Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 30 June 2018

اسرائیلی گولہ باری سے غزہ میں شہید کی ماں زخمی

 

اسرائیلی گولہ باری سے غزہ میں شہید کی ماں زخمی (بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین)

The post اسرائیلی گولہ باری سے غزہ میں شہید کی ماں زخمی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2yTlQQk
via IFTTT

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش شروع، ایک خلیجی ریاست کا کلیدی کردار

 

(تسنیم خیالی)
امریکہ کی ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، خاص طور پر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس غیر قانونی اقدام کے بعد ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو کم کرنے اور کسی حل تک پہنچنے کیلئے کوشش شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے فرانسیسی رسالہ ’’انٹیلی جنس آن لائن‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سلطنت عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کیلئے خفیہ طور پر ثالثی کا کردار شروع کریا ہے، ویسے عمان ایک ایسا ملک ہے جو ہمیشہ سے غیرجانبدارانہ پالیسی پر عمل کرتا آرہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمان علاقائی مفادات پر زور دیتا ہے اور ایک پر امن علاقے کا خواہاں ہے۔

فرانسیسی رسالہ ’’انٹیلی جنس آن لائن‘‘کے مطابق حال ہی میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی عمانی ہم منصب یوسف بن علوی سے اہم ملاقات ہوئی جس میں عمانی انٹیلی جنس چیف جنرل سلطان محمد النعمانی بھی شریک تھے، ملاقات میں امریکہ کی غیر قانونی وغیراخلاقی طور پر جوہری معاہدے دستبرداری اور اس اقدام سے پیدا ہونے والے منفی اثرات پر بات چیت ہوئی، رسالے کے مطابق عمانی عہدیداروں کی امریکیوں سے بھی اس معاملے میں بات چیت ہوئی ہے، تاہم عمان اور امریکہ کی طرف سے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے اسے صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے۔

عمان نے پچھلی بار ایرانی جوہری معاہدےکی ابتدائی بات چیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اس معاہدے کی ابتدائی بات چیت اور مذاکرات عمان میں ہی ہوئے تھے، جسے آگے بڑھانے میں عمان نے قابل قدر کوششیں کی تھیں، عمان کی یہ ثالثی اور غیر جانبداری خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب، امارات اور بحرین کوپسند نہیں، جس کی وجہ سے عمان ہمیشہ سے ان ممالک کی سازشوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، ان ممالک کی کوشش ہے کہ عمان میں کسی بھی طرح سیاسی طور پر تبدیلی لائی جائے اور وہ (عمان) ان کے ماتحت ہو، عمان اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کو قدرے کم کرنے کی کوشش کررہا ہے مگر ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ، خاص طور پر سعودی عرب ، امارات اور اسرائیل کی طرف سے جو ایرانی جوہری معاہدے کے سب سے بڑے مخالف تھے، امریکہ میں بھی بہت سے عہدیداروں کی کوشش یہی ہے کہ عمان کی ثالثی ناکام ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمان اپنے اس مشن میں کامیاب ہوگا؟ اور اگر ہوجاتا ہے تو کیا امریکہ اپنی غیر منطقی اور ناقابل قبول فرمائشیں ترک کردے گا۔

The post ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش شروع، ایک خلیجی ریاست کا کلیدی کردار appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2lGmjw2
via IFTTT

مظلوم امریکیوں کا قتل عام

 


(ثاقب اکبر)
(29 جون 2018ء) کو ایک مرتبہ پھر امریکہ سے ایک ہولناک سانحے کی خبر آئی ہے، جس کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں ایک مقامی اخبار کے دفتر پر ایک مسلح شخص نے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہوگئے۔ اخبار کے دفتر کو ہدف بنا کر حملہ کیا گیا تھا۔ مسلح شخص نے نیوز روم میں فائرنگ کرکے ان افراد کو قتل کیا۔ امریکہ میں آئے روز قتل کے اندوہناک واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے چند ایک ہمارے اخبارات میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے ٹی وی چینلز اور اخبارات کو مقامی اور زیادہ سے زیادہ قومی خبروں کے علاوہ کوئی چیز نہیں سوجھتی بلکہ وہ زیادہ تر سیاستدانوں کی نوک جھونک سے بھرپور بریکینگ نیوز چلا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کہاں کتنے لوگ کس نے مار دیئے ہیں، کی کسے خبر ہوسکتی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنے ہی سویلین لوگوں کے ہاتھوں سے سب سے زیادہ امریکی شہری قتل ہوتے ہیں۔ تمام شعبوں کے اور ہر عمر کے لوگ مارے جا رہے ہیں اور مارنے والوں میں بھی ہر طرح کے اور ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ شاید یہ کہنا بجا ہو کہ دنیا میں سب سے زیادہ قتل و غارت اور دہشتگردی کے واقعات امریکہ میں ہوتے ہیں۔ البتہ یہ امر بھی حقیقت رکھتا ہے کہ امریکی عوام کے پاس سب سے زیادہ اسلحہ موجود ہے، جبکہ اس میں سے بہت سا اسلحہ قانونی بھی ہے۔

امریکہ میں یہ تحریک کئی مرتبہ چل چکی ہے کہ اسلحے کے حصول کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں اور لوگوں کے پاس موجود اسلحہ اکٹھا کیا جائے، جہاں ناگزیر ضرورت ہے، وہاں کسی کو اس کے لئے لائسنس جاری کیا جائے۔ اس کے لئے خاص طور پر سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں تحریک چلی تھی اور خود امریکی صدر نے شہریوں کے پاس موجود اسلحے کے حوالے سے نئی قانون سازی کا عندیہ دیا تھا، لیکن طاقتور اسلحہ فروش ان کے راستے میں حائل ہوگئے اور انہوں نے اس سلسلے میں قانون سازی نہیں ہونے دی۔ آخر کار امریکی صدر ہی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ وہی اسلحہ ساز ہیں جو پوری دنیا کو طرح طرح کا اسلحہ بیچتے ہیں اور قوموں کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ جہاں بھی دو ملکوں یا دو قوموں کے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے، امریکی اسلحہ فروشوں کی چاندی ہو جاتی ہے بلکہ وہ تو اپنے سیاسی قائدین کی مدد اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ اسلحہ فروشی کے لئے ایسے حالات پیدا کریں کہ قومیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدیں۔ چنانچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض میں منعقد ہونے والے اسلامی ممالک کے اجلاس کی صدارت کے موقع پر امریکی اسلحے کی تعریف کی اور مختلف عرب راہنماؤں سے کہا کہ امریکہ کا اسلحہ بہت خوبصورت ہے۔

