Technology

Ads

Most Popular

Tuesday, 1 May 2018

نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھنے کا خدشہ۔۔۔۔عام انتخابات کو دور دھکیل دینے والی خبرآ گئی

 

جیکب آباد(ویب ڈیسک) متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ گیارہ نکات پیش کرنے والے خود نو دو گیارہ ہوجائیں گے، تمام پارٹیاں ایک نکاتی ایجنڈا’’اقتدارحاصل کرو‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔ خدشہ ہے کہ نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر سے بات چیت اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں نکات اور منشور تو پیش کرتی ہیں لیکن بعد میں وہ خود نو دو گیارہ ہوجاتی ہیں منشور اور نکات پیش کرنا اب فیشن ہوچکا ہے تمام پارٹیوں کا ایک نکاتی ایجنڈا رہ گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ جائے کیوں کہ ملک میں مطلع نگرانوں کی نگرانی میں صاف ہوگا اب صفائی میں کتنی دیر لگے گی وہ احتسابی موسم پر منحصر ہے کیوں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کرپیتا ہے اس لیے سینیٹ الیکشن کی طرح آخری مرحلے تک غیر یقینی کی صورتحال قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شریف کے احتساب کے بعد مشرف بھی اپنے احتساب کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ نواز شریف جہانگیر ترین کی طرح شریف اور مشرف دونوں کو بیلنس کیا جائے اور اس کا ادراک مشرف کو بھی ہوچکا ہے اس لیے لوگ یہاں سے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے

دبئی جاکر بیٹھ جاتے ہیں مشرف کو اب دبئی سے واپسی مشکل نظر آرہی ہے کیوں کہ اسے پتہ ہے کہ پاکستان آنے کے بعد دبئی واپسی مشکل ہوگی ویسے اقامہ مشرف کا بھی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر ابو الخیر زبیر کے درمیان امت کے اتحاد و یکجہتی کے متعلق گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے فرد واحد اور ایک خاندان کو بچانے کے لیے تمام اداروں کو داؤ پر لگانے کی مذمت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ کاش نواز شریف اپنے دور میں عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے یا کم از کم اپنے ہی نامزد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہی بخش دیتے مگر وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔جبکہ دعسری جا نب ایک خبر کی مطابق ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے علامہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر سے بات چیت اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں نکات اور منشور تو پیش کرتی ہیں لیکن بعد میں وہ خود نو دو گیارہ ہوجاتی ہیں منشور اور نکات پیش کرنا

اب فیشن ہوچکا ہے تمام پارٹیوں کا ایک نکاتی ایجنڈا رہ گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائیں اس کے بعد یہ نکات ختم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ جائے کیوں کہ ملک میں مطلع نگرانوں کی نگرانی میں صاف ہوگا اب صفائی میں کتنی دیر لگے گی وہ احتسابی موسم پر منحصر ہے کیوں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کرپیتا ہے اس لیے سیناےلیکشن کی طرح آخری مرحلے تک غیر یقینی کی صورتحال قائم رہے گی، انہوں نے کہا کہ شریف کے احتساب کے بعد مشرف بھی اپنے احتساب کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹرابو الخیر زبیر کے درمیان امت کے اتحاد و یکجہتی کے متعلق گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے فرد واحد اور ایک خاندان کو بچانے کے لیے تمام اداروں کو داؤ پر لگانے کی مذمت کی، اس موقع پر ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ کاش نواز شریف اپنے دور میں عوام کے ووٹوں سے منتخبپارلیمنٹ کو اہمیت دیتے یا کم از کم اپنے ہی نامزد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہی بخش دیتے مگر وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں انہوں نے حافظ حسین احمد کو مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ ایم ایم اے کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد نے مشائخ عظام اور ملی یکجہتی کونسل میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے اپنی ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا،دونوں رہنماؤں نے مزید بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

(ش،ز،خ)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HJ0pBF
via IFTTT

سیاستدانوں کے بعد خود نیب والوں کی باری آگئی۔۔۔ 22 افسروں کو کس کے سامنے پیش ہونے کا حکم مل گیا؟ جانیے

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیب نے سپریم کورٹ کے 31 مارچ 2017 کے فیصلے کی روشنی میں اپنے 22 افسران کو ذاتی سماعت کیلئے غیر قانونی تقرریوں کی تحقیقات کرنےوالی اشٹیبلشمنٹ ڈویژن کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونیکی ہدایت کر دی، ان افسران کو 2، 3 اور 4 مئی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی ہے

