Technology

Ads

Most Popular

Monday, 26 February 2018

یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔۔واچ لسٹ میں تین ماہ کی مہلت ملتے ہی وزارتِ داخلہ نے حافظ سعید کے حوالے سے دنگ کر دینے والا قدم اُٹھا لیا

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاونڈیشن سے متعلق قانون سازی کرلی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں احسن اقبال نے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کااعلامیہ نہیں آجاتا اس پربات نہیں کرنی چاہیے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا

کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام ہدایات پر عملدرآمد کرلیا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے، یہ اقدامات کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے کیے ہیں۔احسن اقبال نے جماعت الدعوۃ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سے متعلق قانون سازی کرلی گئی ہے۔نی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ہے۔18 سے 23 فروری تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے سینکڑوں عالمی مندوبین کے علاوہ اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔چھ دن جاری رہنے والا یہ اجلاس اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ اس میں پاکستان کو دوبارہ ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے کی تجویز زیرِغور ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت کا عمل روکنے میں ناکام رہے ہیں۔اس بارے میں مزید پڑھی* فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شر* اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمیں پاکستان میں کالعدم* امریکی جارحانہ بیانات سود مند ثابت نہیں ہوں گے: پاکستاناطلاعات کے مطابق امریکہ اور برطانیہ اس اجلاس میں ایک قرارداد پیش کرنے والے ہیں کہ پاکستان کا نام دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے میں عدم تعاون کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔ اس قرارداد کو ممکنہ طور پر فرانس اور جرمنی کی حمایت بھی حاصل ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو شدید معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ایف اے ٹی ایف کیا ہےفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے

کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک ‘پالیسی ساز ادارہ’ ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ئن الیون کے بعد ایف اے ٹی ایف کی خاص توجہ دہشت گردی کے لیے رقوم فراہم کرنے کو روکنا ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ مختلف ملکوں کے قوانین پر بھی نظر رکھتا ہے اور ان میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے مشورے دیتا ہے۔سنہ 2000 کے بعد سے ایف اے ٹی ایف وقتاً فوقتاً ایک فہرست جاری کرتی ہے، جس میں ان ملکوں کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو اس کے خیال میں کالے دھن کو سفید کرنے اور دہشت گردی کی مالی پشت پناہی سے روکنے کی سفارشات پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔اکستان کو دوبارہ کیوں شامل کیا جا رہا ہےپاکستان 2012 تا 2015 اس فہرست کا حصہ رہ چکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔اس سال کے شروع میں انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘امریکہ پاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دے چکا ہے مگر اس کے بدلے میں صرف دھوکہ اور فریب ملا ہے۔’گذشتہ برس اگست میں صدر ٹرمپ جنوبی ایشیا کے بارے

میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھی پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟اب امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے، جس پر پاکستان کو سخت تشویش ہے۔جمعرات کو وزیرِ مملکت برائے مالیات رانا محمد افضل نے سینیٹ کو بتایا کہ اس فہرست میں نام آنے سے پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اس عمل کے ‘سیاسی مقاصد ہیں۔’مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکہ ہو گا۔سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی پیمنٹ، یا سافٹ لون آنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔’عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان شمولیت کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آ گیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔(ع،ع)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://ift.tt/2FwJYIq
via IFTTT

No comments:
Write komentar