ایک بے رحم سرمایہ دار یا بے رحم سرمایہ داروں کا نمائندہ ہی ایسی بات کرسکتا ہے۔ کون نہیں جانتا ہے کہ اسلحہ انسان کشی کے کام آتا ہے۔ امریکہ کا جدید ہولناک اور خطرناک اسلحہ دنیا میں تباہی پھیلا رہا ہے اور یہی اسلحہ امریکہ کے اندر انسان کشی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سب سے آسان قتل نوجوانوں، بچوں اور طلبہ کا ہے، چنانچہ امریکہ میں زیادہ تر سکول کے بچوں ہی کو قتل کیا جاتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013ء سے لے کر 2018ء کے آغاز تک سکولوں اور سکولوں کے آس پاس قتل اور دہشتگردی کے 291 واقعات رونما ہوئے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعہ کے نتیجے میں پاکستانی نوجوان طالبہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں، جن کی نعش بعدازاں کراچی پہنچائی گئی۔ امریکہ کی اس وقت آبادی بتیس کروڑ سڑسٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اپریل 2017ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی عوام کے پاس رجسٹرڈ اسلحے کی تعداد 44,36,096 تھی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کل اسلحہ امریکی عوام کے پاس کس قدر ہے کیونکہ وہ ملک جس میں متعدد علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہوں، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس ریاست میں یہ تحریک کس درجے تک پہنچ چکی ہے اور آزادی پسندوں کے پاس کس قدر اسلحہ موجود ہے۔ اسلحہ فروش سرمایہ داروں کو چونکہ اپنی دولت سے غرض ہے، امریکی وفاق قائم رہتا ہے یا نہیں شاید ان کو اس سے زیادہ سروکار نہ ہو، اس لئے وہ ہر ریاست میں زیادہ سے زیادہ اسلحہ بیچنے کے درپے ہیں۔

امریکہ کے اندر عوام جن مشکلات سے دوچار ہیں، اس کا ایک اظہار 2011ء میں امریکی عوام کے وال اسٹریٹ دھرنے میں ہوچکا ہے۔ یہ دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا تھا اور اس کی حمایت میں دنیا بھر کے سینکڑوں شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔ دنیا کے تقریباً آٹھ سو سے زیادہ شہروں میں ایک ہی روز ان امریکی عوام سے ہم آہنگی کے لئے مظاہرے کئے گئے تھے۔ اس زمانے میں اس دھرنے کو عرب بہار کے مقابلے میں امریکی بہار کہا گیا تھا اور خود امریکیوں نے بعض بینرز پر لکھا تھا کہ ”آؤ امریکیو، امریکی بہار کے لئے جدوجہد کریں۔“ ان مظاہروں میں حصہ لینے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ آزاد نہیں ہیں بلکہ امریکہ کے ننانوے فیصد عوام ایک فیصد امیر طبقے کے غلام ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ عام آدمی ان سے یہ طاقت چھین لے۔ ان مظاہروں نے پوری دنیا کو ششدر کرکے رکھ دیا تھا اور ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ امریکی عوام اپنے اوپر حاکم سرمایہ داری نظام سے کس قدر نالاں ہو چکے ہیں۔ جیسے دیگر دنیا کے آزادی پسندوں کو استعماری طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دبا دیتی ہیں یا ان کی تحریکوں کا رخ موڑ دیتی ہیں، یہی حال وال اسٹریٹ تحریک کا بھی ہوا، لیکن اس تحریک کی لہریں ضرور امریکی معاشرے کی مختلف تہوں میں موجود ہیں۔ اس تحریک سے اندازہ ہوتا تھا کہ امریکی عوام کس قدر حقائق کو سمجھتے ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملا وہ سرمایہ داری نظام سے آزادی کے لئے درست فیصلہ کریں گے۔

ان مظاہروں میں شریک عوام کا ایک بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امریکی افواج کو واپس بلایا جائے اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغانستان اور عراق پر مسلط کی گئی جنگوں پر ٹریلین ڈالرز کا خرچ امریکی عوام پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ ان افواج کو واپس امریکہ لایا جائے اور ان کے ذمے صرف امریکی سرحدوں کا دفاع ہونا چاہیے۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت مالیاتی اداروں کو بچانے کے لئے بے پناہ قرضے لے رہی ہے اور ان قرضوں کی ادائیگی کا سارا بوجھ عوام پر لاد رہی ہے۔ بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عوام کو دی گئی سہولیات میں کٹوتی کی جا رہی ہے۔ مظاہرین میں مقبول ترین نعرہ یہ تھا کہ ایک فیصد سے اقتدار چھین کر ننانوے فیصد عوام کے سپرد کیا جائے۔ بعض امریکی ریاستوں کے عوام کا تاثر یہ ہے کہ اگر وہ وفاق سے علیحدہ ہو جائیں تو ان کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔ ان کے وسائل وفاق صحیح طور پر استعمال نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے کئی ایک امریکی ریاستوں کے اندر احساس محرومی پایا جاتا ہے۔

یہ حقائق اس وقت کھل کر سامنے آتے ہیں، جب محروم ریاستوں میں سے کسی میں کوئی قدرتی آفت نمودار ہوتی ہے۔ اس وقت لوئیسیانا، ٹیکساس، مونٹانا، انڈیانا، مسیسپی، کینٹکی، شمالی کیرولینا، الاباما، فلوریڈا، جارجیا، نیوجرسی، کولوراڈو، اوریگون اور نیو یارک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ امریکی عوام اپنے حکمرانوں کی وجہ سے پوری دنیا میں خوف میں مبتلا رہتے ہیں، کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں مقبول ترین نعرہ ”مردہ باد امریکہ“ ہے۔ اس کا اثر دنیا میں سفر کرنے والے بے گناہ امریکیوں پر بھی ہوتا ہے کیونکہ لوگ انہیں نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں، یہ ظالم سرمایہ دار حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس کے خلاف جو چاہے بول دیتے ہیں۔ ان دنوں یورپی یونین بھی ان کی توپوں کی زد میں ہے، جب کہ روایتی طور پر مغربی یورپ ان کے اتحادیوں پر مشتمل رہا ہے۔ گذشتہ دنوں امریکی صدر نے کینیڈا کے وزیراعظم کے لئے بھی سخت زبان استعمال کی۔ چین بھی امریکی صدر کی سرزنش سے محفوظ نہیں۔ عرب خلیج تعاون کونسل کے اندربھی دراڑیں ڈالنے میں صدر ٹرمپ کا بنیادی کردار سامنے آچکا ہے۔

تل ابیب سے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی ہے۔ یہ قرارداد عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں کے خلاف ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مئی 2018ء میں استنبول میں او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں بھی اس امریکی فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکمران دنیا میں سب سے زیادہ ناپسند کئے جانے والے حکمران ہیں اور داخلی طور پر امریکی عوام اپنے حکمرانوں سے نالاں ہیں۔ تاہم یہ امر باعث تاسف ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ظلم و زیادتی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے لیکن مظلوم امریکیوں کو بے رحم امریکی سرمایہ داروں سے نجات دلانے کے لئے دنیا سے بالعموم آواز نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں آزادی پسند اور عدل و انصاف سے محبت کرنے والے لوگ ان مظلوم امریکی عوام کے لئے بھی آواز بلند کریں۔ یہ آواز بیک وقت مشرق و مغرب سے اٹھانا چاہیے۔ یورپی، ایشیائی، افریقی اور دیگر خطوں کے عوام کو اسی طرح سے امریکی عوام کے لئے آواز اٹھانی چاہیے، جیسے ہر سال یکم مئی کو شکاگو کے شہیدوں کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے۔

The post مظلوم امریکیوں کا قتل عام appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2IDP6u0
via IFTTT

