Technology

Ads

Most Popular

Friday, 30 November 2018

یہ ٹھرک بھی خواتین کے کپڑوں جیسا ہے ۔۔۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے صحافی برادری کی بڑی کمزوری قارئین کے سامنے رکھ دی

 

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کتابوں کا ٹھرک بھی خواتین کے کپڑوں جیسا ہے۔ پہنیں یا نہ پہنیں لیکن خرید ضرور لیتی ہیں۔ الماری ٹھسا ٹھس بھری ہوتی ہے لیکن موقع آئے تو کہتی ہیں پہننے والا تو ان میں ایک بھی نہیں۔ اگر کہو کہ الماری میں کوئی کپڑا بھی کام کا نہیں تو اسے خالی کر دو ‘

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جواب ملتا ہے: کبھی پہننا بھی پڑ سکتا ہے۔ اب بندے کے پاس بھلا اور کونسا سوال باقی بچتا ہے؟ یہی حال کتابوں کے ٹھرک کا ہے۔ یہ ٹھرک نہیں دراصل ”ہڑک‘‘ ہے۔ لالچ ہے اور لالچ بھی ایسا کہ دل نہیں بھرتا۔ جب نگاہ کام کرتی تھی اور رات میں ایک کتاب ختم کرنے کی توفیق تھی ‘یہی حال تھا۔ اب بھی یہی حال ہے کہ قریب ایک ڈیڑھ سو کتابیں تو ایسی ہیں جنہیں پڑھنا باقی ہے۔ چار ماہ پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اب فی الحال مزید کتابیں خریدنا بند کر دوں۔ یہ فیصلہ بھی ان پڑھی اُن ڈیڑھ سو کتابوں کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ اس لیے کہ اب یہ ساری کتابیں لائبریری کے فرش پر دو کونوں میں ڈھیر کی صورت دھری ہوئی ہیں۔ الماریاں اب اس طرح ٹھنسی پڑی ہیں کہ آگے پیچھے کتابوں کی دو دو قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ خانے میں کتابوں کے اوپر جو جگہ خالی ہے وہاں بھی کتابیں لٹائی ہوئی ہیں۔ بیٹی نے نوٹس دے رکھا ہے کہ انہیں کسی ترتیب میں لائیں۔ گرمیوں میں اسے لارا لگایا تھا کہ سردیوں میں یہ کام کر لوں گا۔ اسے پتا ہے کہ مجھے گرمی بہت زیادہ لگتی ہے اس لیے اس نے موسم کے بہتر ہونے تک مہلت دے رکھی ہے۔ انشاء اللہ یہ والا کام ان سردیوں میں کر لوں گا۔

یہ کتابوں والا معاملہ اس لیے یاد آیا کہ اتوار والے دن دوپہر کو ہوٹل سے نکل کر ہم انارکلی آ گئے۔ رؤف کلاسرا نے کتابیں خریدنی تھیں۔ رؤف دھڑا دھڑ کتابیں خرید رہا تھا اور میں دل کو اِدھر اُدھر لگا رہا تھا۔ میرا اندر سے حال وہی تھا جو تازہ تازہ نشہ چھوڑنے والے کسی نشئی کا ہوتا ہے جو کسی دوسرے نشئی کے پاس بیٹھا ہو اور وہ اس کے سامنے سگریٹ ”بھر‘‘ بھی رہا ہو اور پی بھی رہا ہو۔ پرانی کتابوں والا رؤف کو خوب پہچانتا تھا اور اس کی مرضی کی کتابیں نکال نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنی مرضی کی کتابیں بھی درمیان میں ٹانک کر بیچنے کی کوششوں میں مصروف تھا ‘جو رؤف مستقل ناکام بنا رہا تھا۔ ہم باقی تینوں دوست وہاں سے جلد ازجلد نکلنے کے چکر میں تھے اور رؤف کو نہ کوئی جلدی تھی اور نہ ہی ہم تینوں کی رتی برابر فکر۔ میں تو بے چینی کے مارے وہاں سے نکلنے کے چکر میں تھا کہ کتاب خریدنے کی اندرونی خواہش یعنی Temptation نے برا حال کر رکھا تھا اور برادرِ بزرگ اور خالد تیز گام کو حالانکہ تیز گام نہیں پکڑنی تھی مگر بہرحال وہاں سے نکلنے کی جلدی تھی۔

انہوں نے یہ کام میرے ذمے لگایا اور میں نے رؤف کو تقریباً گھسیٹ کر کتابوں کے ڈھیر سے نکالا۔ اس کی خریدی گئی کتابوں کو چار شاپروں میں بھر کر سب نے ایک ایک شاپر اٹھایا اور گاڑی کی طرف چل پڑے۔ ان دو دنوں بارے کیا لکھوں؟ رؤف کلاسرا نے بہت کچھ لکھ دیا ہے۔ اس کی محبت ہے کہ میرا ذکر کرتے ہوئے حد سے گزر گیا وگرنہ ”من آنم کہ من دانم‘‘ والا معاملہ ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ یہ دو دن ایسے تھے کہ میں نے خود بھی بہت دنوں بعد اتنے مزے کے دن گزارے۔ دو دن بس دو چار گھنٹوں میں ہی گزر گئے۔ طے پایا کہ کم از کم سال میں ایک مرتبہ تو اس طرح ضرور اکٹھے ہونا چاہئے اور اکٹھے ہونا بھی ہے۔ ویسے تو رؤف نے برادرِ بزرگ کو کہا کہ وہ ماشاء اللہ خاصے خوشحال ہیں اور اگر طبیعت میں موجود اس کفایت شعاری کو جو انہیں اپنی ذات کے حوالے سے قدرتی طور پر ودیعت ہوئی ہے تھوڑا ایک طرف رکھیں اور یہ سوچ لیں کہ اب اپنا پیسہ ”اپنے‘‘ اوپر بھی خرچ کرنا ہے تو وہ ہر تین ماہ بعد بھی اٹلانٹا (امریکہ) سے پاکستان آ سکتے ہیں اور یہ محفل ہر تین ماہ بعد بھی سجائی جا سکتی ہے۔ برادر بزرگ نے جواب دینے کے بجائے آگے سے ہنس کر دکھا دیا۔ اللہ ہی جانے اس ہنسنے کا کیا مطلب تھا۔

