Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 30 September 2018

جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا تھیٹر

 

(ثاقب اکبر)

25 ستمبر 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس خطاب پر پوری دنیا میں تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ خود امریکی صدر کے خطاب کے دوران میں ایک موقع پر تمام حاضرین ہنس پڑے۔ ان کی ہنسی اس امر کا اظہار تھی کہ امریکی صدر کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، امریکی صدر بھی اس ہنسی پر متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے اس ردعمل کی توقع نہ تھی، لیکن چلو خیر ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ رکن نکولس برنز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دنیا کی رہبری نہیں کر رہے بلکہ اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

ایک ممتاز امریکی مبصر کے مطابق ٹرمپ کا خطاب ہم سب کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ ایک اور مبصر کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عالمی صورت حال میں بگاڑ کی ایک وجہ بے سمتی کی شکار امریکی ڈپلومیسی، جنگجویانہ مہم جوئی، عالمی قیادت، بالادستی اور وسائل پر قبضہ گیری کی ہوس ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب کا موازنہ کرتے ہوئے بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلی تقریر میں ٹرمپ نے جنگ کا بگل بجایا تھا، مگر اس بار ان کا خطاب تھریٹ کے بجائے تھیٹر کے مکالموں تک محدود رہا،

وہ مضحکہ خیز بڑھکیں ضرور مارتے رہے۔ ٹرمپ کی تقریر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تقریباً 200 سے زائد مندوبین اور وفود نے سنی، لیکن ان کی باتوں پر تالیوں کی گونج کا کوئی فطری منظر دیکھنے میں نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ کی تقریر زیادہ تر بین الاقوامی امور سے متعلق تھی۔ انہوں نے ایران کے خلاف جو کچھ کہا، اس پر معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے یہ سرخی جمائی ”ایران ٹرمپ کا تختہ مشق بنا رہا۔” ایک مبصر کے مطابق اپنے متن کی روح کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا خطاب دھمکیوں کا اعادہ تھا،

جو رقیبوں کو خبردار کرنے تک محدود رہا، ٹرمپ حسب عادت خوب گرجے برسے، لیکن جنوبی ایشیائی ملکوں سمیت دنیا کے بیشتر حساس معاملات اور مسائل پر ان کی طرف سے کوئی بامعنی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔بظاہر تو صدر ٹرمپ نے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن ان کی ایک بات کا ہدف پاکستان بھی ضرور تھا،کیونکہ انہوں نے کہا کہ بے وفا دوستوں اور امریکہ کا احترام نہ کرنے والوں کو امریکہ سے امداد کی توقع نہیں رکھنا چاہیئے۔وہ یہی بات واشگاف الفاظ میں اور اس سے زیادہ سخت الفاظ میں پاکستان سے بلاواسطہ کہہ چکے ہیں۔ سرکاری طور پر تو امریکہ نے سانحہ اہواز کی مذمت کی،

لیکن قبل ازیں بھی بعض امریکی اہلکار ایران کے یوم دفاع پر ہونے والے اس واقعے کا ذمہ دار بالواسطہ خود ایرانی حکومت کو قرار دے چکے ہیں۔ گویا امریکی حکومت کو ایسے واقعات پر اطمینان خاطر حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ امریکی صدر نے بھی اپنی تقریر میں ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ وہ دہشتگردی کے ایسے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ایرانی قوم کا غصہ جائز ہے، کیونکہ ایرانی راہنما قومی وسائل ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔فلسطین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن چاہتے ہیں، اسی مقصد کے لئے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس یعنی یروشلم منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بات بالکل ایسی ہی ہے، جیسی جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم برسانے کے بعد امریکہ کی طرف سے کہی گئی تھی کہ ایسا جنگ بند کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ ٹرمپ سیدھے حقائق کا ایسے انکار کرتے ہیں، جیسے کسی کو ان کی کوئی بات سمجھ ہی نہیں آئے گی۔بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے پر تقریباً ساری دنیا نے امریکہ کی مذمت کی تھی اور اسے خطرناک اقدام قرار دیا تھا بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے بھی اسرائیل کے خلاف انتفاضہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس فیصلے پر کہا تھا کہ یہ خطے میں عالمی تکبر کی نئی مہم ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ، مصر کے صدر عبدالفتاح سیسی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی اس فیصلے کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا تھا۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

امریکی صدر کے اس فیصلے پر چین، روس، فرانس بولیویا، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ، جرمنی اور یوراگوائے نے بھی تنقید کی تھی۔ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے بھی اس امریکی فیصلے کی مذمت کی تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرے کئے گئے، لیکن امریکی صدر بہت ڈھٹائی سے اس فیصلے کو امن کی طرف پیش رفت قرار دے رہے تھے۔جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو دنیا میں اپنے راستے پر چلنے کا حق ہونا چاہیئے،