الیکشن 2018ء، تکفیری امیدواروں کو کلیئرنس کیسے ملی؟

 

(تحریر: ابوفجر لاہوری)
الیکشن 2018ء کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم جاری ہے۔ انتخابی مہم میں وہ تیزی دکھائی نہیں دے رہی جو ہونی چاہیئے تھی، تاہم واقفان حال اور سینیئر سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ الیکشن بروقت ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ یہ انتخابات دو ماہ یا اس سے تھوڑا کم عرصے کیلئے التواء کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پنجاب میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے حوالے سے مقررہ تاریخ گزر چکی ہے۔ اس حوالے سے حیرت انگیز صورتحال یہ ہے کہ الیکشن 2018ء میں جہاں سیاسی جماعتیں میدان میں اتری ہیں، وہاں مذہبی جماعتیں بھی بھرپور جدوجہد کر رہی ہیں کہ وہ بھی پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو ہی جائیں، جبکہ معتدل مذہبی جماعتوں کیساتھ تکفیری گروہ بھی سرگرم ہے۔ مذہبی جماعتوں کی بات کی جائے تو اس حوالے سے 5 جماعتی مذہبی اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ بھی میدان میں اُتر چکی ہے، جبکہ ملی مسلم لیگ رجسٹرڈ نہ ہونے سے دوسرے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ اسی طرح تحریک لبیک کے دونوں دھڑے بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایک دھڑے کی قیادت خادم حسین رضوی جبکہ دوسرے کی آصف اشرف جلالی کر رہے ہیں۔ سنی تحریک نے بھی اپنے طور پر اپنے امیدوار میدان میں اُتارے ہیں، سنی اتحاد کونسل بھی میدان میں ہے جبکہ مجلس وحدت مسلمین نے اپنے امیدواروں کو اختیار دیدیا ہے کہ مقامی سطح پر صورتحال دیکھ کر کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کیساتھ الحاق کر لیا جائے۔ البتہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے مسلم لیگ (ن) کیساتھ اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری الیکشن کا بائیکاٹ کرکے ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ جمعیت علمائے پاکستان (نیازی) نے بھی الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

اس الیکشن میں حیرتناک بات یہ ہے کہ معتدل مذہبی جماعتوں کیساتھ ساتھ کالعدم جماعتیں بھی میدان میں اُتر آئی ہیں۔ یہاں یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کالعدم جماعتوں کے ان تکفیری لیڈروں کو کس قوت نے کلیئر کروایا ہے۔ الیکشن ایپلٹ ٹربیونل نے کالعدم سپاہ صحابہ جو اس وقت اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کر رہی ہے، کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کو الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار دے دیا ہے۔ مولانا لدھیانوی کے کاغذات نامزدگی اعتراضات کے باعث ریٹرننگ افسر نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مولانا لدھیانوی نے الیکشن اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کیا۔ الیکشن ٹربیونل نے 25 جون کو الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو طلب کیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد احمد لدھیانوی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ 2 دن فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد آج (27 جون) کو ایپلٹ ٹربیونل نے فیصلہ سنا دیا، جس میں مولانا احمد لدھیانوی کو الیکشن میں حصہ لینے کیلئے گرین سگنل دیدیا گیا۔ مولانا احمد لدھیانوی کیخلاف اعتراضات یہ لگائے گئے تھے کہ وہ تکفیری گروہ کے سربراہ ہیں، ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے جبکہ ان کیخلاف مذہبی منافرت پھیلانے، قتل، اقدام قتل سمیت دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں۔

مولانا لدھیانوی پر عائد کئے گئے اعتراض میں یہ الزامات آن ریکارڈ تھے، مگر اچانک ’’خفیہ ہاتھ‘‘ حرکت میں آگیا اور ان کے کاغذات نامزدگی کلیئر قرار دے دیئے گئے۔ مولانا لدھیانوی کا نام بھی فورتھ شیڈول سے اچانک ختم ہوگیا اور ان کیخلاف درج کئے گئے مقدمات بھی ایک دم غائب ہوگئے۔ اسی طرح جھنگ سے ہی پی حلقے کے امیدوار مولانا مسرور نواز جھنگوی کو بھی الیکشن ٹربیونل نے گذشتہ روز کلیئر قرار دیدیا تھا۔ مسرور نواز جھنگوی کیخلاف بھی وہی اعتراضات عائد کئے گئے تھے جو احمد لدھیانوی پر عائد کئے گئے ہیں، مگر اطلاعات کے مطابق مولانا مسرور نواز جھنگوی کا نام فورتھ شیڈول سے اُس وقت نکالا گیا تھا، جب وہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت کر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے اور ایم پی اے بنتے ہی انہوں نے کالعدم سپاہ صحابہ سے لاتعلقی کا اعلان کرکے جے یو آئی (ف) جوائن کر لی تھی۔ جے یو آئی کا رکن بننے پر مولانا فضل الرحمان جو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اتحادی تھے، نے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کی ’’مہربانی‘‘ سے مسرور نواز جھنگوی کا نام فورتھ شیڈول سے نکلوا دیا تھا۔ اسی طرح مسرور جھنگوی سمیت سپاہ صحابہ کے جتنے رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج تھے، وہ بھی کلیئر کروا دیئے تھے۔ اب تمام تکفیری رہنما دودھ کے دھلے بن چکے ہیں اور الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

کراچی سے کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما اورنگزیب فاروقی کو بھی کلیئرنس مل چکی ہے۔ وہ بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح جھنگ سے ہی امیر معاویہ بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے تکفیری لیڈروں کو ایک تسلسل کیساتھ کلیئرنس ملی ہے۔ جس سے محسوس یہ ہو رہا ہے کہ کسی خفیہ ہاتھ نے ان کی مدد کی ہے۔ پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔ ماضی میں جن قوتوں نے انہیں استعمال کیا اور پاکستان میں خانہ جنگی کو فروغ دیا۔ لگتا ہے وہی بیرونی قوتیں ایک بار پھر فعال ہوئی ہیں اور انہوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں کلیئر کروایا ہے۔ تکفیری لیڈر الیکشن کیلئے تو خفیہ ہاتھ کی سفارش پر اہل ہوگئے ہیں، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ عوامی سطح پر انہیں ووٹ ملتے ہیں یا مسترد کر دیئے جاتے ہیں۔ جھنگ سے مسلم لیگ (ن) کا صفایا ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) جھنگ میں کالعدم سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کی اتحادی اور حامی تھی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ گذشتہ الیکشن میں مسرور جھنگوی کی فتح میں بھی سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا ہاتھ تھا۔ تاہم رانا ثناء اللہ نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سپاہ صحابہ کی جانب جھکاؤ کے باعث جھنگ میں صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ بہت سے پرانے لیگی رہنما اب پی ٹی آئی کی کشتی پر سوار ہوچکے ہیں یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