یہ جو میں نے ”اپنے‘‘ اوپر خرچ کرنے کو واوین کے درمیان لکھا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ برادر بزرگ اپنے اوپر خرچ کرنے کے معاملے میں ہی کفایت شعار ہے ‘دوسروں کے معاملے میں دل اور ہاتھ دونوں اتنے کھلے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ جبلی طور پر کفایت شعار آدمی دوسروں پر خرچ کرتے ہوئے اتنا وسیع القلب بھی ہو سکتا ہے؟ انار کلی کے اختتام پر ڈی پی آئی کے آفس کے بالمقابل آئیڈیل بک سٹور تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ماموں محمود مرحوم کے گھر لوہاری دروازے سے پیدل انار کلی عبور کر کے یہاں آتا۔ یہاں سے پیدل مال روڈ کا گشت ہوتا۔ ریگل چوک سے پہلے مرزا بک ایجنسی میں جھانکا جاتا۔ پھر ریگل چوک کے ساتھ امپیریل بک ڈپو میں گھس جاتا ۔ وہاں سے نکل کر سڑک پار کر کے فیروز سنز چلا جاتا۔ یہ میری سب سے پسندیدہ دکان تھی۔ بلکہ دکان بھی کب تھی؟ ایک پوری جادونگری تھی۔ میں ادھر اُدھر گھومتا اور پھر بچوں کے سیکشن میں آ جاتا۔ میرا نام منگو ہے، عالی پر کیا گزری، لنگڑا فرشتہ، خزانے کا راز اور اسی طرح کی بے شمار اور کتابیں۔ داستانِ امیر حمزہ کے دس حصے اور طلسم ہوشربا کی گیارہ جلدیں۔ یہاں تو کبھی کبھی گھنٹوں گزر جاتے۔ نہ بھوک لگتی نہ پیاس۔ موبائل کا تو تب نام بھی وہم و گمان میں نہ تھا۔

اس لیے فون پر ابا جان کا بلاوہ یا ماں جی کی فکر مندی والی تفتیش بھری کال بھی نہیں آتی تھی۔ واپسی پر نجم سیٹھی کی وینگارڈ بکس کو باہر ہی سے سلام کرتے اور کھوکھا نما ”کلاسک‘‘ میں چلے جاتے۔ میکسم گورکی کی شہرہ آفاق تصنیف ”ماں‘‘ ادھر ہی سے سستے داموں خریدی۔ الیگزینڈ پوشکن، چیخوف، دوستوفسکی، لیوٹالسٹائی اور گوگول کے نام ادھر ہی دیکھے اور کئی اردو تراجم خریدے۔ روسی لٹریچر یہاں سے اتنا سستا ملتا کہ اب حیرانی ہوتی ہے۔ اب یہ ساری دکانیں یا تو ناپید ہو چکی ہیں یا کوئی اور صورت اختیار کر چکی ہیں۔ آئیڈیل بک سٹور کی جگہ جوتوں کی دکان ہے۔ امپیریل بک ڈپو کی جگہ پر اب انڈہ شامی والا برگر بکتا ہے۔ مرزا بک ایجنسی بند ہو گئی۔ نجم سیٹھی والے وینگارڈ کی چڑیا بھی اڑ چکی ہے۔ کلاسک اب کتابوں کی نہیں کیک پیسٹری کی دکان یعنی بیکری ہے۔ اوپر والی منزل پر بطور نشانی کتابوں کی دکان کی ”باقیات‘‘ موجود ہیں۔ فیروز سنز کے سامنے سے گزرتے ہوئے پرسوں اندر جھانکا۔ وسیع و عریض ہال کی چھت ہی موجود نہیں تھی۔ شو روم یہاں سے کہیں اور جا چکا ہے۔ اس عمارت سے جو بچپن کا رومانس تھا ایسا برباد ہوا کہ بتانا ہی ممکن نہیں۔ اور صرف لاہور ہی کیا؟ کتابوں کی دکانوں کا ہر جگہ یہی حال ہے۔

