Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 3 November 2018

اسرائیلی جہاز اور پاسباں مل گئے کعبے کو۔۔۔

 

(عارف بہار) 
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترکی روانگی کے موقع پر ان افواہوں کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر آواز بلند کررہا ہے ایسے میں اسرائیل سے تعلقات کی باتیں سرے سے بے بنیاد ہیں۔ صدر مملکت کی اس حتمی اور آخری تردید سمیت کوئی بھی حکومتی تدبیر اس معاملے میں کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی کیونکہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کا سوشل میڈیا یہ ثابت کرنے پر تلا بیٹھا تھا کہ ایک جہاز اسلام آباد ایئرپورٹ پر اُترا اور گھنٹوں قیام کے بعد پھر اُڑ گیا ۔یہاں تک کہ’’ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘کے مصداق قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے اسمبلی کے فلور پر اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وضاحت کو یہ کہہ کر قبول کیا اب اس معاملے کو ختم ہو جانا چاہئے اوریوں حکومت کی قضیئے سے جان چھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ۔

الزامات اور تردید کی یہ آنکھ مچولی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل کے ایک نامعلوم جہاز کی اس خطے بلکہ اسلام آباد ائیر پورٹ آمد اور یہاں گھنٹوں قیام کے بعد دوبارہ اُڑان بھرنے سے متعلق کئی کہانیاں اور افسانے گردش کر رہے تھے ۔اس افسانے کا آغاز ایک اسرائیلی صحافی کے ٹویٹ سے ہوا تھا جس میں اسرائیل کے ایک جہاز کی پاکستان کی حدود میں داخلے کی بات کی گئی تھی ۔جس کے بعد پاکستان کے کچھ اخبارنویسوں نے اس ٹویٹ کو اپنے تبصروں کے ساتھ ری ٹویٹ کرکے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی ۔ سابق وزیر احسن اقبال نے بھی ٹویٹ میں حکومت کو اس معاملے کی وضاحت کرنے کو کہہ کر کنفیوژن کو بڑھادیا تھا ۔جس پر فواد چوہدری نے جوابی ٹویٹ میں غیر ضروری جھنجلاہٹ کا مظاہرہ کیا ۔ یوں یہ معاملہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا اہم ترین موضوع بن گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر خیالات کے گھوڑے دوڑانے والوں اور حکومت سے حساب برابر کرنے والوں کو حکومت پر وار کرنے کا ایک نادر موقع ہاتھ آگیا تھا۔ اس طبقے کو مولانا فضل الرحمان کی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوتی نظر آرہی تھیں۔ مولانا بھی ’’میں نہ کہتا تھا ‘‘ کے انداز میں اپنی پیش گوئیوں کے سچ ثابت ہونے پر پھولے نہ سما رہے تھے ۔کچھ لوگ حکیم سعید کی کتاب کے حوالے پیراگراف اور صفحات کا ساتھ فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر کر رہے تھے ۔جن کا لب لباب یہ رہا تھا کہ عمران خان اپنے سسرال کے ذریعے یہودیوں کے پسندیدہ ہیں۔کئی ایک اس جہاز کی آمد کا تعلق سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے اقتصادی پیکج سے جوڑ کر اپنی فکر رسا کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ امداد یونہی نہیں ملتی ۔یوں لگ رہا تھا کہ اب پاکستان ماضی کی رسیاں تڑوا، رکاوٹیں گرا اور حجاب اُٹھا کر بس اسرائیل سے گلے ملنے کو تیار ہے ۔پاکستان میں ہمیشہ ایک طبقہ موجود رہا ہے جو خود کو عملیت پسند اور لبرل کہتا ہے ۔اس طبقے کا عملیت پسند دل اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں اسرائیل کے ساتھ دھڑکتا اور دھڑکنے کے لئے مچلتا ہے ۔اس کا موقف تھا کہ اب اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر ہی لینا چاہئے ۔جوں جوں اسرائیلی جہاز کی آمد کا مخمصہ بڑھتا جا رہا تھا حکومت اسی رفتار سے ایسے کسی بھی واقعے سے انکار کر رہی تھی۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایسے کسی واقعے کی سختی سے تردید کی ۔اب گتھی اس وقت سلجھی جب یہ خبرعام ہوئی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے خلیجی ریاست عمان کا خفیہ دور ہ کیا ہے ۔اسرائیلی وزیر اعظم نے واپسی تک اس دورے کو خفیہ رکھا ۔ اسرائیلی وزیر اعظم واپس پہنچے تو اس دورے اور ملاقات کا باضابطہ اعلان ہوا۔ عمان کی حکومت نے معاملے کو پوشیدہ رکھنے کی بجائے علی الاعلان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کردی ۔یہاں تک تو افسانہ افسانہ نہیں رہا بلکہ حقیقت بن گیا مگراس سے آگے کا افسانہ فقط افسانہ ہی رہا ۔افسانہ بھی اس قدر منظم کہ مسلم لیگ ن کے حامی سوشل میڈیا مجاہدین نے جو اپنے لب ولہجے اور شیریں بیانی میں اب پی ٹی آئی کے رضاکاروں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں باقاعدہ طور پر ثبوت کے طور پر ایک وڈیو بھی جا ری کی ۔جس میں اسلام آباد ایئر پورٹ پر کھڑے جہاز سے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اپنے وفد کے ساتھ اُتر رہے تھے مگر غلطی صر ف اتنی ہوئی کہ یہ اسلام آباد نہیں لندن کاہیتھرو ائر پورٹ تھا۔

عمان کی طرف اُڑان بھرنے والے اسرائیلی جہاز کو پاکستان کی جانب محو پرواز سمجھ کر یہ درفنطنی اُڑائی گئی کہ طیارے کی منزل پاکستان ہے ۔حد تو یہ کہ اپنے تئیں اس دورے کی وڈیو بھی جاری کر دی ۔جو سوشل میڈیا ہیتھرو ایئرپورٹ کو اسلام آباد ایئر پورٹ بنا کر ثبوت پیش کر سکتا ہے اس کا اعتبار اور ساکھ پر بحث کرنا قطعی فضول ہے ۔فوادچوہدری نے اسرائیلی وزیر اعظم کی پاکستان آمد کی خبروں کو کشمیریوں کی حمایت میں منائے جانے والے یوم سیاہ کو سبوتاژ کرنے اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ۔ یہ معاملہ یہیں ختم ہوتا ہے یا نہیں ۔حکومت کی تردید کام کرجاتی ہے یا صبح کے اخبار کی سرخی کی طرح شام کو یہ تندور پر روٹیاں لپیٹنے کی خاطر لٹکتا کاغذ بن جاتی ہے اس بات سے قطع نظر جب تک قضیہ فلسطین موجود ہے اور فلسطینی عوام مسئلے کے کسی حل سے متفق نہیں ہوتے پاکستان کو اپنی اسرائیل پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا۔ عالم عرب اگر اپنی مجبور یوں اور مصلحتوں کی زد میں آکر ان کے حق سے دست بردار ہوتا بھی ہے ہم نے انصاف کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے فلسطینیوں کا ساتھ دینا ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

The post اسرائیلی جہاز اور پاسباں مل گئے کعبے کو۔۔۔ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2qtqFc1
via IFTTT

No comments:
Write komentar