کالعدم سپاہ صحابہ کے سیاسی میدان میں اترنے والے تکفیری رہنماؤں کے حوالے سے یہ بھی خبر ہے کہ ان کے ’’خفیہ سرپرستوں‘‘ نے انہیں آخری موقع دیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انہیں کہا گیا ہے کہ ان کیلئے یہ آخری موقع ہے، ان کو سیاسی دھارے میں لانے میں ان کی مدد کی جا رہی ہے، اس سے آگے انہوں نے خود اپنی تکفیری پالیسی ترک کرکے اپنا قد کاٹھ خود بنانا ہے۔ تکفیری جماعت کے یہ رہنما اگر الیکشن جیت جاتے ہیں تو کیا پارلیمنٹ میں پہنچ کر یہ امن کی بات کریں گے؟؟ ایسا ظاہری طور پر تو ممکن دکھائی نہیں دے رہا، کیونکہ جن قوتوں نے انہیں ’’تخلیق‘‘ کیا تھا، ان کیلئے اِن کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا، مخالف فرقے کی تکفیر اور ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا۔ یہ لوگ اس کام میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مولانا لدھیانوی ایک عام سے حکیم کے مطب سے اُٹھ کر ایک جماعت کے سربراہ بن گئے۔ تو اس کے پیچھے مقاصد تھے۔ ورنہ کمالیہ شہر میں وہ چھوٹا سا مطب آج بھی موجود ہے، جسے احمد لدھیانوی چلایا کرتے تھے۔ خفیہ قوتوں نے شفا کی پڑیا تقسیم کرنیوالے حکیم کو زہر کی گولیاں بانٹنے پر لگا دیا۔ اب وہ کس طرح اس ڈگر کو چھوڑے سکتے ہیں۔؟ ان کا پارلیمنٹ میں پہنچنا ملک کی سلامتی کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے، مفید نہیں۔ جو قوتیں ان کی سرپرستی کر رہی ہیں، وہ پاکستان کی پہلے خیر خواہ تھیں نہ اب ہیں، اس لئے عوام کو ہی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا اور ان تکفیریوں سے پارلیمنٹ کو بچانا ہوگا۔ ورنہ مسجد کے منبر سے اُگلی جانیوالی آگ اگر پارلیمنٹ میں پہنچتی ہے اور وہاں سے نکلتی ہے تو سب کچھ راکھ کر دے گی۔

دوسری جانب تکفیری رہنماؤں کو کلیئرنس ملنے سے مخالف فرقہ کے رہنماؤں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے، لیکن ان کی جانب سے واضح ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ممکن ہے مخالف فریق کے قائدین اس حوالے سے کوئی اپنی حکمت عملی تیار کر رہے ہوں اور ابھی موقع بھی ہے کہ الیکشن میں ان کیخلاف زمینہ سازی سے ان کو پارلیمنٹ میں جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ووٹ نہ دیں، جو ملکی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ملک کے امن کی کنجی اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔ الیکشن میں وہ ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو معتدل اور تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول ہوں۔ ایسے لوگ جو فرقہ واریت یا دہشتگردی میں ملوث رہے ہوں، ان کو زمام اقتدار دینا ’’بندر کو ماچس‘‘ دینے کے مترادف ہے، جس سے جنگل میں آگ ہی لگے گی، امن کے پھول نہیں کھلیں گے۔

The post الیکشن 2018ء، تکفیری امیدواروں کو کلیئرنس کیسے ملی؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2N6GTlL
via IFTTT

کیا سعودی عرب ٹوٹ رہا ہے؟

 

(لیاقت تمنائی)

2015ء میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر اس یقین کے ساتھ دھاوا بولا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر انصاراللہ کی تحریک کو کچل کر دوبارہ سے مفرور صدر منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرکے بحرین طرز پر پہلے کی طرح مکمل کٹھ پتلی سعودی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، کیونکہ سعودی عرب ہمیشہ مہروں کے ذریعے اپنا کھیل باآسانی کھیلتا آیا ہے۔ پھر وہ ہوا جو سعودی عرب کے جنگجو ولی عہد نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔ اس جنگ کو تین سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، لیکن یہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، ایک دلدل ہے جس میں سعودی عرب دھنستا ہی چلا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کو ہمیشہ سے ہی اپنے پٹرو ڈالر پر منحصر معیشت پر ناز رہا ہے، کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی پیداوار کا حامل ملک ہے اور یہیں پر ہی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو موجود ہے۔ تیل کے بے تحاشا پیسوں سے دنیا بھر میں سعودی انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار اور وہابیت کے فروغ کے ذریعے غیر روایتی نظریاتی وج کی تشکیل پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔

سعودی ولی عہد بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مغرب کے کہنے پر افغان جنگ کے دوران دنیا بھر خصوصاً پاکستان اور افغانستان میں وہابیت کے فروغ کیلئے سعودی عرب نے سرمایہ کاری کی تھی۔ اسی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ اور بعض افریقی ممالک میں سعودی فنڈز سے چلنے والے مدارس اور مساجد کا وسیع نیٹ ورک وجود میں آچکا ہے۔ مختلف تنظیموں پر بھی پیسے خرچ کئے گئے، جبکہ کئی ممالک میں حکومتیں گرانا اور بنانا بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے۔ یمن جنگ اسی منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے شروع کی گئی تھی کہ انہیں دنیا بھر سے ہمدردی اور ریال کی بنیاد پر فوری طور پر فزیکل سپورٹ مل جائے گی۔ جنگ کے فوری بعد فوج بھجوانے کیلئے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا، لیکن پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے ناکام بنا دیا، جس کے بعد سے سعودی عرب پاکستان سے ناراض ہے۔ گو کہ یمن جنگ میں پاک فوج باقاعدہ طور پر شریک نہیں، تاہم حال ہی میں عسکری حکام یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستانی فوج کی قابل ذکر تعداد کو سعووی عرب بھیجا جا چکا ہے۔ پاک فوج کے بقول یہ اہلکار سعودی فوجیوں کی ٹریننگ تک محدود ہونگے۔

پاک فوج کو یمن جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد پرائیویٹ سطح پر بھرتیوں کا عمل شروع ہوا۔ حال ہی میں خپلو سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بھرتی ہونے کیلئے گئے تھے، تاہم انہیں اس بنیاد پر واپس بھیج دیا گیا کہ ان کا تعلق ایک خاص مسلک سے نہیں ہے۔ بھرتی کرنیوالے حکام کا موقف تھا کہ سعودی فوج میں بھرتی ہونے کیلئے صرف خاص مسلک کے بندے چاہیں۔ نجی سطح پر فوج کی بھرتی کے ساتھ ساتھ نظریاتی سطح پر بھی خاص مہروں کو استعمال میں لایا گیا۔ یمن جنگ کی ابتداء سے ہی سعودی عرب کی کوشش رہی ہے کہ جنگ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جائے اور سعودی عرب سالمیت کو کسی خاص مکتب سے خطرہ ظاہر کیا جائے اس مقصد کیلئے مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کو حوثیوں سے خطرے کا واویلا پورے شد و مد کے ساتھ کیا گیا۔ اس سازش میں کامیاب ہونے کی صورت میں سعودی عرب کو دنیا بھر سے ہمدری ملنا یقینی امر تھا، لیکن یہ سازش بری طرح ناکام ہوئی۔ شیعہ سنی دونوں نے اس سازش کو بھانپ لیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک ایک پتا سعودیوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، یمن جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