جب میں چوک شہیداں رہتا تھا تب حال یہ تھا کہ سارے علاقے میں صرف ایک میڈیکل سٹور تھا۔ چوک سے تیسری یا چوتھی دکان ”افشار میڈیکل سٹور‘‘ تھی۔ یہ چوک شہیداں اور اس کے قرب و جوار کا واحد میڈیکل سٹور تھا۔ تب ملتان میں بلا مبالغہ درجنوں آنہ لائبریریاں تھیں۔ کاروان بک سنٹر تھا‘ اور وہاں چچا عمر خان ہوتے تھے۔ پہلے چچا عمر خان پاکستان بک سنٹر میں حصہ دار تھے۔ پھر اپنی دکان بنالی۔ ملتان کی پہلی شاندار دکان جہاں صرف اور صرف جنرل بکس ملتی تھیں۔ پھر فیض صاحب کی بیکن بکس اور شاکر حسین شاکر کی کتاب نگر۔ ملتان میں کتابوں کی دکانوں کا عہد زریں ختم ہوا۔ کاروان بک سنٹر تعلیمی کتابوں کی دکان میں تبدیل ہوا۔ کتاب نگر کا بیشتر پورشن اب گفٹ شاپ بن چکا ہے۔ جہاں سے میں صرف کتابیں خریدتا تھا اب وہاں سے میرے بچے گفٹ خریدتے ہیں۔ بیکن بکس بھی دم آخر پر ہے آج کہ کل بند ہوتا ہے۔ میری گلی میں اب سڑک سے لیکر میرے گھر تک دو اڑھائی فرلانگ میں سات میڈیکل سٹور ہیں اور کتابوں کی ایک بھی دکان نہیں۔ ظاہر ہے دکان اسی چیز کی ہوتی ہے جو بکتی ہے اور بکتی وہی چیز ہے جس کی مانگ ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے کتاب اور دوا میں تناسب معکوس پایا جاتا ہے۔ کتاب دوا سے دور رکھتی ہے اور کتاب سے دوری دوا کے نزدیک لے جاتی ہے۔ ممکن ہے میرا تھیسس غلط ہو مگر کتابوں کی مسلسل کم ہوتی دکانوں کے مقابلے میں مسلسل بڑھتی ہوئی ادویات کی دکانیں تو یہی بتاتی ہیں۔ ممکن ہے غلط ہی ہو مگر میرا گمان تو یہی ہے اور گمان تو پھر گمان ہی ہے۔(ش س م)

The post یہ ٹھرک بھی خواتین کے کپڑوں جیسا ہے ۔۔۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے صحافی برادری کی بڑی کمزوری قارئین کے سامنے رکھ دی appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2SlpCXI
via IFTTT

وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم کو سوشل میڈیا پر کیوں وائرل کیا جا رہا ہے ؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

 

کراچی (ویب ڈیسک)قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیر ااکرم کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ایک شخص کے ساتھ ٹیبل پر موجود ہیں اور دونوں کے درمیان سبزیوں کا نام اردو میں لے کر انہیں پہنچانے کا چیلنج جاری

ہے۔ معلومات کے مطابق شنیرا اکرم کے سامنے بیٹھے اس شخص کا نام جارج فلٹن ہے اور دونوں سبزیوں کے علاوہ کچھ مزید جملے میں بھی اردو میں بول رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اردو زبان سے کافی زیادہ واقف ہو چکی ہیں اور مستقبل میں روانی کے ساتھ بولنے لگیں گی ۔اس ویڈیو میں جارج کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس اب تک ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہیں اور شیئر کر رہے ہیں ۔ویڈیو میں آ پ دیکھ سکتے ہیں کہ شنیرا اور جارج کامیابی کے ساتھ سبزیوں کے نام لے کر انہیں پہنچان رہے ہیں اور دونوں کے درمیان مقابلہ برابر ہو جاتاہے لیکن دونوں ہی جیت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

The post وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم کو سوشل میڈیا پر کیوں وائرل کیا جا رہا ہے ؟ اصل کہانی سامنے آ گئی appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2E3L28P
via IFTTT

میں نے اپنا وزن 220 کلو کیسے کم کیا ؟ عدنان سمیع نے موٹاپے کا شکار خواتین و حضرات کو بڑے راز کی بات بتا دی

 

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستانی نژاد بھارتی گلوکار عدنان سمیع کا سال 2000 میں ریلیز ہونے والا گانا ’مجھ کوبھی تولفٹ کرادے‘ اور اُس پر ان کا مذاحیہ رقص آج بھی لوگوں کو نہ صرف یاد ہے بلکہ بے حد پسند بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے اس گانے نے انہیں شہرت کی

بلندیوں پر پہنچادیا جس کے بعد ان کے کئی مشہور گانے ان کی پہچان بن گئےاور نا صرف ان کے گانے بلکہ عدنان سمیع کا ’چببے لک‘ یعنی موٹاپابھی ان کی پہچان بن گیا۔شائقین عدنان سمیع کو ’موٹا‘ دیکھنے کے عادی ہوگئےاور جب انہیں اسی طرح پسند کرنےلگے تو یہ خبر وائرل ہوئی کہ عدنان سمیع کچھ عرصے کے لیے گلوکاری کی دنیا کو خیر آباد کہہ رہے ہیں جس کی وجہ ان کا اپنے وزن میں کمی لانا ہےاور پھر سال2005 سے 2017 تک مسلسل محنت کے بعد وہ تقریباً 145 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔2005 میں موسیقی کی دنیا سے دور جانے کے بعد جب وہ واپس آئے تو کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکا کیونکہ اُن کے وزن میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کے جسم میں مزید تبدیلی آتی چلی گئی اور 2017 میں وہ 220 کلو سے 65 کلو پر آگئے تھےجو کہ اُن کے لیے ایک بہت بڑی ’اچیوومنٹ‘ تھی۔گزشتہ ماہ ’بالی ووڈ ہنگامہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عدنان سمیع جذباتی ہوگئے ان کا کہناتھا کہ’ اگر آپ موٹے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس دل نہیں ہے، میں موٹے جسم کےساتھ

