Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 23 December 2018

مرنا اسی کا نام ہے ۔۔۔۔۔ توفیق بٹ

 

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ کالم میں، میں نے ممتاز اداکار علی اعجاز مرحوم کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا ذکر کیا تھا جو غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی ایک تقریب میں ہوئی، انہوں نے اپنا ”فنکاری کھنگورا“ مارکر مجھے اپنی جانب متوجہ کروایا تو انہیں اپنے ساتھ بیٹھا دیکھ کر میری روح راضی ہوگئی۔ میں نے عرض کیا

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”ہم آپ کے کھنگورے کو بہت مس کرتے ہیں، انہوں نے مجھے کھنگورے کا ایک بڑا دلچسپ واقعہ سنایا ، ان کے محلے میں دو بابے رہتے تھے، ایک کا نام مولا بخش دوسرے کا علی بخش تھا، ناموں کے اعتبار سے اکثر لوگ ان دونوں کو سگا بھائی سمجھتے تھے، اک روز دونوں اکیلے بیٹھے حقہ پی رہے تھے، علی اعجاز ان سے ملنے گئے اور مولا بخش سے پوچھا ” چاچا جی اج کل کیویں گزر دی اے؟“۔مولابخش بولا ”بس پتر کجھ نہ پچھ اج کل کیویں گزردی اے ؟“….پھر انہوں نے چاچے علی بخش سے پوچھا ”تسی دسو چاچا جی تہاڈی اج کل کیویں گزردی اے ؟“۔علی بخش بولا ” بس پتر میں آج کل نیچے والی منزل پر ہوتا ہوں اور تمہاری چاچی گھر کے اوپر والی منزل پر ہوتی ہے ۔ وہ اوپر خوش میں نیچے خوش …. علی اعجاز نے پوچھا” اچھا چاچا جی اے دسو تہاڈا اکٹھے بیٹھن نوں دل نئیں کردا ؟“…. علی بخش بولا ”ہاں جب دل کرتا ہے میں نیچے کھڑکی سے منہ اوپر کرکے زور سے کھنگورامارتا ہوں، تمہاری چاچی سمجھ جاتی ہے ، وہ نیچے آجاتی ہے ، ہم جی خوش کرلیتے ہیں، ….

علی اعجاز نے پوچھا ”تے چاچا جی جدوں چاچی ہوراں دا دل خوش کرن نوں دل کرے اوہ کی کردیاں نیں؟“….” وہ پھراوپر کھڑکی سے منہ باہر نکال کر اونچی آواز میں مجھ سے پوچھتی ہے “ تسی کھنگورا تے نئیں ماریا ؟“…. علی بخش نے جواب دیا …. میں بھی ایسا ہی ایک واہیات واقعہ علی اعجاز کو سنانا چاہتا تھا مگر اس لمحے کشمالہ طارق ہمارے ساتھ آکر بیٹھ گئیں اور مجھے واہیات واقعہ سنانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی، …. اس تقریب میں علی اعجاز سے بہت گپ شپ ہوئی۔ انہوں نے بتایا وہ بہت عرصے سے بیمار ہیں اور تقریبات وغیرہ میں نہیں جاتے، مگر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی تعلیمی اور انسانی خدمات کی وجہ سے یہاں آنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پھر میرے کان میں انہوں نے پوچھا ”عطا ءالحق قاسمی کا کیا حال ہے ، وہ آج کل کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کیا ”وہ آج کل وہاں ہیں جہاں ہم ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، وہ آج کل سرکاری ٹیلی ویژن کے چیئرمین ہیں “ …. میری بات سن کر بڑے معنی خیز انداز میں کہنے لگے ”اچھا چیئرمین داکی کم ہوندا اے ؟“ …. اس وقت تو میں انہیں تفصیل نہیں بتا سکا مگر بعد میں جب سپریم کورٹ میں ان کا کیس چلا

ہمیں بھی پہلی بار پتہ چلا حکمرانوں کا پسندیدہ چیئرمین کیا کیا کارنامے کرسکتا ہے “ …. مجھے نہیں پتہ جناب عطا الحق قاسمی نے سرکاری ٹی وی کے اپنے قیمتی پروگرام ” کھوئے ہوﺅں کی جستجو“ میں اپنی ڈرامہ سریل خواجہ اینڈ سن کے منفرد ترین کردار علی اعجاز کو بطور مہمان بلایا تھا یا نہیں ؟ اگر بلایا تھا یہ اچھی بات ہے ، نہیں بلایا تو میں سمجھتا ہوں جوکچھ اس پروگرام کی وجہ سے سپریم کورٹ میں ان کے ساتھ ہوا یہ شاید علی اعجاز جیسے اوریجنل فنکاروں کو نہ بلانے کی سزا ہے ۔ بہرحال یہ علی اعجاز کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی جس میں وہ رخصت ہونے لگے میں نے ان کی گاڑی کا دروازہ کھول کر انہیں بٹھایا بے شمار دعائیں دینے کے بعد مجھ سے کہنے لگے ”بٹ جی ملدے ریا کرو“ ….زندگی داکی پتہ اے “ ….میں نے ان سے وعدہ کیا بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ “ کہنے لگے ”اچھا جدوں آﺅتے عطا الحق قاسمی نوں وی نال لئی آنا “ …. میں ان سے نہیں کہہ سکا کہ یہ اپنے بس کی بات نہیں اس کے لیے تو آپ کو کم ازکم میاں نواز شریف (اس وقت کے وزیراعظم) سے گزارش کرنی پڑے گی ۔…

