Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 22 December 2018

بڑا حکم جاری ۔۔۔۔ نیب کے زیر عتاب آئے ملزمان کے لیے اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری آ گئی

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ نیب کو دئے جانیوالے جسمانی ریمانڈ کی مدت جو تین مہینوں پر مشتمل ہوتی ہے، میں زبردست کٹوتی کر کے اسے 14دن تک محدود کیا جارہا ہے۔ قومی احتساب آرڈیننس 1999سمیت دیگر قوانین پر نظر ثانی کرنے کیلئے منعقدہ اجلاس میں

(نامور صحافی طارق بٹ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں) شامل ایک رکن کے مطابق ملزم کو ضمانت کی سہولت بھی مہیا کی جارہی ہے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ن لیگی رہنما ایاز صادق نے جو اجلاس میں شامل تھے، دی نیوز کو بتایا کہ حکومت جسمانی ریمانڈ کی مدت 14دن تک محدود کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب عدالت کو نیب کی جانب سے ملزم قرار دئے گئے شخص کو ضمانت کے اختیارات دینے پر بھی آمادہ ہے۔ ایاز صادق کا خیال تھا کہ حکومت بظاہر اس لئے جلد از جلد قومی احتساب آرڈیننس 1999میں یہ ترامیم کرنا چاہتی ہے تاکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے تحریر کردہ ایک فیصلے کومطمئن کرسکے۔ جسٹس کھوسہ جنوری کے وسط میں اگلے چیف جسٹس بن جائیں گے۔ تیسری ترمیم رضاراکانہ طور پر واپسی سے ہے اور جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی جانب سے سفارش کردہ ترامیم کی تعداد تین ہو جائیگی۔ قانونی ماہرین کے مطابق حکومت اور پارلیمنٹ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم متعارف کرائے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو نیب چیئرمین کے رضاکارانہ واپسی کے اختیار سے متعلق

مناسب ترمیم متعارف کرانے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس شیخ عظمت سعید کر رہے تھے، سیکشن 25اےکی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کی جو نیب کے چیئرمین کو ملزم سے رقوم کی رضاکارانہ واپسی قبول کرنے کا اختیار دیتی ہے ، اور ملزم محکماجاتی کارروائی کے بغیر اپنی ملازمت بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ بنچ نے قرار دیا تھا کہ اگر مناسب ترمیم نہ کی گئی تو عدالت اپنا فیصلہ دے گی اور اس کے پاس ہر اس قانون کی منسوخی کا اختیار ہے جو آئین سے متصادم ہو۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا جرم ایک انتظامی حکام سے ختم نہیں ہو سکتااور ایک جرم رقوم کی رضاکارانہ واپسی سے کالعدم نہیں ہوسکتا۔ جج نے یہ بات نوٹ کی کہ نیب ملزم کے خلاف تحقیقات شروع ہونے پر انہیں رقوم کی رضاکارانہ واپسی کے خطوط لکھتا ہے۔ ایاز صادق کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ حزب اختلاف ان ترامیم کو منظور کرے لیکن ہم نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں پیکیج دیں جس پر ہم ا پنا رد عمل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جانب

سے سفارش کردہ ترامیم پر اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان پر بعد میں بات ہوگی اور ترامیم مرحلہ وار متعارف کرائی جائیں گی۔ ایاز صادیق نے کہا کہ ہم نے حکومت پر واضح کردیا ہے کہ تمام ترامیم ایک ساتھ ہی ہونگی۔ حزب اختلاف چاہتی ہے کہ نیب کے چیئرمین کے ان مطلق اختیاریات کو کم کیا جائےجو پاکستان میں اور کسی ایجنسی کے سربراہ کو حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجویز دی ہے کہ نیب کے چیئرمین ، اور خزانہ اور قانون کے ڈائریکٹر جنرلز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی فیصلے کرے نہ کہ ایک شخص، اس تبدیلی سے نیب کے امور شفاف ہوجائیں گے اور فیصلے خود سری اور خبطی پن سے پاک ہوں گے۔ ایاز صادق کے مطابق حزب اختلاف نے ایک تجویز یہ دی کہ پراسیکیوٹر جنرل کا دفتر علیحدہ کردیا جائے اور نیب چیئرمین کے احکامات کے آگے سرجھکانے کی بجائے فیصلے کرنے میں خود مختار بنادیا جائے۔ اس وقت نیب کا سربراہ ہی اکلوتی اتھارٹی ہے۔ اجلاس میں حزب اختلاف کی نمائندگی رانا ثناء اللہ، فاروق ایچ نائیک، زاہد حامد اور نوید قمر نے کی جبکہ حکومتی اراکین میں وزیر قانون فروغ نسیم اور دیگر وزراء

شامل تھے۔ اجلاس میں بعض دیگر قوانین پر بھی بات ہوئی جن میں حکومت ترامیم متعارف کرانی چاہتی ہے۔ نومبر کے وسط میں جاری کئے گئے فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے تجویز پیش کی تھی کہ بدلتے حالات کے پیش نظر مقننہ ، اگر ایسی تجویز دی جائے، قومی احتساب آرڈیننس میں مناسب ترمیم کرسکتی ہے تاکہ ملزم کو متعلقہ احتساب عدالت سے ضمانت مانگنے کا اختیار مل سکے۔ ظاہر ہے کہ ملزم کی شکایت اگر نہ سنی گئی تووہ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ جائیگا۔ جسٹس کھوسہ نے تحریر کیا کہ نیب آرڈیننس میں سیکشن 9بی متعارف کرانے کا مقصد ہائی کورٹ کے آئینی اختیار کے استعمال سے ضمانت حاصل کرنے کا در کھلنے پر پہلے ہی نیوٹرل ہو چکا۔ اس کے نتیجے میں سارا بوجھ ہائی کورٹ کے کندھوں پر آن پڑا ہے جو ان کے قیمتی وقت کا غیر ضروری زیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو رٹ سے متعلق ’’بغیر مجاز اتھارٹی‘‘ اور ’’جس کا کوئی قانونی اثر نہیں‘‘ کی ضروریات (آئین کے آرٹیکل 199۔1۔اے۔ii)کے مطابق ایڈجسٹ کرنے میں ہمیشہ مشکل محسوس ہوئی جن کا تعلق کرمنل پروسیجرکوڈ کے سیکشن 497میں دئے گئے ضمانت کے اختیارسے متعلق ہے۔ معزز جج نے یہ بھی تجویز دی کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 16 اے میں ٹرائل کے مکمل ہو نے میں غیر حقیقی ٹائم فریم کے بارے میں بھی قانون ساز دوبارہ غور و فکر کر یں ۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ احتساب عدالت نے کسی ریفرنس کا فیصلہ 30دن میں کردیا ہو۔

The post بڑا حکم جاری ۔۔۔۔ نیب کے زیر عتاب آئے ملزمان کے لیے اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری آ گئی appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://bit.ly/2AdhPV9
via IFTTT

No comments:
Write komentar