اسکرین پر آیا اور لوگوں کے دل میں جگہ بھی بنائی جبکہ میری جگہ کوئی اورہوتا تو شایدکبھی بھی ایسا نہیں کر پاتا مگر اس کے باوجود مجھےاپنے موٹاپے کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کے باعث لوگ مجھے اُس طرح سے پسند نہیں کرتے جس طرح سے پسند کیے جانا چائیے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی لانا تو ٹھیک ہے لیکن اس حد تک وزن میں کمی انسان کے لیے خطرے کاباعث بھی بن سکتی ہے لیکن عدنان سمیع نے اس خطرے کی پرواہ کیے بغیر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ عدنان سمیع نے2005 میں سرجری کروائی جس کے بعد انہیں 3 مہینے تک مکمل طور پر آرام کرنے کے لیے کہا گیاتھا۔ یہی سرجری اُن کے وزن میں کمی لانے میں اہم وجہ بنی۔عدنان سمیع نے بتایا کہ بہت زیادہ وزن ہونے کے سبب انہیں سانس لینے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹروں نے انہیں یہ تک کہہ دیا کہ آپ ’چھ مہینوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔‘ اس کے بعد انہوں نے امریکی شہر ’ہیوسٹن‘ کارخ کیا اور وہاں سے انہوں نے اپنے ’ویٹ لوس‘ سفرکا آغاز کیا جس میں ان کے اہلخانہ اور قریبی ساتھیوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ عدنان سمیع نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ بچپن سے ہی موٹاپےکا شکار نہیں تھے بلکہ وہ اپنے اسکول کے زمانےمیں ’اسکواش اور پولو‘ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ پھر انہوں نےمیٹھی اور چکنائی والی اشیا ءکھانا شروع کردیں جس سے اُن کا وزن بڑھتا چلا گیا۔ عدنان سمیع کے وزن میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ان کا ڈائٹ پلان بھی ہے۔ اپنے وزن میں کمی کے سلسلے میں انہوں نے ماہر غذائیت سے رابطہ کیا جنہوں نے عدنان سمیع کو ’لو کیلوری ڈائٹ پلان ‘بنا کر دیا جس کے تحت انہیں سفید اُبلے چاول، ڈبل روٹی، چکنائی والے کھانے، جنک فوڈ اور دیگر وزن بڑھانے والےکھانے کھانا سختی سے منع تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عدنان سمیع نےاپنے وزن میں کمی لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں جم جانے سے بلکل منع کیا ہوا تھا کیونکہ مشینیں استعمال کے باعث اُنہیں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ تھا۔

The post میں نے اپنا وزن 220 کلو کیسے کم کیا ؟ عدنان سمیع نے موٹاپے کا شکار خواتین و حضرات کو بڑے راز کی بات بتا دی appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Sfyi1Q
via IFTTT

سارہ طیب کی دفتر میں بیٹھے تصاویر منظر عام پر آگئیں

 

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک ) گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر پشاور سارہ طیب کی کچھ تصاویر وائرل ہوئیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سارہ اپنی بیٹی ماہم کو اپنی گود میں اُٹھائے اپنے فرائض کو سر انجام دے رہی ہیں۔ تصاویر سامنے آتے ہی سارہ طیب کو پاکستانیوں کی جاب سے سراہا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان میں اگر سارے سرکاری افسر اس طرح کام کرنے لگ جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوگا۔ تاہم سارہ طیب کی کچھ نئی تصاویر وائرل ہوئیں ہیں جس کے بعد پاکستانیوں کے دل میں انکی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔
پہلے تو تصاویر وائرل ہوئیں کہ سارہ طیب مارکیٹ میں مختلف دکانوں پر جاتیں ہیں اور وہاں پر اشیاء خورد نوش کا جائزہ لیتی ہیں لیکن ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے سارہ طیب اپنے دفتر میں بھی مامتہ اور فرائض دونوں کو بخوبی سر انجام دے رہی ہیں۔ سارہ طیب اپنی کرسی پر بیٹھ کر اپنے کام کر رہی ہیں اور انکی بیٹی ماہم رومپر ( جھولا) میں بیٹھی کھیل رہی ہے۔

ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کل کی وائرل ہونے والی تصاویر کا ریکارڈ بھی توٹ گیا ہے اور پاکستانی دھڑا دھڑ ان تصاویر کو شیئر کر قوم کی اس بیٹی کی عظمت اور جرت کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ تصاویر آپ بھی دیکھیں اور شیئر کریں ۔

The post سارہ طیب کی دفتر میں بیٹھے تصاویر منظر عام پر آگئیں appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2E7HQZV
via IFTTT

بھارتی ایجنسیوں کے اندرکا خوف

 

(مشتاق احمد شباب)
بھارتی سیکورٹی اداروں نے مرزاغالب کے دیوان سے استفادہ کرنے کا وتیرہ اختیار کر رکھا ہے اور اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی ایسی حرکتیں ان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں جو یا تو فوری طورپر ان بھارتی سیکورٹی اداروں کیلئے وجہ شرمندگی بن جاتی ہے یا پھر کچھ عرصہ بعد ہی ان کے اختیار کئے ہوئے بیانئے کا کچھا چٹھا کھل کر سامنے آجاتا ہے جبکہ ان کی حرکتوں پر غالب کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے کہ