.اس کے بعد میں اڑھائی ماہ کے لیے امریکہ اور کینیڈا چلا گیا، واپس آکر میں نے انہیں فون کیا میں حاضر ہونا چاہتا ہوں، وہ بولے ”طبیعت کچھ ٹھیک نہیں، آپ کچھ دن بعد آجانا“ …. ابھی پچھلے دنوں کراچی سے میرے عزیز چھوٹے بھائی ممتاز ٹی وی آرٹسٹ اور اندر باہر سے ایک جیسے خوبصورت انسان احسن خان نے مجھے بتایا کہ وہ لاہور آرہے ہیں۔ میں نے سوچا میں انہیں ساتھ لے کر علی اعجاز کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ وہ احسن خان سے مل کر خوش ہوں گے کیونکہ وہ اپنے سے جونیئر فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ایک تقریب میں، میں ان کے ساتھ کھڑا تھا جب اداکار عجب گل سے وہ کہہ رہے تھے ”یارتوں تے فن وچ میرے توں اگے نکلدا جاریا ایں“ ۔….عجب گل نے عاجزی سے ان کے قدموں کو ہاتھ لگایا اور کہا ”اللہ نہ کرے میں تہاڈے توں اگے نکلاں“ ….اس پر عجب گل کا پیار سے انہوں نے ماتھا چوم لیا ….پچھلے کچھ دنوں سے مجھے ان کی یاد ستارہی تھی۔ میں نے سوچا انہوں نے مجھ سے کہا تھا کچھ دن بعد آجانا ، اب کتنا عرصہ بیت گیا ہے میں نے دوبارہ ان سے رابطہ ہی نہیں کیا،

میرا جی چاہ رہا تھا کسی ذریعے سے عطا ءالحق قاسمی کو بھی پیغام بھجواﺅں وہ آپ کو یاد کرتے ہیں اپنی ”قیمتی مصروفیات“ میں سے تھوڑا وقت نکال کر ان سے مل آئیں، میں یہ سب سوچتا ہی رہ گیا ان کے انتقال کی خبر آگئی، وہ بہت بڑے فنکار تھے، انسان اس سے بھی بڑے تھے، وہ انسان کسی صورت میں برا ہوہی نہیں سکتا جسے دیکھ کر لوگ ہنسنے مسکرانے لگیں، آج کل کسی ڈرامے میں کسی کو ”چھابڑی والے“ کا رول مل جائے اس کی اکڑپھوں دیکھنے والی ہوتی ہے ، علی اعجاز کا جب فن کی دنیا میں طوطی بولتا تھا تب بھی عاجزی وانکساری کا وہ ایسا پیکر تھے جس کا ہمارے ہاں تصور بھی اب محال ہے …. مجھے اس بات کا بھی افسوس رہے گا یہ انکشاف مجھ پر ان کے جنازے میں ہوا آخری وقت میں ان کے مالی حالات اچھے نہیں تھے، خوددار لوگ ایسی باتوں کا پتہ ہی نہیں چلنے دیتے، ورنہ میں خود بھی ان کے لیے کچھ کرتا اور حکومت میں موجود اپنے دوستوں سے بھی کہتا ان کی خدمت کرکے اپنا مقام بلند کریں، ….یہ بھی بڑے افسوس کا مقام ہے ان کے جنازے پر کوئی حکومتی شخصیت موجود نہیں تھی، وزیراطلاعات وثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان کو اپنے سیاسی مخالفین کی مذمت وغیرہ کر یا بڑھکیں وغیرہ لگاکر پارٹی قیادت کو خوش کرنے کے علاوہ بھی کچھ کرنا چاہیے۔ ان کے موجودہ سرکاری منصب کا بنیادی تقاضا ہی یہی ہے فن اور فنکار کی دل سے عزت کریں، افسوس ہم اپنے ”ہیروز“ کی بھی عزت نہیں کرتے جبکہ جن معاشروں پر مختلف حوالوں سے ہم گرجتے برستے ہیں وہ اپنے ”جانوروں“ کی بھی عزت کرتے ہیں، پچھلے برس مجھے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں جگہ جگہ بورڈ لگے تھے جن پر لکھا تھا "Please Respect our animals”…. میں سوچ رہا تھا یہ کیسے عجیب وغریب لوگ ہیں جو اپنے جانوروں کو بھی عزت دیتے ہیں، اور دوسروں سے دلواتے بھی ہیں، …. ایسے ہی رب کسی کو نہیں نواز دیتا….علی اعجاز ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مرتے اصل میں وہ ہیں جو اپنے فنکاروں اور ہیروز کی قدر نہیں کرتے۔ !!(ش س م)

The post مرنا اسی کا نام ہے ۔۔۔۔۔ توفیق بٹ appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://bit.ly/2LwAcJc
via IFTTT

No comments:
Write komentar