لیکن دوسری طرف وہ دیگر ممالک کو یہی حق دینے کے لئے آمادہ نہ تھے۔ انۃوں نے کئی ایک ممالک کے خلاف گفتگو کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد مزید پابندیاں عائد کرنے پر پھر زور دیا اور دنیا کو دھمکی دی کہ اس سلسلے میں جس کسی نے بھی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی، اسے بھی خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیئے، جبکہ امریکہ کے علاوہ تمام بڑی طاقتیں ابھی تک اس جوہری معاہدے کا حصہ ہیں، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منظور کرچکی ہے۔ گویا وہ دیگر تمام عالمی طاقتوں کو اس حوالے سے اپنی دھمکیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔

وینزویلا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا حقیقی معنی میں دنیا کی بری جگہوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والی تنظیم اوپیک، چین کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی عدالت انصاف پر بھی شدید تنقید کی۔ گویا وہ مسلسل دھمکیوں سے کام لے رہے تھے۔ گذشتہ برس کے اجلاس میں انہوں نے ایٹمی حملے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ اس برس اس درجے کی دھمکی تو نہیں دی، لیکن پھر بھی ان کے منہ سے جھاگ ہی نکل رہی تھی۔امریکی صدر کی اس صورتحال سے خود امریکہ کے جہاں دیدہ اور مدبر افراد نالاں ہیں۔ یہاں تک کہ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود اہلکار بھی صدر ٹرمپ کے رویئے اور طرز عمل پر شاکی ہیں۔

رواں مہینے (ستمبر 2018) کے شروع ہی میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا ایک مضمون امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، جس میں لکھا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اخلاقیات سے عاری ہونے اور ان کی جلد بازی کی وجہ سے بنا سوچے سمجھے کئی غلط فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اہلکار ملک کو صدر سے بچانے کے لئے ایک انتظامی مزاحمت کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ کچھ اہم دستاویزات تک صدر کی میز سے غائب کر دیتے ہیں، تاکہ وہ ان پر دستخط نہ کرسکیں۔

مضمون میں صدر پر کی جانے والی تنقید میں غیر جمہوری رویہ، آزاد میڈیا سے ناخوشی، فیصلوں پر قائم نہ رہنا، جلد بازی، تنگ نظری اور غیر منظم ہونا جیسے الزامات شامل ہیں۔بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس مضمون کے مطابق کچھ اہلکاروں نے آئین میں پچیسویں ترمیم کے بارے میں بھی دبے لفظوں میں بات کی ہے، جس کے تحت نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت ایک ایسے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے ووٹ کرسکتے ہیں، جو اپنے اختیارات کے صحیح استعمال اور فرائض انجام دینے میں ناکام رہے۔

ایک طرف پوری دنیا امریکی صدر پر ہنس رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ان کی دھمکیوں کی وجہ سے دنیا پر خطرات بھی منڈلا رہے ہیں، جبکہ داخلی طور پر بھی صدر ٹرمپ کے بارے میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ ضروری ہوگیا ہے کہ دنیا اور خود امریکہ کو کسی گرداب میں جانے سے پچانے کے لئے عالمی سطح پر ایک سنجیدہ کوشش کا آغاز کیا جائے۔ یورپی یونین خاص طور پر جی سیون کے ممالک کو اس حوالے سے پیش قدمی کرنا چاہیئے۔ عالمی مذہبی راہنماؤں کو بھی ایسی کوششوں میں شامل کرنا چاہیئے۔

امریکہ کے اندر موجود موثر حلقوں کو بھی شریک کیا جانا چاہیئے۔ کئی ایک سابق امریکی صدور بر سرعام ٹرمپ پر تنقید کرچکے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی رائے عامہ کو مزید حقائق سے آشنا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس پیش قدمی کی فوری ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹرمپ کوئی ایسا اقدام کر بیٹھیں جس کی تلافی پھر ممکن نہ ہوسکے۔

The post جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا تھیٹر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2y1t9Sz
via IFTTT

صدر ٹرمپ کا بیانیہ:قومی مفاد بمقابلہ عالمی مفاد

 

(ڈاکٹر مجاہد منصوری)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس سے خطاب میں حسب عادت اپنی مخصوص صدارتی بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑا کھو کھلا بیانیہ عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے ۔ کہا کہ ’’میں گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کے نظریے کو مسترد کرتا ہوں، امریکہ اب اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرے گا اور اپنے دوستوں کی ہی مدد کرے گا‘‘۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اور الیکشن دونوں سے ہی واضح ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل، بھارت اور برطانیہ کو ہی امریکہ کے حقیقی اور فطری حلیف سمجھتے ہیں۔