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی

تازہ ترین لطیفہ جو بھارتی سیکورٹی اداروں نے چھوڑا ہے وہ یہ ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر اپنی دانست میں دو ’’پاکستانی دہشتگردوں‘‘ کی تصاویر کے پوسٹر چسپاں کر کے عوام سے ان دہشتگردوں کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کردی ہے، حالانکہ جن کو بھارتی اداروں نے دہشت گرد ظاہر کیا ہے وہ بے چارے جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے دو طالبعلم ہیں جو 9تا 11نومبر کو رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کے بعد واہگہ بارڈر کا چکر لگا نے گئے اور وہاں ایک سنگ میل کیساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنوائی، سنگ میل پر واہگہ بارڈر سے فیروزپور اور نئی دہلی تک کے فاصلے کلومیٹرز میں درج ہیں۔ نئی دہلی کا فاصلہ360کلومیٹر ہے جبکہ دونوں ’’دہشتگرد‘‘ واپس اپنے مدرسے بھی پہنچ چکے ہیں اور بھارتی سیکورٹی ادارے انہیں ابھی تک بھارتی راجدھانی ہی میں تلاش کر رہے ہیں، اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں طالبعلم فوق البشر قسم کی مخلوق ہیں، جنات ہیں یا چھلاوہ جو9نومبر کو رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے پہنچے۔11نومبر تک وہیں رہے ، شاید 12یا 13نومبر کو واہگہ بارڈر گئے ہوں گے اور بغیر ویزہ پاسپورٹ کے نئی دہلی پہنچ گئے اور پھر اُڑکر واپس بھی آگئے، وہ بھی بھارتی سیکورٹی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، یعنی بے چارے بھارتی سیکورٹی ادارے اب اتنے گئے گزرے ہوگئے ہیں کہ دو بندے اتنا طویل فاصلہ طے بھی کرلیتے ہیں مگر راستے میں کسی کی ان پر نظر ہی نہیں پڑسکی، وہ جو تصویر پوسٹر میں سیکورٹی اداروں نے نئی دہلی میں ہر جگہ چسپاں کی ہے اس پر ہم نے بہت غور کیا اور ہر زاویئے سے اسے پرکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دونوں کے سروں پر موجود ٹوپیوں کا جائزہ لیاکہ کہیں یہ قدیم داستانوں میں بیان کردہ سلیمانی ٹوپیاں تو نہیں ہیں، مگر اس کا کوئی ثبوت ہمارے ہاتھ نہیں لگ سکا، اس لئے کہ اگریہ واقعی سلیمانی ٹوپیاں ہوتیں تو ان کو سر پر رکھنے کے بعد دونوں نظر کیسے آتے اور تصویر کیوں کر کھینچی جاسکتی تھی وہ بھی ٹوپیوں سمیت۔بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کو ہر بار اپنی ’’کارکردگی‘‘ دکھانے کیلئے کوئی نہ کوئی شوشا چھوڑنے پر مجبورہونا پڑتاہے تاکہ وہ اپنی حکومت اور عوام کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نغمہ شادی کے نہ ہوتے ہوئے نوحٔہ غم سنا کر کوئی نہ کوئی ہنگامہ پیدا کر دیتی ہیں، گویا بقول خالد خواجہ

فضول بحث کا دروازہ کھول دیتا ہوں
خموش رہ نہیں سکتا ہوں بول دیتا ہوں

ابھی دنیا بھارتی ایجنسیوں کا وہ شوشابھولی نہیں ہوگی جب ایک کبوترنے پاکستانی سرحد پار کرکے بھارت کی فضائوں میں پرواز کی تو بھارتی ایجنسیوں نے اسے پکڑ کر تحقیقاتی مرکز میں اسکا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا اورپاکستان پر جاسوس کبوتروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنے کے الزامات لگا دیئے تھے، دراصل یہ بھارتی اداروں کے اندر سرایت کردہ وہ خوف ہے جس نے انہیں لرزا کر رکھ دیا ہے اور کہیں پتا بھی کھڑکتا ہے تو ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ان اداروں کے اہلکاروں کو ہر جانب پاکستانی ’’جاسوس‘‘ ہی نظر آتے ہیں

ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے

اب یہی دیکھ لیجئے، وہ جو چند برس پہلے بھارت کے اندر ایک تخریب کاری میں کسی اجمل قصاب کوپاکستان کے نام سے متعارف کراکے بھارت نے پوری دنیا کو سرپر اٹھالیا تھا اور پاکستان پر بھارت کے اندر دہشتگردی کرانے کے الزامات عائد کئے تھے جبکہ پاکستان کی بسیار کوششوں کے باوجود ہمارے سیکورٹی حکام کو اجمل قصاب تک رسائی کی اجازت نہیں دی تھی تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں کیونکہ بھارتی اداروں کو اصل بات پہلے ہی سے معلوم تھی یعنی اب جبکہ اتنی مدت کے بعد خود بھارت کے اندر سے یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ اجمل قصاب دراصل بھارتی شہری تھا اور اسے جس عجلت میں پھانسی دی گئی اس سے معلوم ہوتا تھا کہ دال میں کچھ تو کالا کیا پوری دال ہی کالی تھی۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ جن بے گناہ بے چارے مدرسے کے طالبعلموں کی تصویر کا پوسٹر بنا کر نئی دہلی میں چسپاں کیا گیا ہے اورجن کے حوالے سے اب پاکستانی میڈیا نے اصل حقائق طشت ازبام کرکے بھارتی ایجنسیوں کے گھنائو نے اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، اس پر بھارتی حکومت کوئی یوٹرن لیتی ہے یا پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ اور واویلا کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت کو مطلوب ’’نئے دہشتگردوں‘‘ کو اس کے حوالے کیا جائے کیونکہ یہ تو بھارت کا پرانا وتیرہ ہے جسکی بنیاد پر وہ ہمیشہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات کے ہنگام وہ اپنے بھیجے ہوئے اصلی دہشتگرد کلبھوشن یادو کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے بھی نہیں چوکتا، بقول داغ دہلوی

کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا
کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
(بشکریہ مشرق نیوز)

The post بھارتی ایجنسیوں کے اندرکا خوف appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2AA2qgZ
via IFTTT

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

 

(محمد افضل بھٹی)
پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے جب دونوں ممالک نے مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔پہلی دفعہ دونوں ممالک کوباضابطہ مذاکرات کی ضرورت تب پیش آئی جب 1971ء کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی ریاست معرض وجود میں آئی۔ ان مذاکرات کی رو سے شملہ معاہدہ طے پایا جسکی شرائط نے پاک بھارت تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ دوسری دفعہ دونوں ممالک کے سربراہان کو مل بیٹھنے کی ضرورت تب پیش آئی جب بھارت نے مئی 1998ء میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو ایٹمی ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر چھ ایٹمی دھماکے کئے۔ ان ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں اس خطے میں ایٹمی خطرات بڑھ گئے جسکی بدولت بین الاقوامی سطح پر دونوں ملکوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ مل بیٹھ کر اپنے معاملات کا حل نکالیں۔

بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نامور بھارتی شخصیات مثلاََ دیو آنند، جاوید اختر، شتروگن سنہا، کلدیپ نیئر اور کپل دیو وغیرہ کے ہمراہ دوستی بس کے ذریعے لاہور پہنچے ۔ جواباََ اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھی پاک بھارت بارڈر پر انکا استقبال کرنے گئے۔ لاہور میں ہونے والے ان مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسے لاہور اعلامیہ کہا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کے مل بیٹھنے کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا اور اسے امن کی طرف پیش رفت گردانا گیا۔ لیکن اس اعلامیے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ امن کی فاختائیں اڑانے والوں کو کارگل کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہونا پڑا۔ دونوں ممالک کے درمیان چھڑنے والی اس جنگ نے اس خطے کے حالات یکسر بدل کر رکھ دیے۔ لاہور اعلامیہ آخری موقع تھا جب دونوں ممالک کے سربراہان نے ایک میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کی لاحاصل سعی کی۔

کارگل جنگ کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور اقتدار ایک بار پھر فوج کے ہاتھ میں آگیا۔ اگرچہ ڈکٹیٹر مشرف نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں گی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ بعدازاں پیپلز پارٹی اور پھر ن لیگ کی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا لیکن دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بہتری میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اپنے سابقہ دور حکومت میں اگرچہ میاں محمد نواز شریف بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے گئے لیکن اسکے باوجود حالات بدستور کشیدہ رہے اور لائن آف کنٹرول پر گولہ باری جاری رہی۔

پاک بھارت تعلقات کی تاریخ میں اہم موڑ تب آیا جب پاکستان میں عمران خان جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں جیت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے بھارت کو پیش کش کی کہ اگر بھارت ایک قدم ہماری طرف چل کر آئے گا تو پاکستان دو قدم اسکی طرف چل کر جائے گا۔ بعد ازاں عمران خان کی دعوت پر بھارتی نامور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری میں شریک ہوئے جہاں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ ان سے بغل گیر ہوئے اور انکو خوشخبری دی کہ پاکستان جلد ہی کرتارپور بارڈر بھارتی سکھوں کے لئے کھول دے گا تاکہ سکھ برادری بغیر ویزے کے گوردوارہ دربار صاحب کی یاترا کرسکیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کی خوشی دیدنی تھی جب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے یار (عمران خان ) نے بن مانگے ہی مجھے سب کچھ دے دیا ہے۔ امن کا یہ پیامبر پاکستان سے بھی امن کا پیغام لے کر اپنے وطن لوٹا اور بھارت میں پاکستان کے محبت نامے کی خوب چرچا کی۔

پاکستان کی طرف سے کرتار پوربارڈر کھولنے کی تجویز کو بھارت نے 22نومبر کو سرکاری طور پر قبول کیا۔ نتیجے میں پاکستان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ 28نومبر کو وزیراعظم عمران خان کرتار پور بارڈر کھولنے کا افتتاح کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جسکے جواب میں سشما سوراج نے معذرت ظاہر کی کہ انتخابی مصروفیات کی بدولت وہ شرکت نہیں کرسکتیںالبتہ انکے دو اہم وزیرمسز ہر سیمرٹ کوربادل اور مسٹر ہردیپ سنگھ پوری اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ سشما سوراج نے مزید کہا کہ انکی عدم شرکت کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی طرف سے بھارتی پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن (ر) امریندر سنگھ اور سابق بھارتی کرکٹر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن نوجوت سنگھ سدھو کو بھی اس تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ بھارت میں کرتار پور بارڈر کھولنے کی تقریب میں شرکت کے سلسلہ میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں بھارت آنے کی دعوت دی ہے جسے پرویز الہی نے قبول کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ بھی کرتار پور بارڈر کھولنے کی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان ضرور آئیں۔

نئی دہلی میں میں بابا گورونانک کی سالگرہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسی نے سوچا تھا کہ دیوار برلن گرے گی؟1947ء میں جو ہونا تھا ہوگیا اب کرتار پور راہدرای دونوںملکوں کے درمیان پل کا کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کھلنے سے پاک بھارت تعلقات مضبوط ہونگے کیونکہ باہمی رابطوں میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔بھارت میںانتخابات کے قریب نریندر مودی کے منہ سے پاک بھارت امن کے الفاظ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے کیونکہ بھارت میں انتخابات مسلم اور پاکستان مخالف نعروں کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں بھی حالات اب ماضی کی نسبت قدرے تبدیل ہیں کیونکہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور مذاکرات کے ذ ریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ جس طرح مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان دیوار برلن گرا دی گئی تھی اسی طرح یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرتوں کی دیوار کو گرا دیا جائے اور کشمیر و دیگر مسائل افہام تفہیم سے حل کرلیے جائیں تاکہ یہ خطہ بھی ترقی کی منازل طے کرسکے۔بشکریہ دنیا نیوز

