کو آر ۔ اوز یعنی ججز کے ذریعے بلایا جاتا ہے تو لوگ ڈیوٹی کی منسوخی کی کوشش کرتے ہیں یا بہانے کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے اور اسکی بہتری کیسے ہو گی۔ تربیت کے بعد عدالت بلا کر
ڈیوٹی آرڈرز وصول کروائے جاتے ہیں اور پھر ”عملے کی حاضری“ پوری کروائی جاتی ہے اپنا عملہ پورا کروانا پریذائڈنگ آفیسر پر لازم ہے۔ وہ مرحلے طے کر کے الیکشن سے ایک دن پہلے ”ڈبے“ یعنی بیلٹ بکس وصول کرنا، ووٹنگ سکرین لینا، بیلٹ پیپرز اور ”معاوضہ“ کی رقم وصول کر کے فوج کی زیر نگرانی متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر پہنچنا۔ اس سارے عمل میں اتنی ذلت و خواری ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ فوج اپنے ڈسپلن اور حکم کے تحت آپ کو ”سرکاری“ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہی لےجاتی ہے اور شام تک آپ اپنے پولنگ اسٹیشن پر پہنچتے ہیں۔ اس بار فوج نے کم از کم پریذائیڈنگ آفیسر یا عملے کے کسی ایک رکن کو پولنگ اسٹیشن پر ہی ”قیام“ کرنے کا پابند کر دیا۔ مردوں کے لئے لازم جبکہ خواتین کو ”رعایت“ دی گئی۔ بہرحال رات جیسے تیسے گزاری اور صبح چھ بجے بمعہ عملہ پولنگ اسٹیشن کو عملہ انتظامات کی شکل دی۔ ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ شدید گرمی، حبس زدہ موسم اور پھر بارش نے عملے اور ووٹرز کو بے حد تنگ کیا۔ اگر یہ الیکشن اکتوبر یا دسمبر میں ہو جاتے تو کیا کوئی قیامت آ جاتی ؟ یہ الیکشن نہیں سزا لگتی ہے ایسے موسم میں۔ایک فائدہ ’فوجی“ کے پولنگ
سٹیشن کے اندر بیٹھنے کا یہ ہوا کہ کسی سیاسی کارندے اور وفادار کو انتخابی عملے کو مارنے پیٹنے ، دھمکی دینے یا اپنی دھونس دھاندلی کا موقع نہیں ملا۔ یہ احساسِ تحفظ اپنی سولہ سالہ سروس اور چوتھی الیکشن ڈیوٹی میں پہلی بار ہوا۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ بیلٹ باکس کو سیل کرنا اور پھر سب کی موجودگی میں گنتی کے لئے کھول کر ووٹ گننا تھا اس میں بھی فوج ایک ”آبزرور“ اور تحفظ فراہم کرنے والی تھی۔ عملے نے گنتی ایک بار نہیں کم از کم دو دو بار کی اور پھر یہ رزلٹ فارم 45 پر لکھنا شروع کیا۔ جہاں امیدوار آٹھ سے زیادہ تھے وہاں دوسری پرت اور پھر تیسری پرت کا استعمال ہوا جبکہ کاپیاں زیادہ چاہئے ہوتی ہیں۔ کاربن پیپر والے فارم پانچ سے زیادہ کاپیاں صاف نہیں بناتے اس لئے ہر پریذائیڈنگ آفیسر کو کم از کم چوبیس صفحات/ کاپیاں بنانے کے لئے لکھنے تھے جن پر ہر امیدوار کے حاصل کردہ ووٹ اس کے نام کے آگے درج کئے گئے، پھر حاصل کردہ کل ووٹ، کل کاسٹ شدہ ووٹ ، عورتوں اورمردوں کے الگ الگ ووٹ اور ضائع شدہ ”چیلنج شدہ ووٹ“ یا ”ٹینڈر ووٹ“ کا شمار درج کیا گیا اور آخر میں میزان درست طریقے
سے لکھ کر یہ صرف تمام کاپیوں کے تمام پرت/ صفحات جو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الگ الگ تھے، پر نہ صرف دستخط اور شناختی کارڈ نمبر لکھے گئے بلکہ انگوٹھے کا نشان بھی لگانا لازم تھا اور ساتھ ہی یہی عمل اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر نے بھی لازم کرنا تھا۔ اس مرحلے کے بعد R.T.S کے ذریعے نہ صرف رزلٹ کے فارم 45 کی (قومی و صوبائی اسمبلیوں کی الگ الگ) تصاویر ایک ایک امیدوار کے الگ الگ ووٹوں کی تفصیل درج کر کے ”آن لائن“ بھجوایا گیا، بہت سی جگہوں پر R.T.S ”ہینگ“ بھی ہوا مگر یہ ایک اچھی کاوش تھی۔ جہاں اس کی وجہ سے رزلٹ میں دیر ہوئی وہ اس کے نافذ کرنے والوں سے پوچھنا چاہئے، ایسا کیوں ہوا۔ R.T.S سے رزلٹ بھجوانے کے بعد متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر رزلٹ کا اعلان کرنا، اس کی کاپی چسپاں کرنا، جیتنے والے اور ہارنے والے کو ایک ایک کاپی دینا، اور پھر ایک طویل اور نہ ختم ہونے والے فارموں کو مختلف پیکٹوں کو نمبروار بند کرکے سیل لگانا، تمام سامان سمیٹنا۔ اس سارے لمبے اور تکلیف دہ عمل کے بعد پریذئیڈنگ آفیسر کے ذمے ایک ”پانڈی“ بننا بھی ہے کیونکہ اکثر خواتین و مرد عملہ اپنا اپنا معاوضہ لے کر چلا
جاتا ہے اور اس سارے سامان کو جمع کروانا اور رزلٹ کی ”ہارڈ کاپیاں“ لے کر R.O کے پاس عدالت میں لے جانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ فوج نے کہا کہ آپ ”خود نہیں جا سکتے ہم جیسے لائے تھے ویسے ہی ”بحفاظت واپس لے جائیں گے“ عمل تو اچھا تھا مگر غیر ضروری تاخیر کا باعث بنا۔ اکثر عملے نے سارا دن کام کے دوران کچھ نہیں کھایا تھا جس میں راقم بھی شامل تھا، نیند اور تھکن کے بعد مزید خواری نے اس ڈیوٹی سے نفرت دلوا دی۔ رزلٹ وقت پر پہنچانا بھی ذمہ داری تھی اس لئے آخرکار صبح 4 بجے فوجی افسران کی منت کر کے ان کا ایک فوجی اپنی کار میں بٹھا کر عدالت پہنچے، یہاں صرف ایک آدمی ساتھ تھا جو کہ ”نائب قاصد“ کے طور پر دو ہزار کے معاوضے پر ساتھ تھا مگر سامان زیادہ تھا اور اکثر پریذائیڈنگ آفیسران نے خود ہی یہ ذمہ داری بھی اُٹھائی (وجہ نائب قاصد کا نہ ہونا یا دو ہزار بچانا رہا ہو گا) یہاں اتنا رش تھا کہ ذلت اور تھکن کے مارے کئی پریذائیڈنگ افسران رو پڑے جس میں آج کے اخبار میں سیالکوٹ کے ایک استاد جو دل کے مریض تھے بھی شامل تھے۔
اسی طرح دیر میں ایک پریذائیڈنگ آفیسر مسز ساجدہ رزلٹ جمع کروانے جاتے ہوئے برساتی نالے میں بہہ کر شہید ہو گئیں (جن کا کوئی ذکر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہو گا ، نہ کوئی میڈل نہ انعام نہ ہی معاوضہ….شاید وہ ٹیچر نہ ہوتی تو میڈل ملتے اور معاوضہ اور بعد از مرگ فوائد بھی….یہ لوگ اصل ہیروز ہیں۔ الیکشن کمشن ، فوج ، عدلیہ کا شکریہ مگر یہ گمنام پروفیسرز قابلِ ستائش ہیں یہی پریذائیڈنگ اور پولنگ افسران….اس پر بھی اگر کوئی ”دھاندلی“ کا الزام لگاتا ہے تو اس کی اطلاع کے لئے عرض ہے اس نظام میں دھاندلی ممکن نہیں۔ اگر ہوئی تو کیسے؟ ذرا مجھے بھی بتا دیں؟ ایسے لوگ جوتے لگانے کے قابل ہیں ان کو ایک ڈیوٹی کرنی پڑے تو پتالگ جائے۔ پھر عدالت میں R.T.S کے ذریعے بھیجا گیا رزلٹ دوبارہ ”ویری فائی“ کر کے دستخط لئے جاتے ہیں۔ طویل قطار جس میں ”معزز پریذائیڈنگ افسران و اساتذہ“ دو راتوں کے تھکے ماندے ہارے ہوئے صبح فارغ ہوئے۔ کیا الیکشن کاعمل ”آن لائن“ یا ”پیپر لیس“ نہیں ہو سکتا تھا؟ یا سامان کی بحفاظت ترسیل اور واپسی کسی اور ذریعہ سے نہیں ہو سکتی۔ اساتذہ اور دیگر عملے کو ذلیل کرنا لازم تھا؟ بہت سے اچھے R.O بھی تھے مگر الیکشن ڈیوٹی ایک ذلت اورتکلیف دہ عمل ہے۔ خدا را الیکشن کمشن اس پر بھی غور کرے تاکہ یہ قومی فرض خوش دلی سے سرانجام پائے نہ کہ عذاب بن کر مسلط ہوا کرے۔“ ۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2vgBmRd
via IFTTT

No comments:
Write komentar