جہاں ان سے ذاتی سماعت کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اے ڈی گریڈ 17 محمد شعیب ، سابق اڈیشنل ڈائریکٹر گریڈ 19 مبشر گلزار، اڈیشنل ڈائریکٹر گریڈ 19 لیفٹیننٹ کرنل (ر) طارق محمود بھٹی، ڈائریکٹر گریڈ 20 ملتان عتیق الرحمٰن، ڈائریکٹر گریڈ 20 مرزا سلطان محمود سلیم، ڈائریکٹر گریڈ 20 کے پی فرمان اللہ ، ڈائریکٹر گریڈ 20 سکھر فیاض احمد قریشی شامل ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر گریڈ 20 رالپنڈی مسعود عالم ، ڈائریکٹر گریڈ 20 بلوچستان نعمان اسلم، ڈائریکٹر گریڈ 20 لاہور شہزاد سلیم، ڈائریکٹر گریڈ 20 راولپنڈی رضا خان ، ڈائریکٹر گریڈ 20 ملتان عبدالحفیظ خان، ڈاریکٹر گریڈ 20 بلوچستان مجاہد اکبر بلوچ اور ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور ایس ایم حسین کو 3 مئی کو طلب کیا ہے جبکہ اڈیشنل ڈائریکٹر گریڈ 20 کراچی عبدالحفیظ صدیقی ، اڈیشنل ڈائریکٹر گریڈ 20 سکھر غلام فاروق، ڈایریکٹر جنرل گریڈ 21 ہیڈکوارٹرز ظاہر شاہ ، ڈائریکٹر جنرل گریڈ 21 ہیڈکوارٹرز ، بریگیڈیئر (ر) فاروق نصر اعوان ، ڈائریکٹر جنرل گریڈ 21 کراچی محمد الطاف ، بھوانی ، ڈائریکٹر جنرل گریڈ 21 ہیڈکوارٹڑز حسین احمد کو 4 مئی کو اشٹیبلشمنٹ ڈویژن میں حاضرہونے کی ہدایت کی گئی ہے، ان افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ ضروری متعلقہ دستویزات جن کے زریعے وہ کمیٹی کو اپنا تقرری کے حوالے سے مطمئن کر سکتے ہوں اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2I0EM3f
via IFTTT

بریکنگ نیوز: (ن) لیگ کے دو اہم ترین ایم این ایز کا استعفیٰ۔۔۔مصدقہ خبر آگئی

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے والے ایم این اے مخدوم خسرو بختیار اور رانا قاسم نون کا اسمبلی سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا، ان کے دو ساتھی ارکان آج بھی استعفے کی تصدیق کرنے نہیں آئے۔ مخدوم خسرو بختیار اور رانا قاسم نون نے

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ آ کر اپنے استفعے کی تصدیق کی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے دونوں کے استفعفیٰ کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے مزید دو اراکین طاہر بشیر چیمہ اور مخدوم باسط بخاری پیر کو بھی استعفوں کی تصدیق کیلئے نہیں آئے۔ ذرائع کےمطابق وہ بھی بجٹ اجلاس کے دوران استعفوں کی تصدیق کر دیں گے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے والے ایم این اے مخدوم خسرو بختیار اور رانا قاسم نون کا اسمبلی سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا جبکہ ان کے دو ساتھی ارکان استعفے کی تصدیق کرنے نہیں آئے۔ مخدوم خسرو بختیار اور رانا قاسم نون نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ آ کر اپنے استفعے کی تصدیق کی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے دونوں کے استعفے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے مزید دو اراکین طاہر بشیر چیمہ اور مخدوم باسط بخاری گزشتہ روز بھی استعفوں کی تصدیق کیلئے نہیں آئے۔ ذرائع کے مطابق وہ بھی بجٹ اجلاس کے دوران استعفوں کی تصدیق کر دیں گے۔مسلم لیگ (ن)چھوڑنے والے 4میں سے 2ارکان ، مخدوم خسرو بختیار اوررانامحمد قاسم نون نے قومی اسمبلی سے اپنے استعفوںکی تصدیق کر دی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے رانامحمد قاسم نون اورمخدوم خسرو بختیار کے استعفوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جبکہ طاہر بشیر چیمہ اورمخدوم باسط بخاری چوتھیمرتبہ بھی استعفوں کی تصدیق کیلئے نہ آئے۔پیر کوترجمان قومی اسمبلی کے مطابق مستعفٰی ہونے والے رکن قومی اسمبلی مخدوم خسرو بختیار اور رانا قاسم نون نے اپنے استعفوں کی تصدیق کر دی ۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے رانا قاسم نون اور مخدوم خسرو بختیار کے استعفے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HIZFMT
via IFTTT