سابقہ چار امریکی انتظامیہ نے بھی ان تینوں ملکوں کو یہ درجہ دیا تھا لیکن وہ یورپی یونین خصوصاً برطانیہ کو خارجی امور میں اولین ترجیح دیتے رہے جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنے ان بڑے روایتی فطری حلیفوں اور ہمسائے کینیڈا تک سے اپنی ریزرویشن کو عام کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی اور اسرائیل اور بھارت کے ساتھ تو وہ بہت دور تک جانے کیلئے مکمل آمادہ معلوم دیتے ہیں، بشرطیکہ انہیں دوسری ٹرم ملی۔خارجی امور اور تعلقات عامہ میں ’’قومی مفاد‘‘ کی ہی اصلی حقیقت کو پاکستان نے صدر ٹرمپ سے بھی بہت پہلے اختیار کیا جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان،

فرنٹ لائن پارٹنر کے طور امریکی چھتری میں کردار ادا کر رہا تھا۔ تو پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر کابل میں دوست طالبان حکومت سےبھی یکدم نظریں چرالی تھیں۔ بھارت کی امریکہ کو اپنے ائیر بیسز استعمال کرنے کی پیشکش کے مقابل، فوری اور آسان تر شرائط پر پاکستانی اڈے امریکہ کے استعمال کیلئے اس کے حوالے کئے۔ غلط یا درست سفارتی اندازے درست تھے یا غلط حکومت پاکستان اپنی جانب سے سب کچھ فقط پاکستان کے مفاد کیلئے کر رہی تھی ۔

اس میں تو دوست دوست کی کوئی پروا نہیں کی جا رہی تھی۔ آج صدر ٹرمپ نے بھی امریکہ کیلئے ، سابق صدر مشرف کے بیانیے کی طرز پر عین یہی نعرہ بلند کیا ہے کہ ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘۔امر واقعہ یہ ہے کہ اپنی اپنی حیثیت ، پوزیشن اور کیپسٹی کے مقابل سب ہی اقوام کے اپنے ’’قومی مفادات‘‘ ان کے خارجی تعلقات کا مرکز و محور ہوتےہیں۔ یہ دھوکہ اور فریب عالمی سطح کی سفارتی منافقت ہی رہی کہ بڑی طاقتیں اور ان کے چھوٹے بڑے کمزور اور تگڑے حلیف بھی ہرقیمت پر اپنے ’’قومی مفادات‘‘ کے تحفظ کیلئے عالمی و علاقائی امن و استحکام اور پر امن بقائے باہمی کا غلاف اوڑھے رہے۔

صدر ٹرمپ کے مقابل امریکی انتخابات 16ءمیں صدارتی امیدوار اور اوبامہ انتظامیہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں امریکی پالیسی سازوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہماری طرح پاکستان بھی اپنے قومی مفادات کے حوالے سے ریزرویشن رکھتا ہے، جو ہمارے پاکستان سے مطلوب نوعیت کے تعلقات میں رکاوٹ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاسی نوعیت کے تعلقات، اقتصادی مفادات اور سیاسی اثرورسوخ کے حوالے سے عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی کوئی حقیقت نہیں تھی ،

وگرنہ تو دنیا کو عالمی برادری کے طور تشکیل دینے کیلئے جغرافیائی سرحدوں کے احترام، عالمی امن اقوام کے حق خود ارادیت، آزادی و خود مختاری کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کا چارٹر پر عملدرآمد سچی اور حقیقی عالمگیریت کی ضمانت بنتا لیکن طاقتور ممالک نے اپنے حریف یا حلیفوں کے حریفوں کے جائز ترین مفادات کے حصول اور تحفظ کیلئے جو پوزیشن لی وہ قومی مفادات کی آڑ میں اقوام متحدہ کے چارٹر سے کھلم کھلا متصادم ہے۔ سو ’’قومی مفادات‘‘ کی غلط یا درست حقیقت نے (یہ دونوں شکلوں میں موجود ہیں) اقوام متحدہ کے چارٹر کو فریزکر کے رکھ دیا ہے۔یہ عالمی المیہ طاقتور ملکوں کے ’’قومی مفادات‘‘ کی آڑ میں کیسے ہوا،

کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حشر ، اور اس حوالے سے بڑے بڑے طاقتور ممالک کا خارجی تعلقات کے حوالے سے رویہ، عالمی امن و استحکام اور عالمی معاشرے کی اصل حقیقت کو کھولنے کے لئے کافی ہے۔گلوبلائزیشن کی اصل حقیقت جو واقعی عمل میں ڈھلتی نظر آ رہی تھی، اسے بھی مکمل شعوری کوششوں کے ساتھ متنازعہ بنا کر منفی شکل میں ڈھال دیا گیا۔ ایسے کہ کینیڈین سوشل سائنٹسٹ ، پروفیسر مارشل مکلو ہن 1911-80)) دنیائے ابلاغ کا وہ مایہ ناز میڈیا سکالر تھا ۔