The post شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2TXICNF
via IFTTT

ہم مستقبل میں کھلی آنکھوں سے داخل ہورہے ہیں؟

 

(محمود شام)
غور کیجئے ۔ لوگ جو اپنے ماضی کیلئے آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ وہ مستقبل میں بھی بند آنکھوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ کسی مغربی اسکالر کا یہ جملہ کوئٹہ سے ممتاز مصنّف ایوب بلوچ نے وٹس ایپ کیا ہے۔ میں اسے ہر محفل میں دہرارہا ہوں۔ ہم اکیسویں صدی میں بند آنکھوں کیساتھ ہی داخل ہوئے ہیں۔ سندھ پبلک لائبریری کراچی میں پروفیسر اعجاز قریشی کی بہت ہی اہم تصنیف ’’ون یونٹ اور سندھ‘‘ کی رونمائی ہوئی۔ وہاں بھی میں نے اپنے مضمون کا آغاز اسی قول زریں سے کیا۔ یہ کتاب ون یونٹ کے خلاف سندھ کے عوام دانشوروں اور بالخصوص طلبہ کی پُر جوش اور نتیجہ خیز جدو جہد کی دستاویز ہے۔سندھی میں لکھی گئی اس کتاب کے اُردو ترجمے کی رُونمائی تھی جو اسلم کھٹیان نے کیا ہے۔ اس جدوجہد کے نوجوان۔ اعجاز قریشی۔ امان اللہ شیخ۔ ڈاکٹر سلمان شیخ۔ اقبال ترین۔اب سفید بالوں کے ساتھ یہاں موجود تھے۔ بزرگی طاری ہورہی ہے۔ مگر جذبات اورعزائم اسی طرح جوان ہیں۔ اور سندھ کے مسائل بھی اسی طرح جوان ہیں۔ صوبائی خود مختاری اور سندھی حکمرانوں کے کئی برسوں کے باوجود سندھ اسی طرح محرومیوں اور نا انصافیوں کا شکار ہے۔

گزشتہ تحریر میں ہم نے شاندار اُردو کانفرنسوں اور شہر شہرہونے والے ادبی میلوں کے حوالے سے اپنا دُکھ بیان کیا تھا کہ بھرپور محنت۔ کثیر سرمائے کے باوجود یہ تقریبات ادبی تحریکوں کا سر آغاز کیوں نہیں بنتیں۔ ان کی بدولت ادبی رسائل کے مسائل کیوں حل نہیں ہوتے۔ کتابوں کی اشاعت میں اضافہ کیوں نہیں ہوتا۔ معاشرے میں ابتری تذبذب اور بے یقینی کیوں ہے۔ بعض احباب نے توجہ دلائی کہ صرف ادبی اجتماعات کو ہی پیش نظر نہ رکھیں۔ مذہبی کانفرنسیں بھی بہت ہورہی ہیں۔ اقتصادی سیمینار بھی۔ آج کل تربیت کے نام پر بے شُمار ورکشاپس ہوتی ہیں۔ ٹرینر حضرات و خواتین بہت پیسے کمارہے ہیں۔ ان کے بھی تو معاشرے پر کوئی اثرات مرتب ہوتے نظر نہیں آتے۔ یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں پوسٹ گریجویٹ عملی زندگی میں داخل کررہی ہیں۔ میڈیا پر ہر روز سینکڑوں ماہرین مباحث میں حصّہ لے رہے ہیں ۔ پھر بھی ہر روز ایسے ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں۔ جن سے لگتا ہی نہیں ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی کسی مہذب سوسائٹی میں رہ رہے ہیں۔ اس ادباراور انتشار کے آخر کیا اسباب ہیں۔ پہلے ہمارے احباب کی آراء ملاحظہ کریں۔ اُردو کی ممتاز افسانہ نگار شمع خالد کا تبصرہ ہے۔ بعض ادیب شاعر یہاں صرف پبلک ریلیشنگ کیلئے آتے ہیں۔ بڑے لکھاریوں کے ساتھ نئے افسانہ نگار شاعر اپنی تصویریں بنواتے ہیں اور بس۔ ماہر تعمیرات شاعر افسانہ نگار غافر شہزاد کہتے ہیں سنجیدگی سے لکھا ہوا ایک اہم تجزیہ جو کئی سوال اٹھاتا ہے۔ اور کئی نکتے سمجھاتا ہے۔ ادب کی زوال پذیری کے کئی اسباب پر روشنی ڈالتا ہے۔ احسن بٹ کا پیغام ہے۔ بڑے اہم موضوع پر لکھا ہے۔ ایسے موضوعات پر مرکزی دھارے کے کالم نویس نہیں لکھتے۔ اور نہ ہی ٹی وی اینکر تجزیہ کار بات کرتے ہیں حالانکہ سماجی زندگی میں ایسے موضوعات بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔سید افتخار حیدر کا کہنا ہے ۔ بڑی درد ناک سچی تصویر ہے۔ ذرا گھوم کر دیکھیں تو گزارے ہوئے کئی علمی سال اسی طرح شو بز کی نذر ہوگئے ہیں۔ قائم نقوی صاحب کہہ رہے ہیں۔ بہت صحیح کہا آپ نے ان میلوں سے ادب کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے ادبی رسائل بک اسٹالوں پر نظر نہیں آتے اگر آتے ہیں تو ان کو خریدنے والا کوئی نہیں۔ جو کانفرنسوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں وہ بھی نہیں پڑھتے۔ صرف نمائش ہے ۔ کینیڈا سے جناب ولی عالم شاہین کا تبصرہ مزید جہتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آپکا کالم ایک درد بھرے دل کی پکار ہے ۔