ہم اس وقت تک نیا بجٹ پیش نہیں کریں گے جب تک۔۔۔خیبر پختونخوا حکومت نے جمہوریت کی اصل روح کے مطابق چلنے کا فیصلہ کر لیا

 

پشاور( ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت کےاسمبلی میں اکثریت کھونے کے بعد آئندہ صوبائی بجٹ پر بھی بے یقینی کے بادل منڈلانے لگے ، حکومت نے اپوزیشن کی حمایت کے بغیر بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،صوبائی حکومت نے بجٹ کو اپوزیشن کے تعاون سے مشروط کرتے ہوئے فیصلہ

کیا ہے کہ اپوزیشن بجٹ منظوری آمادگی کی صورت میں ہی بجٹ پیش کیا جائیگا اس مقصد کیلئے سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن کیساتھ رابطوں کا ٹاسک سونپ دیا گیا جو آج اپوزیشن لیڈر سمیت تمام پارلیمانی قائدین سے دوبارہ رابطے کریں گے تاہم عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بجٹ کی حمایت نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب سینیٹ کی اپوزیشن جماعتوں نے حکمراں جماعت کی جانب سے پیش کردہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئندہ حکومت کے لیے ‘خطرہ’ قرار دے دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شریں رحمٰن نے سیشن کے آغاز میں کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی عدم موجودگی پر بجٹ ‘غیر آئینی’ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان سے رخصت ہونے والے حکومت کوئی قانونی جواز نہیں رکھتی کہ وہ آئندہ سال کا بجٹ پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غیر پارلیمانی رویہ اختیار کیا اور سیشن کے آغاز کے وقت ایک وزیر بھی نہیں تھا، 104 سینیٹ کے اراکین میں سے 26 ایوان میں موجود تھے جس میں سے 9 حکومتی نشستوں کے تھے۔ اپوزیشن لیڈر نے سینیٹ

چیئرمین صادق سنجرانی سے کہا کہ ‘جولوگ ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں، ان کے وزیر کہاں چلے گئے؟’۔ انہوں نے زور دیا کہ ‘پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے اور اس پر ناقص حکومت کا ناقص بجٹ خالصتاً انتخابات سے قبل دھاندلی ہے’۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش خطرات کے پیش نظر انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی منڈی میں ٹیکسٹائل صنعت کی 23 فیصد مارکیٹ کھو چکا ہے، 150 ملز بند ہیں جو کہ خطرناک علامت ہے کیونکہ پاکستان کاٹن کی پیداوار کرنے والا دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ شریں رحمٰن نے کہا کہ ‘ہمارے گردشی قرضے 10 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں، پانی کے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں جبکہ بجٹ میں صرف 38 ارب روپے پانی کے لیے مختص کیے گئے جس میں کسی کی مشاورت شامل نہیں’۔انہوں نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ محض قرضہ اتارنے اور پھر لون لینے جیسا ہے، یہ بجٹ فنانشل ایمرجنسی کے مترادف ہے جس کی وجہ سے اگلی حکومت قرضہ اتارنے میں لگی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں امیروں کو ٹیکس کی مد میں 30 رعایت دی گئی لیکن غریب کے لیے کچھ نیہں کیا گیا، حکومت نے عوام کو کوئی سہولت فراہم نہیں کیا۔ خاتون سینیٹر نے واضح کیا کہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ پانچ برسوں میں تفویض نہیں کیا گیا، مذکورہ بجٹ آئین کے منافی ہے’۔ شریں رحمٰن نے بتایا کہ صدارتی ہاؤس کے لیے یومیہ 98 لاکھ روپے مختص کیے گئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں یہ 6 لاکھ روپے یومیہ تھا اور 8 کھرب روپے کی بے ضابطگیاں حکومتی کھاتوں میں پائی گئی ہیں۔ شرین رحمٰن کا کہنا تھا کہ ایوان میں وزراء کی غیر حاضری پر تعجب ہے ‘اگر یہ پارلیمنٹ کی توہین نہیں تو کیا ہے؟’ حکومت ریاستی اداروں کا مذاق اڑانا بند کریں۔(ذ،ک)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2I15B7d
via IFTTT

