اسلام آباد(ویب ڈیسک) مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کی بہو جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کو ستمبر 2018 میں صدر پاکستان منتخب کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی خاتون صدر ہو سکتی ہیں۔سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومروکا نام بھی صدر کے لیے پیش کیا گیا تاہم

ناصرہ اقبال کو صدر بنانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے اور نئی حکمران جماعت میں اس تجویز کو پذیرائی مل رہی ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا گیا ہے۔جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال سپریم کورٹ کے سابق جج، شاعر مشرق علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) جاوید اقبال محروم کی اہلیہ ہیں، صباح نیوز کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے نامزد وزیراعظم عمران خان نے جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کو موجودہ صدر ممنون حسین کی مدت جو 8 ستمبر 2018 کو پوری ہو رہی ہے، کے بعد صدر منتخب کرنے کی تجویز پر مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔عمران خان کی جانب سے مثبت رائے کے اظہار کے بعد جسٹس (ر) ناصرہ کو بطور صدر منتخب کرنے کے حوالے سے تیاریوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف میں اس تجویز کو پذیرائی مل رہی ہے اورسنجیدگی سے اس معاملے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ بعض حلقے یہ بھی امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ ناصرہ جاوید اقبال کی بطور صدر مملکت نامزدگی کی مصور پاکستان کی بہو ہونے کے پیش نظر اپوزیشن جماعتیں بھی حمایت کرسکتی ہیں۔دوسری جانب دناک کے بشتر ممالک مں تعناپت پاکستانی
سفر و ں کو آئندہ ہفتے تک استعفیٰ دینا ہوگا۔اقوام متحدہ، امریکا، کڈ۔ ا ،چن ، روس، سعودی عرب اور دیگر ممالک مںن تعناتت سفرا/ہائی کمشنرز اگلے ہفتے تک مستعفی ہوجائںھ گے۔تفصلاوت کے مطابق، امریکا مںت پاکستان کے سفرن علی جہانگرج صدییھ ، اقوام متحدہ مںس مستقل مندوب ڈاکٹر ملحہ لودھی، چنج مںر سفرم مسعود خالد، روس مںا قاضی خللن اللہ، سعودی عرب مںر ایڈمرل ہشام بن صدیق، کڈرم ا مںل ہائی کمشنر طارق عظم ، دبئی مںح قونصل جنرل بریڈزییئر ریٹائرڈ جاوید حسن اور 12دیگر نان کرایئر اور کانٹریکٹ پر تعنا ت سفراء اور ہائی کمشنروں کو آئندہ ہفتے تک نئی حکومت کے قاتم سے قبل اپنے استعفے دینے ہوں گے ۔علی جہانگرر صدییئ ، سدر طارق فاطمی کے بعد واشنگٹن مںل مختصر عرصے کے لےو تعناءت ہونے والے سفرب ہںئ ۔طارق فاطمی کرریئر ڈپلومٹت تھے تاہم 1999 مںل اس وقت کی پرویز مشرف کی حکومت نے انہں۔ ایک ماہ کلئے اس عہدے پر رہنے کی اجازت نہںی دی تھی۔علی جہانگرر صدییئ امریکا مںر تنر ماہ کی قللے مدت سے بھی کم سفر رہے۔بریڈ پیئر ریٹائرڈ جاوید حسن سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پہلے دور مںٹ 1990کی دہائی مںب بطور ملٹری سکرریٹری خدمات انجام دے چکےہںع۔دفتر خارجہ کے باوثوق ذرائع نے دی نویز کو بتایا ہے کہ نئی حکومت کے قارم سے قبل کم از کم تنا ریٹائرڈ فوجی جرنلز جو کہ سری لنکا، نائرکوویا اور اردن مںی سفرم /ہائی کمشنر ہںن ، انہںا بھی مستعفی ہونا پڑے گا۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2uXmGYc
via IFTTT

No comments:
Write komentar