جس کی دنیاکے سکڑتے ہوئے گلوبل ویلج بن جانے Visualization عمل میں ڈھلتے ہوئے واقعی گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کی شکل اختیار کر گئی، جس نے عالمی سیاست اور اقتصادیات کو بلند درجے پر متاثر کیا۔ مکلوہن نے گلوبل ویلج کا جو تصور اپنی کتابوں سے دنیا کو 60کے عشرے کے اوائل میں دکھایا تو یہ کوئی ہوا میں نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد ’’کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی معجزاتی پیش رفت اور عالمی انسانی معاشرے پر اس کے حیرت انگیز اثرات کو بھی واضح کیا‘‘۔اس نے میڈیا کے کردار کا مطالعہ و مشاہدہ غیر روایتی اندز میں کیا،اس نے میڈیا کے جاری و ساری محدود مقاصد اور سائیکلولوجیکل وائر فیئر بذریعہ میڈیا۔۔۔

جیسے میڈیا کے کردار کے برعکس اس (میڈیا) کے مثبت عالمی کردار کو کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی حیران کن ترقی کے ساتھ جوڑ کر دنیا کی ہوتی وحدانیت (OneNess)کے آخری نتائج (گلوبل ویلج) کا اپنا نظریہ جب دنیا کے سامنے رکھا تو واضح کیا کہ الیکٹرانک کی تیز تر پیش رفت دنیا کے مختلف خطوں کی ثقافت عالمی سطح پر عام ہونے سے ایک عالمی ثقافت اور طرز زندگی کا عالمی ابلاغی دھارا وجود میں آئے گا۔جس سے ایک عالمی گائوں وجود میں آئے گا۔ واضح رہے کہ ہر گائوں کی ثقافت باسیوں کا باہمی رابطہ، مفادات اور سماجی رویہ میں گہری یکسانیت ہوتی ہے۔

انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طاقت سے یہ کشمکش جاری ہے کہ دنیا عالمی گائوں بن جائے، جس میں قومی اور عالمی مفادات کا توازن پیدا کر کے عالمگیریت کا نیا سفر شروع ہوا ہے۔

The post صدر ٹرمپ کا بیانیہ:قومی مفاد بمقابلہ عالمی مفاد appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2NSn5qi
via IFTTT

لاہور میں منشا بم مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدالت نے دبنگ حکم جاری کردیا

 

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور رجسٹری میں قبضہ مافیا منشا بم کے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ایس پی سے سوال کیا کہ منشا بم کون ہے؟ ایس پی نے بتایا کہ منشا بم اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر جوہر ٹاؤن میں قبضہ کرتا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کو بتایا کہ عدالتی کے حکم پر کارروائی کی تو سفاریوں کے فون آنے لگ گئے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کن سفارشیوں کے فون آئے۔ ایس پی نے بتایا کہ پی ٹی آئی ایم این اے کرامت کھوکھرنے سفارش کےلیے فون کیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کرامت کھوکھر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس منشا بم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کی سرزنش کی ۔ ایڈوکیٹ رانا سرور نے کیس سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں سیاسی مداخلت کرنے والوں نہیں چھوڑوں گا ۔ چیف جسٹس نے ملزم منشا کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2y01zoQ
via IFTTT

پانچ مشورے جو کسی نے نہیں مانگے

 

(یاسر پیر زادہ)

’’ہم میں سے ہر شخص کسی دوسرے کی نظر میں کہیں نہ کہیں ولن ہوتاہے۔‘‘ (نامعلوم) اس دنیا میں جینا بہت مشکل ہے، آپ کچھ بھی کر لیں، بھلے کتنے ہی نیک ہو جائیں، آخر تو انسان ہی رہیں گے اور انسان بہر حال خطاکار ہے، آپ ایسی زندگی گزار ہی نہیں سکتے جس میں آپ ہر کسی کی ’’اچھی کتابوں‘‘ میں رہیں کیونکہ لوگ ان کتابوں کا کوئی نہ کوئی صفحہ نکال کر آپ کی برائی ڈھونڈ ہی لیں گے۔ آپ پھٹی ہوئی جینز پہنیں گے تو لوگ کہیں گے چھچھورا ہے، اپنے آپ میں رہیں گے تو لوگ مغرور کا لیبل لگا دیں گے، ہر کسی سے جھک کر ملیں گے تو لوگ سمجھیں گے ضرورت مند ہے،

دلیل سے بات کریں گے تو کج بحث کا خطاب ملے گا، سچ بات کہیں گے تو منہ پھٹ کہلائیںگے اور کچھ بھی نہیں کہیں گے تو لوگ آپ کو گاؤدی سمجھیں گے۔ ہم دن رات لوگوں سے ملتے ہیں، ان سے دوستیاں کرتے ہیں، انکے ساتھ وقت بتاتے ہیں اور پھر انہی کی کہی ہوئی کسی بات کو دماغ میں بٹھا کر اپنی زندگی مفت میں اجیرن بنا ڈالتے ہیں۔ چار دن کی اِس زندگی میں پہلے عذاب کیا کم ہیں کہ آپ خود بھی اُن میں اضافہ فرماتے پھریں! مگر یہ سب کہنا آسان ہے اور ذہن سے ایسی منفی باتوں کو جھٹکنا بہت مشکل،