13 جون کو سعودی اتحاد نے پوری طاقت سے الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ کیا۔ دوسری مرتبہ یہ غلط فہمی کی گئی کہ سعودی عرب وحشیانہ بمباری کے ذریعے بندرگاہ کنٹرول حاصل کر لے گا، لیکن نتیجہ پہلے سے زیادہ بھیانک نکلا۔ خبروں کے مطابق سینکڑوں سعودی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ساڑھے تین سو بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے، سعودی اتحاد والی فوج میدان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ انصار اللہ کے جنگجوؤں کے نرغے میں میں ہیں۔ دوسری جانب الحدیدہ میں مار کھانے کے باؤجود سعودی میڈیا نے اپنے عوام کا دل بہلانے کیلئے الحدیدہ پر کنٹرول کا پروپیگنڈا شروع کیا۔ سعودی عرب میں چونکہ میڈیا بادشاہی کنٹرول میں ہے، اس لئے جھوٹی خبروں کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے، الحدیدہ کا معرکہ یمن کے عوام کیلئے فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ یہاں سے اگلا منظرنامہ وجود میں آسکتا ہے، جو کہ سعودی اتحاد کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے۔

جنگ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے اندر تک پھیل چکی ہے، اسٹریٹجک نقطہ نگاہ سے یہ ایک سنگین خطرہ ہے، عسکری مہم جوئی کی منصوبہ بندی میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ جنگ کا دائرہ کم سے کم ہو اور کم سے کم مدت میں اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے۔ جنگ کا دورانیہ طویل ہونے سے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوگا، جو کہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کیلئے بھی ناقابل برداشت امر ہے۔ دوسری جانب جنگ کا دائرہ بڑھنے سے فوج کی فزیکل پاور منتشر ہو جاتی ہے، ایک مضبوط قوت کا ایک ہی جگہ پر استعمال کرنے سے ہدف کا حصول آسان ہوتا ہے، لیکن اس کا دائرہ بڑھنے کی صورت میں قوت مدافعت کمزور پڑجاتی ہے۔ یمن کے میدان میں سعودی اتحاد کو ان دونوں صورتحال کا سامنا ہے۔ جنگ طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے، جبکہ اس کا دائرہ بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال پٹرو ڈالر پر مبنی سعودی معیشت کی تباہی کے لئے کافی ہے۔

جنگ کا دائرہ پھیل جائے اور دورانیہ طویل ہوتا جائے تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی کسی کام کی نہیں رہتی۔ اس کی واضح مثال سویت یونین کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے۔ سویت یونین کی دیوہیکل طاقت کا شیرازہ بکھرنے کی وجوہات میں سب سے اہم فیکٹر معاشی بحران بتایا جاتا ہے، سویت کی اقتصادیات کو افغان جنگ کے طویل دورانیے نے نوچ ڈالا، یہی صورتحال یمن میں سعودی عرب کو درپیش ہے، دونوں میں حیران کن حد تک اشتراک پایا جاتا ہے۔ 1917ء میں بالشویک پارٹی کی بغاوت سے جنم لینے والا سویت یونین کارل مارکس کے معاشی اصولوں کی بنیاد پر قائم معاشی اور عسکری اعتبار سے مضبوط ترین ملک تھا، یہ الگ بحث ہے کہ کارل مارکس کے نظریات کس حد تک درست تھے، لیکن زار شاہی سے بالشویک کے قبضے میں آنے کے بعد سویت یونین جو پہلی جنگ عظیم کے بعد بدترین بحران کا شکار تھا، نے ترقی کے نئے ریکارڈ بنا دیئے، 1990ء تک سویت یونین سٹیل، بھاری مشینری، ٹریکٹر، سیمنٹ گیس اور بجلی سمیت 30 اہم ترین صنعتوں کی پیداوار میں دنیا میں سب سے آگے تھا، سائنسی میدان میں اس وقت بھی روس کے پاس پیشرفتہ ترین ٹیکنالوجی پائی جاتی ہے، عسکری اعتبار سے کئی شعبوں میں اس وقت بھی روس کو امریکہ پر واضح برتری حاصل ہے۔

دس سالہ افغان جنگ نے سویت یونین کی اقتصادیات کا جنازہ نکال دیا۔ کیونکہ جنگ کی غیر ضروری طوالت سے سویت یونین کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا، جس کا اندازہ پہلے نہیں لگایا سکتا تھا، سویت یونین کو اپنی عسکری طاقت پر ناز تھا، لیکن جنگ کا صرف عسکری پہلو ہی نہیں ہوتا، حالت جنگ میں سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی نظام بھی ریاست کے ساتھ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ سویت یونین کیلئے افغانستان ایک ایسی دلدل بن گیا تھا، جس سے فوری چھٹکارا ممکن نہ رہا، جنگ طویل ہوتی گئی اور سویت یونین کا اقتصادی نظام تباہ ہوتا گیا۔ آخر میں گورباچوف کے استعفٰے کے فوری بعد راتوں رات ہی سویت یونین بکھر کر ٹکرے ٹکرے ہوگیا، یہ پوری دنیا کیلئے غیر متوقع تھا۔ سویت کے افغانستان اور سعودی عرب کے یمن میں قدے مماثلت پائی جاتی ہے۔ یمن پر ایک دو ہفتے میں مکمل قبضہ کرنے کے اندازے کے ساتھ حملہ کیا گیا تھا، اب تین سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے، لیکن جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، انصاراللہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں جس طرح سعودی اتحاد کا حشر دیکھنے میں آرہا ہے، وہ صرف سعودی عرب ہی نہیں پوری دنیا کیلئے غیر متوقع ہے۔

جس طرح سویت یونین کو افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں نے بری طرح پھنسا لیا تھا، اسی طرح سعودی اتحاد یمن میں بری طرح پھنس چکا ہے۔امریکہ، اسرائیل سمیت کئی یورپی ممالک کی بھی کوشش ہے کہ یمن جنگ طول پکڑے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سعودی عرب کے پاس اس وقت بھی تیل کا پیسہ بہت ہے اور جنگ جاری رہنے کی صورت میں مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ اندرون خانہ ایران کارڈ کھیل کر سعودی عرب کو جنگ جاری رکھنے اور ہر صورت جیتنے کی کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاکہ امریکہ کی زنگ آلود اسلحہ فیکٹریوں میں نئی جان پیدا ہوسکے۔ یمن جنگ کے ٹھیک دو سال بعد ہی سعودی عرب میں معاشی بحران واضح ہونا شروع ہوا، ایک ایسا ملک جس کے پاس تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، یمن جنگ نے سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں پر مختلف قسم کے ٹیکس عائد کرنے پر مجبور کر دیا۔ عام شہریوں کو جو سہولیات سرکاری طور پر میسر تھی، وہ ایک ایک کرکے ختم ہو رہی ہیں اور عوام پر نئے ٹیکسز عائد کئے جا رہے ہیں۔