کانفرنس اور جشن ادب کی تقریب نئی تحریک کے آغاز کا براہ راست سبب بنے یا نہ بنے۔ ذہن سازی میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان کے طریقہ کار اور ساخت پر مستقبل کو نگاہ میں رکھتے ہوئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ سے فیض رحمان کا بہت معروضی تبصرہ۔یہ سوال صرف ادبی تحریک اور تربیت سے متعلق ہی نہیں بلکہ اسے مزید آگے بڑھاکر یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر مذاہب سے التفات اور لگائو کا اظہار۔ کیا معاشرے میں کوئی اصلاحی اور خوشگوار تبدیلی بھی لارہا ہے کہ نہیں۔ بریگیڈیئر(ر) صولت رضا اپنا اظہار یوں کررہے ہیں۔ میرے خیال میں درسگاہیں اور دانش گاہیں صاحب قلم اساتذہ سے خالی ہوگئی ہیں۔ اسکول کالج میں بزم ادب اور یونیورسٹی میں ہفتہ ادب اب مفقود ہوتے جارہے ہیں۔ اردو اور سندھی کے محترم شاعر امداد حسینی نے بھی کرم کیا۔اور کہا ہے کہ آپ نے جس سنہری دَور کو یاد کیا ہے اور اس حوالے سے جن ہستیوں کے نام لئے ہیں اور اس کے بعد عصرِ حاضر کی قحط الرجال کی بات کی ہے وہ سب سچ ہے۔ اب کیوں ہوا۔ آدھا ملک ہم نے کیوں کھویا۔ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں معلوم ہیں۔ لیکن کہہ نہیں پاتے۔ سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی نظام ہے۔ جسکو سیاستدانوں نے تباہ کرکے چھوڑا ہے۔ نصاب کا ستیا ناس کردیا گیا ہے۔ ضیا کے دَور میں ایک نوٹیفکیشن آیا کہ درسی کتب میں سے ’سرخ‘ رنگ نکال دو۔ کسی نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کے خون کا رنگ کیا ہے۔ ہر دَور حکومت میں حکمرانوں نے اپنے نام نہاد کارنامے درسی کتب میں ٹھونسے ۔ ہمارے نوجوان بڑے ذہین ہیں وہ شعر و ادب کے بارے میں بڑے چبھتے سوالات کرتے ہیں۔شعرا کی حالت یہ ہے کہ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ نے شاہ لطیف کو پڑھا ہے تو جواب آتا ہے ’نہیں‘۔ اگر ان سے پوچھیں کہ کیوں نہیں پڑھا تو جواب ملتا ہے کہ ’وہ مشکل ہیں‘۔

میں جذبات سے مغلوب ہوں کہ میرے دلی تاثرات ان صاحبان علم و دانش سے مختلف نہیں تھے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہی نہیں سمندر پار پاکستانیوں کو بھی تشویش ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔ کوششیں جو کی جاتی ہیں یہ نتیجہ خیز کیوں نہیں ہیں۔ کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ سب کے مقاصد یقینا نیک ہوں گے اور قومی مفاد میں ہوں گے۔ لیکن اس کوشش کا مثبت نتیجہ کیوں نہیں نکلتا۔ صرف ادبی کانفرنسیں ہی نہیں رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات میں اب بیس لاکھ سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔ دوسرے مسالک کے بھی بڑے اجتماعات ہوتے ہیں انہیں تو ہم نمائشی نہیں کہہ سکتے۔ آج کل تربیت ہی ایک نفع بخش پیشہ بن گیا ہے۔ بے شُمار ادارے نوجوانوں کی تربیت کیلئے میدان میں اُترے ہوئے ہیں۔ اس پر تفصیل سے بات کسی وقت کریں گے۔ میڈیا نیوز میں بھی ہے اور انٹرٹینمنٹ بھی۔ ہزاروں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔ قومی سیاسی جماعتوں کا دائرہ اثر بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ہر جگہ نعرے لگتے ہیں۔ ’تیرے جاں نثار۔ بے شُمار‘۔ ترقی یافتہ مہذّب ملکوں کی طرح ہمارے ہاں زندگی آسان کیوں نہیں ہورہی ہے۔ جھوٹ بولنا کیوں ضروری ہوگیا ہے۔ منافقت ہماری عادت کیوں بن گئی ہے۔ اب جب عدلیہ۔ اسٹیبلشمنٹ اور منتخب حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں تو کیا ہماری سمت درست ہوجائیگی۔ نمائش اور تجارت سے ہٹ کر ہم واقعی قوم کو آگے کی طرف لے جائینگے۔ ماضی کیلئے بھی آنکھیں کھلی رہیں گی اور مستقبل میں بھی کھلی آنکھوں ، کھلے بازوئوں اور کھلے ذہن کیساتھ داخل ہوں گے۔بشکریہ جنگ نیوز

The post ہم مستقبل میں کھلی آنکھوں سے داخل ہورہے ہیں؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2AyyQZh
via IFTTT