جس دن آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص جو بہت مخلص بنا پھرتا ہے حقیقت میں وہ آپ کی غیر موجودگی میں زہرفشانی کرتا ہے تو اُس روز آ پ کا دل چاہتا ہے کہ کاش دو قتل معاف ہوتے تو ایک اُس کا کرتا اور دوسرا اپنا۔ لیکن قتل کرنا چونکہ ایک مشکل کام ہے اسلئے اسے کسی مناسب وقت کے لئے اٹھا رکھیں اور تب تک کے لئے چند مشورے پلے سے باندھ لیں۔پہلا مشورہ۔ پچھلے دنوں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی،باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ وہ میرے ایک نہایت ذہین دوست کے ہم جماعت رہ چکے ہیں، میں نے اپنے دوست کی قابلیت کی تعریف کی تو وہ چند لمحے سننے کے بعد مسکرائے اور بولے ’’جی جی ہم لارنس کالج میں اکٹھے تھے،

اُس وقت تو وہ ایک نمبر کا لفنگا تھا، بعد میں اِس کے باپ نے اسے باہر پڑھنے بھیج دیا تو آج یہ کچھ بن گیا ہے ورنہ اس کے کالج کے دنوں کی باتیں آپ کو بتاؤں تو آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔‘‘ ممکن ہے یہ بات ایسے ہی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کا ماضی ہے جسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے، ہم سب نوجوانی میں حماقیں کرتے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ سیکھتے ہیں اور آہستہ آہستہ ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ آپ کی ہر بات کو لوگ سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر استعمال کی جا سکے۔

آپ سمیت دنیا کی کوئی طاقت یا ٹیکنالوجی ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتی لہٰذا اس بارے میں سوچنا ہی فضول ہے البتہ اگر کسی فعل کی تلافی ہو سکتی ہو تو ضرور کیجئے اور اگر ماضی کے کسی عمل کی وجہ سے مستقبل میں کسی نقصان کا اندیشہ ہے تو اُسکے نتائج قبول کرنے کاحوصلہ پیدا کریں اور اگر ممکن ہو تو ان کی سنگینی کم کرنے کے لئے کوئی دانشمندانہ قدم اٹھائیں، بس اِس سے زیادہ کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ سو، جس طرح اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے کسی شئیر کو خریدنے کے بعد ’’سٹاپ لاس‘‘ لگا دیتے ہیں تاکہ ایک مخصوص قیمت سے نیچے آنے کی صورت میں وہ شئیر از خود بازار میں بِک جائے بالکل اسی طر ح آپ بھی اپنی زندگی میں ’’سٹاپ لاس‘‘ لگا دیں،

ماضی آپ تبدیل نہیں کر سکتے، مستقبل کے لئے آپ نے ممکنہ پیش بندی کر لی، اس سے زیادہ آپ کچھ نہیں کرسکتے، یہاں اپنی سوچ کو سٹاپ لاس لگائیں، یہی اس کا حل ہے۔دوسرا مشورہ۔ کاش میں زندگی میں مصور بن گیا ہوتا اگر میںنے ایف ایس سی کے بعد انجینئرنگ کی ہوتی تو آج زندگی قدرے آسان ہوتی …اگر میں نے برسوں پہلے کاروبار کا منصوبہ شروع کیا ہوتا تو آج کروڑ پتی ہوتا…زندگی سے کاش اور اگر مگر کے الفاظ نکال دیں، دنیا میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جس نے ماں کے پیٹ سے جنم لینے کے فوراً بعد آئیڈیل زندگی کا پلان بنایا ہو اور اُس پر عمل بھی کر لیا ہو، جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں،

کوئی بھی اتنا سیانا نہیں ہوتا، ہر کسی کی زندگی میں پچھتاوے ہوتے ہیں، آپ یہاں اکیلے نہیں، ان پچھتاوں کو سوچ کر دل جلانے کا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی آپ اب اِس کا کچھ کر سکتے ہیں، آئندہ کے لئے سبق بس اتنا ہے کہ زندگی کے فیصلے اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق کریں، اپنی مرضی سے کیا گیا فیصلہ اگر غلط نکل آئے تو پچھتاوا ہوتا ہے پر دل نہیں جلتا مگر کسی دوسرے کے مشورے پر عمل کرکے کیا گیا فیصلہ غلط نکل آئے تو پچھتاوا بھی ہوتا ہے اور دل بھی جلتا ہے۔تیسرا مشورہ۔ آپ چاہے کچھ بھی کرلیں مگر زندگی بھر ایسی صورتحال پیدا نہیں کرسکتے کہ لوگ آپ کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا چھوڑ دیں، یہ ممکن ہی نہیں،