2018ء کے آغاز پر پہلی دفعہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (وی اے ٹی) متعارف کرا دیا گیا، جس کے تحت عام اشیا اور سہولتوں پر اب پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 127 فیصد اضافہ کر دیا۔ واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں بیرون ملک سے کام کے لئے آنے والوں کے لئے ایک بڑی ترغیب وہاں کے ٹیکس فری قوانین ہیں، لیکن یمن کی دلدل نے محصولات کے نئے طریقے اپنانے پر مجبور کر دیا، اس سے پہلے حجاج بیت اللہ الحرام پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جا چکا ہے۔ جون 2018ء کے اوائل میں گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے یکم جولائی سے ملک بھر میں موجود تمام غیر ملکی باشندوں سے 100 ریال فی کس کے حساب سے لیوی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 2020ء تک ہر سال 100 ریال کا اضافہ ہوگا اور یہ بڑھتے بڑھتے 400 ریال ماہانہ تک جا پہنچے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے غیر مقامی افراد پر عائد کردہ لیوی ٹیکس غیر ملکی ملازمین اور تاجروں دونوں پر مالی بوجھ بنے گا، معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، تعمیراتی، غذائی اور اشیائے صرف مہنگی ہو جائیں گی۔

وہ کمپنیاں جہاں غیر ملکی ملازمین کی تعداد مقامی ملازمین سے زیادہ ہے، وہ ہر غیر ملکی ملازم کے عوض 200 ریال پہلے ہی ادا کر رہی ہیں، فیس کا اطلاق صرف غیر ملکی ملازم پر ہے، سعودی شہریت کے حامل ملازم پر نہیں، تاہم اب یکم جولائی سے لے کر 2020ء تک یہ ٹیکس بتدریج بڑھایا جا رہا ہے اور اضافہ ان کمپنیوں کے لئے بھی ہوگا، جہاں غیر ملکی کم اور مقامی زیادہ ہیں، وہاں بھی ٹیکس معاف نہیں ہوگا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق لیوی ٹیکس کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی اور لوگوں کو بھاری اخراجات، کچھ عرصے بعد لگنے والے ویلیو ایڈڈ ٹیکس، مہنگے فیول، اشیائے صرف اور مہنگی غذائی اشیا کا سامنا کرنا ہوگا، جس کی وجہ سے غیر ملکی ملازم کی مالی بچت ختم ہو جائے گی۔ گذشتہ سال سعودی عرب نے ایکسائز ٹیکس عائد کر دیا، جسے عرف عام میں گناہ ٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، ایکسائز ٹیکس تمباکو سے بنی ہر قسم کی اشیا (سگریٹس بھی)، سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد سے متعدد اشیا کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔ اب یکم جولائی سے غیر ملکیوں پر لیوی ٹیکس لگایا جا رہا ہے، جب کہ کچھ عرصے بعد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) بھی نافذ کیا جائے گا، یہ محصولات عائد کرنے کا مقصد تیل کی کم ہونے والی قیمتوں کے سبب پیدا شدہ مالی بحران کو دور کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور رہے کہ 2015ء سے پہلے سعودی عرب میں شہریوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں تھا، سعودی شہری طویل زندگی تک محصولات سے پاک اور متعدد معاملات پر سبسڈی حاصل کرنے کا لطف اٹھا چکے ہیں، تاہم اب یہ معاملہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں معاشی بحران کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار سعودی حکومت نے مالی معاملات میں قمری کلینڈر کے بجائے شمسی کلینڈر کو شامل کرنے کا اقدام بھی اٹھایا، سعودی کابینہ میں شامل وزراء کی تنخواہوں میں کٹوتی کی، سول سرونٹس کی تنخواہیں منجمد کیں، کیونکہ گذشتہ سال سعودی عرب کا بجٹ خسارہ ریکارڈ سطح پر 97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ تین سال پہلے تک سعودی عرب نے پیٹرو ڈالر کی مدد سے اپنے شہریوں کے لئے ہر قسم کی سہولت مہیا کرر کھی تھی، لیکن یمن جنگ اور شامی میں دہشتگردوں کی مالی معاونت کیلئے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری نے سعودی عرب کے خزانے کو خالی کر دیا، اب بدتر اقتصادی صورتحال کا سامنا ہے۔

یمن کی جنگ پر صرف گذشتہ سال 30 ارب ڈالر کا خرچہ آیا بلکہ اس جنگ کے جاری رہنے اور اس کے ساتھ ہی ریاض کی جانب سے شام میں دہشت گردوں کی مالی اور عسکری معاونت کی وجہ سے نئے سال میں بھی سعودی عرب کو کئی ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر غیر ملکیوں کو اخراج کیا جائے گا اور دسیوں ہزار جوانوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ گذشتہ سال کی شروعات میں سعودی عرب کی سب سے بڑی کمپنی بن لادن نے 77 ہزار ملازمین اور مزدووں کو مالی بحران کی وجہ سے فارغ کر دیا جبکہ اس کمپنی میں دو لاکھ ملازمین بر سر روزگار تھے۔ اسی طرح یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اس کمپنی میں کام کرنے والے 12 ہزار سعودی ملازمین بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ نوکری سے نکالے گئے ملازمین اور مزدوروں نے اپنی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے پرتشدد مظاہرے بھی کئے اور کئی بسوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، یہ جنگ دو تین سال اور جاری رہتی ہے تو عین ممکن ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور سویت کا انہدام ہو، کیونکہ بیک چینل ڈپلومیسی کا آپشن بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ آگے سمندر پیچھے کھائی ہے، جنگ جاری رہنے کی صورت میں سعودی عسکری اور اقتصادی ڈھانچہ زمین بوس ہو جائے گا۔ جنگ بندی کی صورت میں حوثی فاتح ہونگے۔ یہ دونوں صورتیں سعودیہ کیلئے ناقابل قبول ہیں، دونوں صورتوں میں شکست یقینی ہے۔ تیسرا آپشن سعودیہ کے سامنے فی الحال کوئی نہیں بچا۔

The post کیا سعودی عرب ٹوٹ رہا ہے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2KCs48A
via IFTTT

گرے لسٹ اور پاکستان کی سفارتی تنہائی

 

(اسداللہ غالب)
پاکستان کوایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے اور اس ضمن میںمتعلقہ تنظیم نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی امداد کو روکنے کے لئے پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہیں۔حکومت پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت ا ور امریکہ نے چین ، ترکی اور سعودی عرب پر بھی دبائو ڈال کر پاکستان کے خلاف ووٹ ڈلوایا ہے۔ یہ بیان اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان اپنے قریب ترین تینوں دوستوں کی حمائت سے محروم ہو چکا ہے اور سعوسی عرب ترکی اور چین جیسے ہمارے آزمودہ دوست بھی ہمارا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ امر پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔

پاکستان کی سفارتی تنہائی کا ذکر دو سال قبل آئی ایس پی آر کے اس وقت کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے ریڈیو جرمنی سے انٹرویو میںکیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری تمام تر کامیابیوں کے باوجود دنیا ہم سے ڈو مور کاتقاضا کر رہی ہے اور پاکستان کے اس موقف کو ماننے کے موڈ میں نہیں ہے کہ ہم نے بلا تفریق دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر آ پریشن کئے ہیں اور اس راہ میں ہم نے بے بہا قربانیاں دی ہیں ، ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے اور ہمارے شہری شہید ہوئے اور ہماری معیشت کا خانہ خراب ہوا۔ یہ ایک عجیب ستم ظریفی کے ادھر یہ انٹرویو ہیڈ لائنوں کی شکل میں چھپا، ادھر ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہہ دیا کہ پاکستان کسی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں ہے اور مزید ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ایک بند کمرے کی میٹنگ میں مبینہ طور پر حکومتی نمائندوںنے فوجی افسران کو طعنہ دیا کہ ان کی وجہ سے پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ انکشاف ڈان لیکس کے ذریعے منظر عام پر آیا، حکومت نے گو تین مرتبہ اس خبر کی تردید کی مگر اخبار کی انتظامیہ ڈٹی رہی کہ اس کی خبر درست ہے، یہ جھگڑا کئی سرکاری افسروں اور وزرا کی برطرفی یا کھڈئے لائن لگانے کا باعث بنا۔

بھارت نے تو پاکستان دشمنی کا ادھار کھا رکھا ہے، اور امریکہ کو بھی شیشے میں اتار لیا ہے اور افغانستان میں امریکی ا ور نیٹو فوج کی ناکامیوں کی وجہ پاکستان کی اس پالیسی کو قرار دیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مسلسل حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ہی بھارت لشکر طیبہ اور حافظ سعید کو بھی لپیٹ میں لے لیتا ہے جن کی وجہ سے اس کے بقول بھارتی افواج کو مقبوضہ کشمیر میں ناکوں چنے چبوائے جا رہے ہیں،یہی وہ پروپیگنڈہ ہے جو پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا باعث بنا ۔اس میں ہماری اپنی کوششیں بھی شامل ہیں کیونکہ جب ن لیگ کے وزرا یہ بیان دیں کہ حافظ سعید کو ہم نے سونے کے انڈے دینے والی مرغی کے طور پر پال رکھا ہے، موصوف کے اس بیان نے حافظ سعیدکو تو نقصان پہنچاناہی تھا مگر ساتھ ہی یہ بیان پاکستان کی بدنامی کا بھی باعث بنا، وزیر موصوف نہیں جانتے تھے کہ حافظ سعید سونے کے انڈے دیتے ہیں یا نہیں لیکن ان کے وزیر اعظم بہر حال نیب الزامات کی روشنی میں تین سو ارب ڈالر کے سونے کے انڈے بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے پاکستان کی عدالتیں یہ تو دیکھتی ہیں کہ نواز شریف نے بیٹے سے ملنے والی تنخواہ کا ذکر اپنے اثاثوں میں نہیں کیا مگر اس امر کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیاکہ تین سو بلین ڈالر چوری کے الزام کی حقیقت کیا ہے، آج بھی الیکشن کمیشن قرض خوروں اور دہری شہریت رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے کی دھڑا دھڑ اجازت مرحمت فرما رہا ہے۔دنیا میں کرپشن کرنے والے ملک کی بھی کوئی عزت نہیں ہوتی۔فلپائن میںمارکوس نے کرپشن کی ، دنیا نے ا سکی دولت فلپائن کے عوام کی امانت کے طور پر لوٹا دی مگر پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت جس کا ذکر پانامہ لیکس کی ہر سطر میںموجود ہے، اس کی بازیابی کے لئے ساری دنیا پاکستانی عوام کی کوئی مدد نہیں کرتی ۔

سوال یہ ہے کہ بر صغیر میں اصل دہشت گرد تو بھارت ہے جو ستر برس سے کشمیری عوام کے حقوق غصب کئے بیٹھا ہے اورا سکی افواج ہر روز بے گناہ نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ پیلٹ چھروں سے معصوم بچوں تک اور ان کی مائوں کی بینائی ضائع کی جا رہی ہے۔ اس جبر اور ستم کی لہر کے باوجودپوری وادی آزادی آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ یہ نعرے پاکستانی شہری وہاں جا کر نہیں لگاتے۔وہیں کے شہری لگا رہے ہیں ،۔کنٹرول لائن پر جس طرح کی حفاظتی باڑ نصب ہے، اسکے ہوتے ہوئے ادھر سے کوئی چڑیا تک پار نہیں جا سکتی۔ یہی حال افغانستان کا ہے جہاں امریکی ا ور اتحادی افواج موجود ہیںمگر ملک کے ساٹھ فیصد حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے ۔ امریکی ا ور نیٹو افواج یہ علاقہ واگزار کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور اپنی ناکامی اور بزدلی کو چھپانے کے لئے پاکستان اور اس کی طرف سے حقانی گروپ کی اعانت کو بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسے بہانے ہیں جن کی آڑ میں امریکہ اور بھارت پاکستان کودہشت گردی کا سرپرست قرار دلوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔گرے لسٹ تک تو معاملہ پہنچ گیا، اب کوئی و قت ا ٓئے گا جب خدا نخوستہ ہمیں بلیک لسٹ میںڈلوا دیا جائے گا۔پاکستان کی اندرونی رائے عامہ کی تقسیم کی وجہ سے بھارت ا ور امریکہ کو اب یہ کامیابی مل گئی ہے کہ ا س نے چین ، سعودی عرب اور ترکی جیسے دوستوں کو بھی ہمارے خلاف ووٹ ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم خود ہی اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہے ہوں تو غیروں کو تو سنہری موقع مل ہی جائے گا۔ مجھے یاد ہے کہ اول ا ول جنرل مشرف جیسے کمانڈو نے امریکہ کے سامنے پالیسی سرنڈر کیا تھا اور کشمیریوں کی مدد کرنے کو دہشت گردی قرار دے ڈالا تھا۔ اس پر میرے مرشد مجید نظامی نے سخت احتجاج کیا تھا۔ آج پاکستان کو بھارت کی آبی دہشت گردی کا بھی سامنا ہے۔اس دہشت گردی کے مقابلے کے لئے ہمیں کالا باغ ڈیم جیسے کئی ڈیم بنانا ہیںاور ہمارے چیف جسٹس بھی اس کے لئے قومی اتفاق رائے پید اکرنے کی کوشش کر رہے ہیںتوہمارے سیاسی لیڈر فرماتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم ان کی لاشوں پر ہی بن سکتا ہے،کس قدر ستم ظریفی ہے کہ کراچی کے لوگ پینے کے پانی کی بوندبوندکو ترس رہے ہیں اور سندھ اور کراچی ہی کے لیڈر کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔اس پس منظر میں بھارت ا ور امریکہ تو بغلیں بجا رہے ہیں کہ ان کا کام آسان ہو گیا اورا ٓج گرے لسٹ تو کل کو خدا نخواستہ بلیک لسٹ۔ ہمارے لیڈروں کے پاس دہری شہریت اورا قامے ہیں، وہ تو یہاں سے بھاگ جائیں گے ا ور عوام بے چارے ستم سہنے کے لئے رہ جائیں گے۔

The post گرے لسٹ اور پاکستان کی سفارتی تنہائی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2tRyf1L
via IFTTT

چولستان میں معصوم بچیوں کی موت اور حکمران

 

(تحریر: حلیم عادل شیخ)

