Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 22 December 2018

جب جنوبی پنجاب صوبہ کا مسئلہ قومی اسمبلی میں آئے گا تو اسکے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ نامور صحافی کا جاندار تبصرہ ملاحظہ کریں

 

لاہور(ویب ڈیسک) قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے اور بہاول پور کی بطور صوبہ بحالی کے لئے بل پیش کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس پر طعنوں اور مہنوں کا سلسلہ ان لوگوں کی جانب سے شروع ہوگیا ہے جن کے بارے میں خیال تھا کہ

نامور صحافی قدرت اللہ چوہدری اپنے ایک تجزیے میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں موقع ملا تو وہ سو دنوں کے اندر جنوبی پنجاب صوبہ بنا دیں گے، لیکن اب شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر کے بعد نہ صرف ان کی بلکہ پیپلز پارٹی کی نیت پر بھی شبہ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے ادوار میں جنوبی پنجاب صوبہ کیوں نہ بنوا دیا، طعنوں کا یہ سلسلہ اگر دراز ہو تو کہاں سے کہاں تک پہنچ سکتا ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں تو بہتر یہ ہے کہ یہ تعاون حاصل کرلیا جائے، کیونکہ اس کے بغیر تحریک انصاف صوبہ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی، لیکن عملی طور پر صورت حال یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے یہ اعلان کیا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ جولائی میں کام شروع کر دے گا، اس اعلان میں یہ حقیقت بھی کہیں نہ کہیں چھپی ہوئی ہے کہ فی الحال صوبہ تو نہیں بن سکتا، اس لئے سیکرٹریٹ پر ہی گزارا کیا جائے، ہر چند کہ تحریک انصاف نے یہ اعلان کیا تھا کہ اپنے

اقتدار کے ابتدائی سو دنوں ہی میں وہ جنوبی پنجاب صوبہ بنا دے گی اور یہ اعلان ان سیاسی رہنماؤں کی موجودگی میں کیا تھا جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا تھا لیکن اب جبکہ اس محاذ کے کرتا دھرتا وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں، انہیں صوبہ بنانے کی کوئی جلدی بھی نہیں اور تحریک انصاف تو سیاسی حکمت عملی کے تحت بھی صوبہ نہیں بنانا چاہے گی، کیونکہ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بن جاتا ہے تو باقی ماندہ صوبے میں اس کی اکثریت باقی نہیں رہے گی۔ اس لئے اسے کیا پڑی ہے کہ جنوبی پنجاب کے اقتدار کے لئے باقی ماندہ پنجاب کی حکومت سے خود کو محروم کرلے۔ ویسے بھی وزیراعلیٰ پنجاب جس جوش و جذبہ سے پورے صوبے کی خدمت کا داعیہ لے کر اٹھے ہیں، وہ ایک نسبتاً چھوٹے صوبے کی تنگنائے میں محبوس ہونا پسند نہیں کریں گے، کیونکہ آنے والے دنوں میں انہوں نے اپنے آپ کو ’’وسیم اکرم پلس‘‘ ثابت کرنا ہے، جبکہ وہ ایک ایسے صوبے کے حکمران ہیں جو نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ دنیا کے درجنوں ملکوں سے بھی رقبے اور آبادی میں بڑا ہے، اس لئے شہباز شریف بدنیت ہیں یا خوش نیت، صوبے کے حامیوں،

مخالفوں دونوں کو یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ نہیں بن رہا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں تو حکومت کو چند ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، وفاق میں تو اس کا سارا اقتدار غیروں کا مرہون منت ہے، اگر ایک جماعت بھی اقتدار سے الگ ہو جائے تو حکومت کے چاروں پائے ہل جاتے ہیں، ویسے بھی خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے مسئلے پر بی این پی (مینگل) اور ایم کیو ایم پاکستان اپوزیشن کا ساتھ دیتی رہی ہیں، یہاں تک کہ حکومت کے رکن ریاض فتیانہ نے بھی اس معاملے میں سعد رفیق کے موقف کی حمایت کی اور یہ تک کہہ گزرے کہ وہ تیس سال سے خواجہ سعد رفیق کو جانتے ہیں اور ان کے خیال میں انہوں نے کرپشن نہیں کی ہوگی، اب اگر متذکرہ دو جماعتوں کے اختلافات کا دائرہ پھیل جائے تو وفاقی حکومت ویسے ہی لڑکھڑا جاتی ہے، ایسے میں جنوبی پنجاب کے لئے آئینی ترمیم کی خاطر دو تہائی اکثریت کیسے ملے گی، اس کا حل اس کے سوا نہیں کہ حکومت کو اگر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی (یا دونوں) کی حمایت مل جائے تو یہ معاملہ حل کرلیا جائے،

لیکن اس کے لئے خواجہ محمد آصف نے ایک کڑی شرط بھی رکھ دی ہے کہ اگر وزیر بولنا کم کر دیں تو معاملہ بہتری کی طرف جاسکتا ہے، لیکن شاید ایسا ممکن اس لئے نہ ہو کیونکہ ساری رونق ہی انہی وزیروں کے بیانات کی بدولت لگی ہے جو ہر بیان کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کو اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں، جیسے یہ جواب کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں صوبہ کیوں نہ بنایا۔ حکومت کی اہم ترین حلیف جماعت مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ بڑی شد و مد سے بہاول پور صوبے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے بغیر وہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ اس تجویز کے بھی حامی نہیں کہ بہاولپور کے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے کا دارالحکومت ملتان کی بجائے بہاولپور کو بنا دیا جائے، اس لئے موجودہ حالات میں یہ تو نہیں لگتا کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں جنوبی پنجاب صوبہ بن سکے یا بہاولپور کو صوبائی حیثیت مل سکے، البتہ وقتاً فوقتاً اس کڑی میں ابال ضرور اٹھتا رہے گا، وجہ اس کی یہ ہے کہ جو حضرات صوبے کے قیام کی تجویز کے بڑے پرجوش موید ہیں، اپنی نجی محفلوں میں وہ بھی اس ضمن میں اظہار مایوسی کرتے پائے گئے ہیں۔ البتہ اگر شہباز شریف یہ تجویز اسمبلی میں لے آئے تو پھر بہت سے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے، جنوبی پنجاب کے حامیوں کو بھی پتہ چل جائے گا کہ ان کے مطالبے کی حمایت کون کر رہا ہے اور مخالف کون ہے؟

The post جب جنوبی پنجاب صوبہ کا مسئلہ قومی اسمبلی میں آئے گا تو اسکے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ نامور صحافی کا جاندار تبصرہ ملاحظہ کریں appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://bit.ly/2EK2nDU
via IFTTT

No comments:
Write komentar