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں: رانا ثنا اللہ اور طلال چوہدری کو پی ٹی آئی کے جلسے پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا، کل کیا واقعہ پیش آ گیا؟ جانیے

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے کہاہے رانا ثنا اللہ اور طلال چوہدری نے جوکچھ کہا، غلط کہا، اس کی مذمت کرتا ہوں۔نجی نیوز کے مطابق ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ وہ مائیں، بہنیں جو سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے باہرنکلتی ہیں، ان

کے متعلق ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے، خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ان کاتعلق ہو۔ انہوں نے کہا کہ شبلی فرازبھی قومی میڈیا پر بیٹھ کر بکواس جیسے الفاظ استعمال نہ کریں۔عمران خان کے11 نکات میں سے 10صوبائی سطح کے ہیں، وہ گورننس اورخارجہ پالیسی کی بات کرتے، جس سے ان کی بصیرت کا پتا چلتا۔پی ٹی آئی کے شبلی فرازنے کہا کہ طلال چوہدری اورراناثناءاللہ نے ہماری ماﺅں ،بہنوں کے خلاف بکواس اورگھٹیازبان استعمال کی۔ ہم اپنے 11نکات پرمن وعن عملدرآمدکریں گے۔پیپلزپارٹی کے مولابخش چانڈیونے کہاکہ 18ویں ترمیم پوری قوم نے کی، پی ٹی آئی کے پاس اس میں ترمیم کی طاقت نہیں ہوگی،کیایہ فرشتے ہیں؟۔یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عابد شیر علی اور رانا ثناءاللہ کی جانب سے پارٹی کی خواتین کے لیے استعمال کی گئی زبان کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اپنے ٹوئیٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سالوں میں ان لوگوں نے خواتین کی توہین کی ہے جو ہماری ثقافت اور مذہب کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اتوار کے روز لاہور میں مینار پاکستان پر بڑی تعداد میں خواتین کی جانب سے شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

عمران کان نے کہا کہ رانا ثناءاللہ اور ان کے دیگر ساتھی شریف برادران کی خواتین کے بارے میں ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔یاد رہے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے مینار پاکستان میں تحریک انصاف کے میگا پاور شو پر رد عمل دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ن لیگ کے رہنما نے تضحیک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں شریک خواتین گھریلو نہیں تھیں، ناچ گانا بتارہا تھا کہ وہ کہاں سے آئی ہیں۔پی ٹی آئی جلسے پر رانا ثناءاللہ کا رد عمل نہایت افسوس ناک رہا، نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کل اسٹیج پر فصلی بٹیرے اور لوٹے براجمان تھے، جلسے میں دہاڑی دار طبقے کو اکھٹا کیا گیا تھا۔سابق ن لیگی رہنما ندیم افضل چن کے بارے میں نامناسب تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک لوٹے کے دانت نظر آرہے تھے، روشنی پڑی تو پتا چلا کہ ندیم افضل چن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں لوٹوں کا پیچھا کریں گے، پنجاب کے سب سے بڑے لوٹے کا مقابلہ نواز شریف یا یا مریم نواز کریں گی۔رانا ثناءاللہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری نے کہا جلسے میں سیاست دانوں کی فیملیاں بھی شریک تھیں، ن لیگ کی لیڈر شپ گندی زبان استعمال کر رہی ہے، رانا ثنا جیسے لوگوں کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے بھی لیگی رہنما کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ایسے بیانات سے بے حد افسوس ہوا، عمران خان کی اہلیہ کے لیے طلال چوہدری کے الفاظ بھی افسوس ناک ہیں، ہمیں کسی کی ذات سے متعلق ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔(ذ،ک)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2I1pGue
via IFTTT

Monday, 30 April 2018

Happy Birthday, Karl Marx. You Were Right!

 

By JASON BARKER from NYT Opinion https://ift.tt/2vW5u8n

North Korea, Sprint, Michelle Wolf: Your Monday Briefing

 

By CHRIS STANFORD from NYT Briefing https://ift.tt/2jfPwMZ