کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں صرف اس لیے اسکول نہیں جا پاتے کہ ملک کے بہت سے اسکولوں میں انھیں بنیادی ضروریات جیسے کہ پانی اور ٹوائلٹ یا بیت الخلا ہی دستیاب نہیں ہیں۔2013 کے عام انتخابات کے بعدن لیگ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور
بلوچستان کی اتحادی حکومت نےسندھ، پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قائم سرکاری سکولوں میں ان سہولیات کی فراہمی کے لیے بڑی رقوم مختص کرنے کے دعوے اور وعدے کیے تھے۔تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیق کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ کسی بھی صوبے میں اسکولوں میں دستیاب ضروری سہولتوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی۔حکومتی دعوؤں کی تصدیق کے لیے ا سکولوں اور تعلیم کے بارے میں ملک کے چاروں صوبوں میں ہونے والے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ چار سالوں میںا سکولوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے صوبہِ سندھ میں حالات بہتر ہونے کے بجائے بگڑے ہیں جبکہ سب سے زیادہ بہتری خیبر پختونخوا میں آئی۔حکومتی اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند سالوں میں اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بہتری آئی ہے جبکہ بلوچستان میں بھی کچھ لحاظ سے حالات بہتر ہوئے ہیں تاہم صوبہِ سندھ کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کمی آئی۔صوبہِ سندھ میں 14-2013 میں جتنے اسکولوں میں بجلی میسر تھی ان کی تعداد میں گذشتہ چار برسوں میں 18 فیصد کمی ہوئی۔
اسی طرح اسکولوں کی بیرونی دیوار کے حوالےسے بات کی جائے تو چار سال پہلے سندھ میں ساڑھے 27 ہزار اسکولوں کی چار دیواری موجود تھی اور اب یہ تعداد کم ہو کر 26 ہزار رہ گئی ہے۔اس کے علاوہ اگر پینے کے پانی کی فراہمی یا بیت الخلا میسر ہونے کی بات کی جائے تو وہاں بھی سندھ حکومت کی کارکردگی خاصی ناقص دکھائی دیتی ہے۔ سنہ 14-2013 کے مقابلے میں سندھ حکومت صرف ڈھائی فیصد مزید اسکولوں میں پانی اور ڈیڑھ فیصد اسکولوں میں ٹوائلٹ فراہم کر سکی ہے۔اگر کل تعداد کے لحاظ سے دیکھیں تو سندھ حکومت نے 14-2013 سے لے کر اب تک چار سو سے بھی کم ا سکولوں میں بیت الخلا بنائے ہیں۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2N3hM3j
via IFTTT

No comments:
Write komentar