انسان کے ماڈل میں یہ سہولت ہی نہیں رکھی گئی، آپ کسی بھی محفل میں بیٹھے ہوں تو لوگ منہ پر آپ کی تعریف کریں گے مگر غیر موجودگی میں وہی لوگ آپ کی ذات میں ایسی ایسی برائیاں ڈھونڈ کر بیان کریں گے جو آپ میں موجود ہی نہیں ہوں گی۔ اس کا آپ کچھ نہیں کر سکتے، کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا، ان باتو ں پر دل جلانا چھوڑ دیں۔ کچھ تو لوگ کہیں گے لوگوں کا کام ہے کہنا۔ اگر آپ اپنی پوری زندگی بھی اس کام میں صرف کردیں کہ میں لوگ آپ کی برائی نہ کریں تو شاید آ پ کسی حد تک کامیاب ہو جائیں مگر ایسی صورت میں اُس بے رنگ زندگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو آپ گزاریں گے۔ سو، آپ نارمل رہیں،

انسان نارمل ہی ہوتے ہیں، اسی لیے ایک دوسرے کی برائیاں کرتے ہیں۔ غیبت کی بابت اس قدر سخت حکم موجود ہے مگر اس کے باوجود ہم کرتے ہیں کیونکہ اس میں لطف آتا ہے۔ آپ اگر انسان کی سرشت کو تبدیل کرنے میں اپنی قیمتی زندگی گنوانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، مشورہ مگر یہ ہے کہ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں، اس مسئلے کا کوئی حل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔چوتھا مشورہ۔ ایسا وقت زندگی میں کبھی نہیں آ سکتا کہ آپ کے پاس سب کچھ بہترین ہو۔ آپ چاہے کچھ بھی کر لیں، کتنا ہی شاندار گھر تعمیر کر لیں، کیسا ہی قیمتی لباس پہن لیں، یا کیسی ہی عالیشان گاڑی خرید لیں،

ہمیشہ آپ سے زیادہ بہتر زندگی گزارنے والے لوگ دنیا میں موجود رہیں گے، آپ کے جاننے والوں میں بھی ایسے لوگ ملتے رہیں گے جو آپ سے کم قابل اور ذہین تھے مگر اُن کا لائف سٹائل کسی وجہ سے آپ سے بہتر ہو گیا، اس بات پر کڑھنا چھوڑ دیں، اگر آپ اپنی زندگی میں دن رات ایک کرکے ایسے کسی شخص سے آگے نکل بھی گئے تو کل کو کہیں نہ کہیں سے کوئی اور شخص آپ کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے آجائے گا، لہٰذا اس دوڑ سے باہر نکلیں اور اُس زندگی کا لطف اٹھائیں جو میسر ہے۔

پانچواں مشورہ۔ آپ کی ہر بات صحیح نہیں ہو سکتی، یہ ممکن نہیں کہ لوگ آپ کی ہر بات سے اتفاق کریں، ہر شخص کے اپنے خیالات اور نظریات ہوتے ہیں، ہر کسی کی اپنی اقدار ہیں، وقت اور زمانے کے ساتھ اقدار بھی تبدیل ہوتی ہیں اور نظریات بھی، لہٰذا اس بات پر سٹپٹانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ حق سچ بات کر رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی آپ سے اتفاق نہ کرے۔ ضروری نہیں کہ لوگ آپ کی طرح سوچیں ۔ لہٰذا ٹھنڈا پانی پئیں او ر خود بھی ٹھنڈے رہیں۔

The post پانچ مشورے جو کسی نے نہیں مانگے appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2QktLdv
via IFTTT

ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے

 

(شاہد سردار)

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ خشک سالی اور عام قحط میں لوگ ہلاک ہوتے ہیں لیکن ’’قحط الرجال‘‘ میں قومی شعور، فکر و دانش کے چشمے خشک ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے عرصہ دراز سے قابل اور تجربہ کار افراد کو معاشرے میں مقام دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ہمارے ہاں اگر کوئی محقق، ریسرچر، دانشور قومی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے مصائب جھیل کر کسی مقام پر پہنچ بھی جائے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ہر خاص و عام کو حیران کردے تو اس کے ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر خان،ڈاکٹر محبوب الحق اور ڈاکٹر عطا الرحمن کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔

ہم نے ہر دور میں معاشرے کے اہم ترین افراد کو نظرانداز ہی نہیں بلکہ بری طرح ضایع بھی کیا ہے۔نہ جانے یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں نہ قابلیت کام آتی ہے، نہ ایمان داری اور نہ ہی ڈگریاں؟یہ بات اب طشت ازبام ہوچکی ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس کا چہرہ تو ایک ہے لیکن اس کے روپ دو ہیں۔ ایک وہ جس کا ہم دکھاوا کرتے ہیں اور دوسرا وہ جو ہم اصل میں ہیں۔ ہم ایک ایسی قوم کا روپ دھار چکے ہیں جسے جمہوریت میں آمریت اور آمریت میں جمہوریت کی یاد بڑی شدت سے آتی ہے۔ ہم پاکستان کے سب سے بڑے منصب پر بیٹھنے کے لیے آنے والے پر ڈھول بجاتے ہیں،

رقص کرتے ہیں اور اس کے جانے پر مٹھائیاں تقسیم کرتے اور سستے طنزیہ اور ذومعنی جملے کستے ہیں۔ شاید ایسا ہم اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ہمارے بیشتر ارباب اختیار انسانوں کے اندر پورے پورے آدم خور قبیلے آباد ہیں۔کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل علم و دانش کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے، قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر نظر رکھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو اسی قدر وہ قوم ترقی کی منازل آسانی سے طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا یہ طبقہ اپنے کردار سے غافل ہوجائے،

یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے اسی قدر اس قوم کے زوال کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔افسوس قابلیت کو کسی قابل نہ سمجھنے کا افسوس ماتم اور ان آہوں کا تجزیہ کرنے کے لیے قوم میں جید، گنی یا ہشت پہلو لوگ بھی ختم ہوگئے ہیں اور اسی لیے ہم علم و ادب، فن و سائنس، ٹیکنالوجی اور سیاست سبھی محاذوں یا شعبوں میں پسپا ہو رہے ہیں یا مار کھا رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی سچ ہے کہ فاتحہ لوگوں کے مرنے پر ہی نہیں احساس کے مر جانے پر بھی پڑھنی چاہیے کیونکہ لوگ مر جائیں تو صبر آجاتا ہے لیکن احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے، اسی صورتحال پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے

یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی

افسوس صد افسوس ہم اسی مردہ معاشرے میں اپنی سانسیں گننے میں مصروف ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں رہبر رہزن بن گئے اور انقلاب لانے والے خود تک کو نہ بدل سکے۔ آج ہمارے اطراف میں دیکھیے اقربا پروری،ذاتی پی آر نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ عالم فاضل اور لیاقت سے لبریز لوگ دھکے کھا رہے ہیں یا پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے کام کے منتظر ہیں لیکن انھیں کام دینے پر کوئی تیار نہیں۔دوسری جانب سفارشی،کام و ہنر سے بے بہرہ لوگ مراسم کی وجہ سے نمایاں ہو رہے ہیں،انھیں پذیرائی بھی دی جا رہی ہے،انھیں ہائی لائٹ بھی کیا جا رہا ہے اور ان کے اعزاز میں تقریبات اور شامیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

لیکن اس حوالے کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وقت سے پہلے بخشا ہوا مقام، مرتبہ یا اعزاز کسی کی صلاحیتوں کو بڑھاوا نہیں دیتا بلکہ اسے ٹھہرا دیتا ہے۔ آگے بڑھنے کے سفر میں شامیں سجانے یا منانے سے فیض حاصل نہیں ہوتا۔ خوشنودی کے مارے لوگوں کی جانب سے یہ طرز عمل زبردستی قد بڑا کرنے کی حماقت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے کام یا اعمال کٹھن، پیچیدہ اور دشوار گزار راستوں سے گزرنیوالے ہنر مندوں، فنکاروں، دانشوروں اور قلم کاروں سے ان کی منزل کا شعور چھین لیتے ہیں۔ہمارے بڑے بڑے اداروں کی تباہی، بربادی یا ان کے پست معیار پر نگاہ کی جائے تو فوراً اس بات،

کا ادراک ہوجائے گا کہ اس کی کمانڈ اینڈ کنٹرولنگ پر معمور لوگ اس کام کے ماہر نہیں بلکہ اس کام یا ہنر سے یکسر نابلد ہیں۔ اگر آپ کسی سائیکل بنانے والے سے جہاز بنوانے کا کام لیں گے تو وہ جہاز کے ساتھ ساتھ اس پر سوار ہونے والوں کا کام بھی تمام کردے گا۔ فنون لطیفہ کی طرف ہم نظریں دوڑائیں تو یہاں بھی غیر مغز لوگوں کے ہاتھوں میں اس کی ڈور نظر آئے گی، یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ہر پہلو، ہر شعبے میں اور ہر سطح پر ہم تنزلی کی طرف ہی جا رہے ہیں۔آفاقی سچائی یہی ہے،

