Technology

Ads

Most Popular

Friday, 29 June 2018

امارارتی صدر کو قتل کرنے کا منصوبہ تیز

 

(تسنیم خیالی)
اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زاید جو آج کل شیطان العرب کے نام سے مشہور ہیں اپنے بڑے بھائی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید کو قتل کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ تیزی سے اس منصوبے پر عمل کریں، اس منصوبے کو پورا کرنے کیلئے شیطان العرب اپنے دست راس اور خصوصی مشیر مغرور فلسطینی رہنما محمد دحلان کی خدمات حاصل کریں گے جن کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کو قتل کرنے میں اسکا کلیدی کردار تھا متحدہ مغربی رپورٹس کے مطابق دحلان نے عرفات کے زیر استعمال کچھ دوائیاں تبدیل کرتے ہوئے ان کی جگہ زہریلی دوائیاں رکھیں تھیں، شیخ خلیفہ کو اس طرح اچانک استے سے ہٹانے کے پیچھے بھی ایک اہم وجہ پائی جاتی ہے۔

دراصل اس تیزی کی وجہ امریکی انتخابات اور اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت پر ہونے والی انکوائری ہے جس کی قیادت ’’رابرٹ مولر‘‘ کررہے ہیں، مولر کی تحقیقات میں امارات کا نام بھی سامنے آ رہا ہے، اور تحقیقات میں مولر بلیک واٹر چیف ’’ایریک برنس‘‘ سے تحقیقات کررہے ہیں جس کے محمد بن زاید کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، تحقیقات میں برنس مولر کے ساتھ پوری طرح سے تعاون کررہے ہیں حتیٰ کہ برنس کا کمپیوٹر اور موبائل ڈیٹا بھی مولر کے دسترس میں ہے اس صورتحال میں محمد بن زاید کو پریشانی لاحق ہوچکی ہے کہ کہیں مولر تحقیقات میں اسے طلب نہ کرلیں، شیطان العرب اس وقت مولر کی تحقیقات سے بچنے کےلیے کسی بھی قانونی استثناء حاصل نہیں البتہ اپنے بھائی خلیفہ کو قتل کرکے ان کی جگہ اماراتی صدر بننے سے اسے استثناء حاصل ہو جائے گا اور وہ مولر کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔

مولر اپنی تحقیقات میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ بن زاید نے اپنی طرف بڑھتے ہوئے مولر کے ہاتھوں کو روکنے کی امریکہ میں سرگرم اماراتی لابی اور بااثر شخصیات سے مدد لینے کی بھرپور کوشش کی جو ناکام ہوئی تب جاکے بن زاید نے خلیفہ کو قتل کرنے کے پلان بی پر غور شروع کردیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شیطان العرب کا پلان کامیاب ہوگا یا مولر کے ہاتھ اور بن زاید کی گردن ہو گی۔

The post امارارتی صدر کو قتل کرنے کا منصوبہ تیز appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2tPEbZ1
via IFTTT

No comments:
Write komentar