چیئرمین نیب کے پنجاب حکومت کے خلاف بیانات کا ملکی سیاست پر کیا اثر ہو گا؟ ملاحظہ کیجیےسینئر تجزیہ کار کا ملکی سیاست پر بے باک تبصرہ
کراچی(ویب ڈیسک )سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے آئین کے تحت ہر فیصلہ رابطہ کمیٹی کرتی ہے، رابطہ کمیٹی آئینی طور پر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹاسکتی ہے ، رابطہ کمیٹی نیا گروپ بنانے یا فاروق ستار کو نکالنے کے بجائے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا سوچ رہی ہے، چیئرمین نیب کی پنجاب حکومت کے افسران سے عدم تعاون کی شکایت کی وجہ شہباز شریف ہیں۔
پنجاب حکومت کے ادارے حکمران اشرافیہ کو بچانے کیلئے نیب کو ریکارڈ نہیں دے رہے ،چیئرمین نیب کو عدم تعاون پر بیان دینے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہئے،دانیال اور طلال کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مشورہ مانتے ہوئے عدالت میں معافی مانگ لینی چاہئے،جو وزراء اپنے وزیراعظم کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے وزیراعظم کو انہیں کابینہ سے نکال دینا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار مظہر عباس، افتخار احمد، ارشاد بھٹی، شہزاد چوہدری، بابر ستار اور حفیظ اللہ نیازی نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال آئین کے تحت ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کنوینر لا بھی سکتی ہے اور بدل بھی سکتی ہے کیا رابطہ کمیٹی فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے جارہی ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی آئینی طور پر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹاسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کرے گی، رابطہ کمیٹی نیا گروپ بنانے یا فاروق ستار کو نکالنے کے بجائے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا سوچ رہی ہے، ایم کیو ایم کے آئین کے تحت ہر فیصلہ رابطہ کمیٹی کرتی ہے۔
پارٹی آئین میں کبھی بھی کنوینر کو غیرمعمولی اختیارات نہیں دیئے گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کچھ عرصہ پہلے غیرمعمولی اختیارات کنوینر کے پاس لینے کی کوشش کی لیکن رابطہ کمیٹی کے شور مچانے پر وہ ترامیم واپس لے لی گئی تھیں، ایم کیوا یم میں رابطہ کمیٹی ہمیشہ بااختیار رہی ہے، الطاف حسین کے دور میں بھی چاہے دکھاوے کیلئے لیکن فیصلے رابطہ کمیٹی ہی کرتی تھی، سینیٹ الیکشن کیلئے نامزدگی کے حوالے سے رابطہ کمیٹی کے فیصلے ہی مانے جانے چاہئیں۔فاروق ستار کو رابطہ کمیٹی کی جانب سے دیئے گئے چار ناموں کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ آج الطاف حسین بہت خوش ہوں گے، وہ فون کان سے لگا کر اپنا پرانا گانا گارہے ہوں گے، ایم کیوا یم میں مفادات، چودھراہٹ، پیسے ، طاقت اور اقتدار کا بحران ہے، جب تک ایک میان میں دو تلواریں ہوں ایسے بحران ختم نہیں ہوتے ہیں، ایم کیو ایم میں فاروق ستار گروپ علیحدہ جبکہ دوسرا گروپ علیحدہ پارٹی بن جائیں گے۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کے نام پر رجسٹرڈ ہے اس لئے سینیٹ الیکشن کیلئے فاروق ستار کی بھیجی گئی فہرست مانی جائے گی، ایم کیوا یم کے مزید حصے بخرے ہوتے نظر آرہے ہیں،
بہادرآباد والوں کو بھی شاید پارٹی کی تقسیم کا یہی خطرہ نظر آرہا ہے، جو کچھ بھی ہوجائے سب اکٹھے ہوجائیں گے، رابطہ کمیٹی کچھ بھی کرتی رہےبالآخر بات فاروق ستار کی مانی جائے گی۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی فاروق ستار کو عہدے سے نہیں ہٹائے گی، ممکن ہے اگلے چوبیس گھنٹے میں ایم کیو ایم کے دونوں گروپس اکٹھے ہوجائیں۔بابر ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایم کیو ایم کے آئین کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرے گا کہ سینیٹ الیکشن میں رابطہ کمیٹی یا فاروق ستار میں سے کس کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی قبول کیے جائیں۔دوسرے سوال اب تک مسکرا کر برداشت کیا، آئندہ شکایت ہوئی تو حکومت پنجاب کے افسران کیلئے بڑی مشکل ہوجائے گی، چیئرمین نیب، شہباز شریف کے نیب کے ساتھ تعاون کے دعوے کے باوجود عدم تعاون کی شکایت کیوں؟ کاجواب دیتے ہوئے افتخار احمد نے کہا کہ حکومت پنجاب کے اداروں کو نیب سے تعاون کرنا چاہئے، ہر افسر کی وفاداری کسی شخص کے بجائے ریاست سے ہونی چاہئے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی کارکردگی قابل تحسین ہے، وہ بغیر کسی امتیاز اور دباؤ میں آئے بغیر کام کررہے ہیں، پنجاب حکومت کے ادارے حکمران اشرافیہ کو بچانے کیلئے نیب کو ریکارڈ نہیں دے رہے ہیں۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://ift.tt/2C90qLu
via IFTTT
No comments:
Write komentar