کہ دانشور، شاعر، ادیب،فنکار کسی بھی قوم کا ضمیر ہوتے ہیں۔ وہ احساسات و جذبات جو لوگوں کے سینوں میں پرورش پا رہے ہوں نثر اور نظم کے ذریعے بیان کرتے ہیں اور یوں عوام کے ضمیر کو زبان دے دیتے ہیں۔ لیکن فی زمانہ ’’ضمیر‘‘ کو صرف نوزائیدہ بچوں کے نام رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ضمیر کا مطلب، معنی و مفہوم کسی کو بھی نہیں معلوم۔ ضمیر اصل میں سڑک پر لگے ہوئے اس سائن بورڈ کی طرح ہوتا ہے جو راستہ اور سمت تو بتاتا ہے لیکن اس پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔ نہ جانے کون کب اور کس سمت سے نکلے گا اور جادوئی چھڑی گھمائے گا اور سب کا سب غلط صحیح یا درست ہوجائے گا،

اقوام عالم میں ہماری واہ واہ کا سبب بنے گا اور وطن عزیز میں اس کے مجسمے، یادگاریں قائم کی جائیں گی اور وہ جہالت، تعصب، اور حق تلفی کا قلع قمع کرے گا اور ملک کا نجات دہندہ کہلائے گا؟ لیکن ایسا کچھ ہوتا دور دور تک نظر نہیں آرہا، ہر طرف وہی رفتار بے ڈھنگی ہے، آپا دھاپی ہے، دوڑا بھاگی ہے، افراتفری ہے کسی کوکوئی پوچھنے اور سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے اور ایسا کیوں نہ ہو۔دراصل جہاں افتخار عارف سے زیادہ مہوش حیات مقبول ہو، جہاں مرد ایک بالٹی پانی سے نہانے کے بعد پاک اور عورت کو اپنی پاکیزگی ثابت کرتے کرتے عمر بیت جائے، جہاں منافقت، جھوٹ اور غیبت کا کاروبار مطمع نظر بن جائے،

جہاں اہل علم و ہنر کوکوئی نہ پوچھے اور جہلا کو سلام ٹھونک کر انھیں سر سر کہا جائے۔ وہاں کسی کو کارآمد یا تعمیری بات سمجھانا کسی بے وقوفی سے کم نہیں مگر پھر بھی یہ بے وقوفی ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ شاید کسی عقل مند کو عقل آہی جائے۔ شاید تخلیق ہوتا ہرکردار اپنی قسمت اپنا مقدر خود اپنے ساتھ لکھوا کر لاتا ہے۔انسان کی طرح کردار کی تقدیر بھی طے شدہ ہوتی ہے اورکبھی کبھی لکھاری صرف لکھنے کا فرض پورا کرتا ہے۔

The post ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2zG7zVC
via IFTTT

معروف باکسر عامر خان کے حوالے سے بڑی خبر آگئی

 

نئی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ۔۔۔۔ لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے عمران حکومت کی بڑی سازش بے نقاب کردی

 

لاہور (ویب ڈیسک) رہنما(ن) لیگ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت کو پتاچل گیا صاف شفاف انتخابات سے ضمنی الیکشن نہیں جیتا جا سکتا ، انہوں نے کہا عمران خان صاحب الیکشن لڑیں ، بدلہ نہ لیں ، انتقام نہ لیں۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنے حلقہ انتخاب این اے 131 میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے حکومت ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے، میرے مد مقابل مہینہ بھر پہلے میری پارٹی میں تھے، حکومت اور مد مقابل کو پتا ہے کہ وہ الیکشن نہیں جیت سکتے اور خارجہ امور میں بھی ان کی نااہلی صاف نظر آ رہی ہے ، انہوں نے کہا ان سے حکومت سنبھالی نہیں جا رہی ، ناتجربہ کاری اور نااہلی سے کام لیا جا رہا ہے۔

سعد رفیق نے کہا اللہ تعالی نے ریلوے کا مردہ گھوڑا ہمارے ہاتھ سے زندہ کروانا تھا ، لوگوں کاحافظہ اتنا بھی کمزور نہیں انہیں سب خبر ہے ، لوگوں کو پتا ہے کہ میرے مدمقابل نے ایک دھیلے کا کام بھی نہیں کیا ، اس وقت کیا ہم سونےکے بنے ہوئے تھے اور اب پیتل کے بن گئے ہیں کیا ؟ حکومت سی پیک کے منصوبے کو بھی سبو تاژ کررہی ہے ، بھارت اپنی مہم جوئی سے باز نہیں آرہا ، افغانستان سے بھی تعلقات نارمل ہیں ، ہم جو ادارے ٹھیک کر کے گئے تھے حکومت انہیں خراب کررہی ہے ، ریلوے کےموجودہ وزیر جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں، دیانتدار افسروں کو رگڑا لگایا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں کوئی سول سرونٹ کسی فائل پر دستخط نہیں کرے گا ، نئے پاکستان میں بجلی ، گیس ہر چیز مہنگی کردی گئی ، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ سازش کر کے ضمنی الیکشن جیت جائے۔



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2xMb9Mr
via IFTTT