لاہور(ویب ڈیسک )بیماری چھوٹی ہی کیوں نہ ہو؟ علاج سے گریز اسے بڑا بنا دیتا ہے۔ ایک زمانہ تھا بیماریوں کی تشخیص کے جدید طریقے ایجاد نہ ہوئے تھے اور وباء پھیلتی تو سینکڑوں ‘ ہزاروں نہیں لاکھوں کی جان لے کرٹلتی تھی ‘ لیکن اب سائنس نے شرح اموات گھٹا دی ہے ۔
نامور مضمون نگار الطاف احمد خان مجاہداپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔۔۔مہلک اور خطرناک ترین امراض سے بچاؤ کی ویکسین مارکیٹ میں موجود ہے اور چند عشروں قبل تک لاعلاج تصور کئے جانے والے امراض سے تحفظ کے لئے ویکسی نیشن کوضروری تسلیم کیا جاتا ہے۔ جان لیوا یا معذور کردینے والے متعدد امراض سے محفوظ رہنے کے لئے ادویہ موجود ہیں۔اسی لئے اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے بین الاقوامی سطح پر بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کیلئے کئی پروگرام مرتب کئے ہیں۔پاکستان میں 1978ء سے زندگی کے پہلے برس میں بچوں کو 6 متعدی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔ان کا شیڈول یا نظام الاوقات کچھ اس طرح سے ہیں‘ بوقت پیدائش پہلا ٹیکہ تپ دق یا ٹی بی کا لگایا جاتا ہے اور پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے دوا کے قطرے پلاتے ہیں۔ 6 ہفتے بعددوسرا ٹیکہ خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچاؤ کیلئے لگاتے ہیں اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔10 ہفتے بعد پھر خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچانے کا ٹیکہ اورپولیو کے قطرے دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی بیماریوں سے تحفظ کی چوتھی ویکسی نیشن 14 ہفتے کے بعد پھر کی جاتی ہے اور 9ماہ کی عمر میں پہنچنے پر خسرہ سے بچاؤ کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔آج کل خسرہ سے بچاؤ کی قومی مہم چلائی جارہی ہے‘ انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں کمزوری سے بیماری یا اس کے جراثیم شیر خوار‘ نومولود یا کمسن اور کم عمر بچوں کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہمات پورے سال جاری رہتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو سو فیصد کرنے سے پولیو‘ خسرہ و دیگربیماریوں کو بآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے‘ ویسے بھی حکومت نے نومولود سے 2 برس تک کی عمر کے بچوں کو خطرناک امراض سے بچاؤ کی مفت ویکسی نیشن کا انتظام کیا ہے‘ صرف سندھ میں ایسے مراکز کی تعداد 15 سو سے زائد ہے‘ جہاں حفاظتی ٹیکے مفت لگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں بھی کئی ایسے مراکز سرگرم عمل ہیں جہاں حفاظتی ٹیکے مفت لگائے جاتے ہیں۔بلاشبہ خسرہ متعدی مرض ہے۔ اس کا زیادہ ترنشانہ ترقی پذیر یا پسماندہ ملک ہیں‘ جہاں اسے ہلاکتیں بھی عام ہیں۔ عموماً اس کا نشانہ کم عمر یا کمسن بچے ہی بنتے ہیں‘ جن کی عمریں 9 ماہ سے 5 برس تک ہوں‘ خسرہ کابنیادی سبب ایک وائرس ہے اور اس سے بچاؤ ممکن ہے‘ یہ صرف ان بچوں کو ٹارگٹ کرتا ہے جو حفاظتی ٹیکے نہ لگواسکے ہوں۔ترقی یافتہ ملکوں میں کبھی کبھار ہی خسرہ کسی بچے کی موت کا سبب بنتا ہے۔عالمی اعدادو شمار کا جائزہ لیں تو 3 برس قبل تک اس سے مرنے والے یا متاثرہ بچوں کی تعداد 67 ہزار 524 تھی‘ لیکن حفاظتی مہمات چلانے کے باعث 2016ء میں یعنی اگلے برس ہی یہ تعداد کم ہو کر16 ہزار 8 سو 46 رہ گئی۔ماہرین صحت کہتے ہیں
کہ رپورٹ شدہ بچوں کی تعداد حقیقی مریضوں سے کم ہے کیونکہ یہ تعداد ان مریضوں کی ہے جو کسی مرکز صحت پرعلاج کیلئے گئے تھے۔ خسرہ کی علامات میں بخار اور کھانسی شامل ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کاسرخ ہونا‘ ناک سے پانی بہنا اور جسم پرسرخ نشان بھی اس مرض کا پتہ دیتے ہیں۔خسرہ کو بخار اور کھانسی کا علاج کرکے کنٹرول کیا جاتا ہے اور مریض کو دیگر افراد خانہ سے علیحدہ کرکے باقی لوگوں کو اس عارضے سے بچاؤ کی پیش بندی بھی کی جاتی ہے۔ خسرہ کا وائرس نظام تنفس کو ہٹ کرتا ہے اوربہت شدت کے ساتھ پھیلتا ہے۔مریض کی کھانسی ا ور ناک و منہ سے نکلنے والا پانی دیگر افراد کو جو قریب ہوں اور اس ہوا سے سانس لے رہے ہیں کو براہ راست متاثر کرتا ہے اور اگر حفاظتی ٹیکے نہ لگے تو متاثر ہونے کا خدشہ اور خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خسرہ کی پیچیدگیوں سے ڈائریا‘ نمونیہ‘ آنکھوں کے امراض‘ دماغی سوزش ا ور جسمانی کمزوری کے عوارض بھی گھیر لیتے ہیں اور اگر بچے خوراک کی کمی کا شکار ہوں تو یہ بیماریاں جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔پاکستان میں خوراک کی کمی کا مسئلہ بھی پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں موجود ہے۔ اس لئے ماہرین صحت بتاتے ہیں کہ یہاں ہر بچے کو خسرہ سے بچاؤ کے دو ٹیکے لگنے چاہئیں‘ پہلا ٹیکہ 9 ماہ اور دوسرا 12 سے 15 ماہ کی عمر میں لگایا جائے۔
The post بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے کیوں ضروری ہیں ؟ شکوک و شبہات کا خاتمہ کر دینے والی معلوماتی رپورٹ appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2G5mE8p
via IFTTT

No comments:
Write komentar