Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 22 December 2018

سہاروں پر زندگی گزارنے کی بجائے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی تدبیر کرنی چاہئے کیونکہ ۔۔۔ معروف تجزیہ کار نے تحریک انصاف کو بڑے کام کا مشورہ دے دیا

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو در پیش مالی بحران سے پنجاب میں کردار ادا کرتے ہوئے قومی خزانہ میں 3 ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے مشکل کی اس گھڑی میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے

فراخدلی سے پاکستان کا ساتھ دینے پر اس کا شکریہ ادا کیا ہے ۔یقیناً مشکل کی صورتحال خصوصاً اقتصادی اور معاشی بحران سے نکلنے میں یہ امداد کارگر ہوگی اور کسی حد تک پاکستان کو ریلیف بھی ملے گا۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ہمارے دوست سعودی عرب ، چین، ابوظہبی سمیت بعض دیگر نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق بحرانی کیفیت میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور عملاً مدد بھی کی۔ لیکن ہم نے اب تک کیا کیا؟ کیونکہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے سو روزہ پلان میں واضح اعلان کیا تھا کہ ہم سو روز کے اندر معیشت کی بحالی کیلئے قرضوں پر انحصار ختم کر کے عدل پر مبنی ٹیکس پالیسی نافذ کریں گے ۔ برآمدات میں اضافہ ہوگا بچت کے رجحانات کے باعث خزانہ بھرے گا۔ ٹیکس سسٹم کو مضبوط اور فعال بنائیں گے اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا کر ملکی معیشت کو سنبھالا دیں گے لہٰذا مذکورہ نکات کی روشنی میں خود حکومت کو بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے وعدوں اور دعوؤں پر کس حد تک عمل پیرا ہوئی اور کس حد تک نتائج انہیں ملے ۔ عملاً اگر معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے

تو سعودی عرب ، چین، ابو ظہبی کی امداد کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔ کیونکہ آئی ایم ایف کی امداد کا عمل مکمل معیشت کے سنبھالا کیلئے دیگر مالی اداروں اور بین الاقوامی قوتوں کے اعتماد کا باعث ہوگا۔ اب تک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے توگزشتہ سال ہماری پیداواری شرح 5.8 تھی مگر اب وہ چار فیصد پر آچکی ہے اور ابھی اس کے مزید متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے افراط زر گزشتہ سال 3.9 تھا اور اب یہ بڑھ کر ساڑھے سات فیصد کو چھو رہا ہے دنیا کے اندر قرضوں کی مدد سے وقت نہیں گزارا جاتا بلکہ اپنی معیشت کو سنبھالا دے کر آگے بڑھا جاتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے دوستوں کی کرم فرمانیوں پر خوشی اور جشن کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی معاشی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ ملک کو درپیش معاشی بحران مہنگائی کا طوفان لیکر آیا ہے ہر ہفتے بجلی اور دیگر اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ اور ایک منی بجٹ کے بعد اب دوسرے منی بجٹ کا اعلان مسائل زدہ اور مہنگائی زدہ عوام کو بے جان کرکے رکھ دے گا اور اپوزیشن تو حکومت کو ہلانے یا گرانے کے لئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی

لیکن اگر بھوک ننگ اور غربت سڑکوں پر نکل آئی تو پھر حکومتوں کے لئے سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس حوالے سے دو آرا ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم کرنے کی پالیسی نے مسائل زدہ عوام کا بھرکس نکال دیا ہے تاجر سے لیکر عام آدمی تک سبھی پریشان ہیں دکاندار ہاتھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھے نظر آتے ہیں مارکیٹوں میں سورج چھپتے ہی ہوکا عالم ہو جاتا ہے اب جب حکومت نے جنوری میں پھر سے منی بجٹ لانے کا اعلان کیا ہے تو یہ اعلان کسی ڈرون حملے سے کم نہیں عوام تو منتخب حکومت سے ریلیف کی توقع رکھے ہوئے تھے ۔ بیروزگاروں نے روزگار کی امید پر تحریک انصاف کو جھولیاں بھر بھر کر ووٹ دیئے اور حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کرکے ان کی زندگیوں میں امید اور آس پیدا کر دی لیکن اب تک کی صورتحال میں روزگار تو دور کی بات بے روزگاری کا رحجان عام ہو رہا ہے اور چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتری ابھی تک اعلانات پر گزارا ہوا ہے ۔ بیانات کے ذریعے لوگوں کے پیٹ بھرنے کی کوشش ہو رہی ہے عوام کو بتایا جارہا ہے کہ

فلاں فلاں کے اکاؤنٹس سے اربوں کی ٹرانزیکشن ہوئی اور فلاں فلاں ملکوں میں اربوں کھربوں کی جائیدادوں کا کھوج لگا لیا مگر عوام یہ سن سن کر تھک گئے ہیں کہ انہیں بتایا جارہا ہے کہ ان چوروں ڈاکوؤں سے لوٹے ہوئے کتنے واپس قومی خزانہ میں آئے چند روز قبل انکشاف ہوا تھا کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس خوروں کے گرد گھیرا تنک کرنے کے لئے عالمی بینک برطانیہ کے ترقیاتی ادارے اور بین الاقوامی اداروں کی مدد سے ایف بی آر کی ترقی کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔ دس برس سے یہ منصوبہ التوا سے دو چار تھا منصوبہ درست مگر اس پر عمل کب ہوگا ٹیکس چوروں کا محاسبہ کب سے شروع ہوگا یہ درست ہے کہ حکومت کو پاکستان کے اداروں کی تائید و حمایت حاصل ہے اور اسے کوئی چیلنج درپیش نہیں لیکن یہ حکومت کی اہلیت کا امتحان ہے اور ریاستی ادارے اس لئے اس کے پیچھے کھڑے ہیں کہ وہ معیشت کو ٹیک آف کرائے اور اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے تاکہ ملک میں سیاسی و اقتصادی استحکام قائم ہو اور پاکستان آگے کی طرف چلے ۔ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ سے قرضوں کے خلاف رہے ہیں لیکن بہ امر مجبوری انہیں ملک کی خاطر اس طرف راغب ہونا پڑا لہٰذا قرضوں کے اعلانات اور دوستوں کی معاونت پر اکتفا کرکے نہیں بیٹھنا چاہئے خود بھی کچھ کرکے دکھانا پڑے گا ۔ دوست ممالک نے قرضے اس لئے دئیے کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اس کا بحران ختم ہو لہٰذا سہاروں پر زندگی گزارنے کی بجائے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی تدبیر کرنی چاہئے ایک نیو کلیئر پاور ہونے کے ساتھ ایک اقتصادی طاقت بن کر ہی ہم دنیا میں اپنا وقار قائم کرسکتے ہیں ۔

The post سہاروں پر زندگی گزارنے کی بجائے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی تدبیر کرنی چاہئے کیونکہ ۔۔۔ معروف تجزیہ کار نے تحریک انصاف کو بڑے کام کا مشورہ دے دیا appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://bit.ly/2SevyC7
via IFTTT

No comments:
Write komentar