گزشتہ دنوں تین معصو م بچیوں کا فورٹ عباس چولستان کے تپتے ہوئے صحرا اور ریت کے طوفان سے ہونے والی ہلاکت نے ہر صاحب اولاد کو رونے پر مجبور کردیا ہے،معصوم بچیوں کی اس ریت کے طوفان اوربھوک اور پیاس سے ہونے والی ہلاکت نے اپنے پیچھے بہت سے سوالوں کو چھوڑ دیاہے کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے تاخیری حربوں کے باعث تین معصوم بچیاں موت کے منہ میں چلی گئیں،،ہائے ہائے کیا گزری ہوگی ان معصوم کلیوں کے والدین پر؟ جنھیں وہ اپنے منہ کا نوالہ کھلاتے رہے اور خود بھوکے رہے اور اپنی معصوم گڑیا کے لیے کھلونے خریدتے رہے ،کیا گزررہی ہوگی ان ماں باپ پر جن کی بچیاں اس تپتے صحرا میں بھوک اور پیاس سے بلک بلک کر مرگئی ہونگی؟مریم نواز ،آصفہ ،بختاور جنھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ غربت کسے کہتے ہیں ،بھوک کس بلا کا نام ہے، صحرا میں چلنا کیساہوتاہے دھوپ لگنے سے جلن کیسی ہوتی ہے سیلابوں سے گھر اجڑنے پر کن تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ ان کے پاسہر سہولت موجود ہے۔ اگر کچھ نہیں ہے تو اس ملک کی غریب بچیوں کے لیے نہیں ہے، جو اپنے بوڑھے اور لاچار والدین کا بازو بننے کے لیے دفاتر میں نوکری کرنے کے لیے چکر لگارہی ہوتی ہیں اور جن میں سے بے شمار بچیاں سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، یا پھر ان کا غریب باپ آنسوؤں سے اپنی داڑھی کو تر کیئے کسی ندی نالے میں یاپھر چولستان کے تپتے صحرا میں ان کی لاشوں کو ڈھونڈ رہا ہوتاہے۔ جن کی مدد کو کوئی ہیلی کاپٹرنہیں آتا اور نہ انتظامیہ کا کوئی افسر ان کی لاشیں ڈھونڈنا اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

میں اس وقت ٹی وی پر دیکھ رہاہوں کہ چودھری نثارنواز شریف بارے باتیں کر رہے ہیں میں دیکھ رہاہوں کہ وہ ایسی کونسی نئی چیز قوم کے سامنے پیش کررہے ہیں جنھیں ہم لوگ نہیں جانتے، چودھری نثار یہ نہ بتائیں کہ نوازشریف پارٹی صدارت کے اہل تھے یا نہیں بلکہ ہمیں یہ بتایا جائے آپ بھی اس ملک کے وزیرداخلہ تھے ہمیں بتایا جائے کہ صحرا میں مرنے والی ان معصوم بچیوں کا قتل کس کے سر جاتاہے،فیصل آباد میں بے دردی سے قتل ہونے والی بس ہوسٹس کیوں قتل ہوئی ؟ قوم کو بتائیں کہ ان معصوم بچیوں کے اصل قاتل کون ہیں؟ قوم کی بچیاں دھوپ اور بھوک سے مررہی ہیں‘ حکمرانوں کے پاس کئی کئی بار مواقع میسر ہوئے کہ وہ ان صحراؤں کے ارد گرد عوام کی سہولت کے لیے حفاظتی کیمپ لگاتے ان ندی نالوں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے معصوم بچوں کی حفاظت کے لیے ان خطرناک مقامات کو ٹھیک کرتے ان کی بروقت مدد کے لیے ہیلی کاپٹر اور دیگر انتظامی امورکو ہر وقت چوکنا رکھتے مگر جن کی سیاست صرف اور صرف اپنے اور اپنے خاندان کے ارد گرد گھومتی ہو انہیں بھلا یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

وقت بدل رہاہے احتساب قریب ہے پیپلزپارٹی والوں کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے اپنے لوگ اس وقت آصف زرداری کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ اس نے پیپلزپارٹی کا بیڑہ غرق کردیاہے، بلکہ قوم تو یہ سمجھ رہی ہے ان لوگوں نے اس ملک کا ہی بیڑہ غرق کردیاہے جس کی مثال یہ ہے کہ جن لوگوں کو پیپلزپارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا وہ لوگ پی پی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کا رخ کررہے ہیں ،یعنی کے سابقہ تمام حکمران جماعتوں میں اس وقت شدید انتشار موجود ہے یہی حال ایم کیو ایم کا ہے جس میں ہر ایک پر ایم کیو ایم کے سربراہ بننے کا بھوت اس قدرسوار ہے،جن کے ہردور میں خون آشام راتوں سے عوام کو گزرنا پڑا،گومگو کی اس ساری صورتحال میں پاکستان کے سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے جس انداز میں عمران خان کو آئندہ وزیراعظم کے لیے فیوریٹ قراردیاہے اس نے وزرات عظمیٰ کے بہت سے خواہشمندوں کی نیندیں حرام کردی ہیں ایسے حکمران جو اس سارے ملک کو لوٹ کر بھی یہ کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا بھلا وہ کیسے تسلیم کرلینگے کہ ان کادور اس صدی کا سب سے بدترین دور گزراہے وہ تو چولستان میں معصوم بچیوں کی ہلاکت کو بھی کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

آج وقت نے ثابت کردیاہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے کس کس انداز میں اس قوم کو نقصان پہنچایاہے آج ان کو یہ دکھ ضرور ہے کہ انہیں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹادیاگیاہے مگر وہ اس بات کاجواب دینا مناسب نہیں سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے قرضے 93ارب ڈالر تک کس طرح سے پہنچ گئے ہیں ؟ وہ اپنی تقریروں میں اس ملک میں صحت کی بہترین سہولیات دینے کا ذکر تو کرتے ہیں مگر اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں کہ اگر اس ملک میں علاج ومعالجہ کی اتنی ہی اچھی سہولیات میسر ہیں تو یہ لوگ اپنا علاج پاکستان میں کیوں نہیں کرواتے اور کیوں ایک سال میں کئی کئی مرتبہ قومی خزانے کے خرچے سے لندن‘ امریکہ جاکر اپنی طبعی معائنہ کرواتے ہیں ؟ میرا خیال ہے کہ اس قوم کو اب جاگ جانا چاہیے بہت ہی اچھا موقع ہے ایسے ہوشیار اور عیار سیاستدانوں سے چھٹکارے کا کیونکہ الیکشن کا وقت قریب ہے اب عوام پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اچھے اور ایماندار لوگوں کا انتخاب کریں تاکہ اس ملک میں خوشحالی کا سورج طلوع ہو،تاکہ آئندہ کسی غریب کے بچے چولستان کے تپتے صحراؤں میں نہ غرق ہوں‘ انہیں اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے رشوت خور افسران سے الجھنا پڑے ان کے کام ان کی دہلیز پر حل ہوں‘ ان کو مہنگائی کے طوفانوں سے نہ گزرنا پڑے ان کے بچوں کو باعزت روزگار ملے مگر یہ تمام چیزیں اسی صورت میں ممکن ہیں‘جب آپ ایک ایماندار قیادت کو اپنا قیمتی ووٹ دینگے۔بشکریہ جیو اردو

The post چولستان میں معصوم بچیوں کی موت اور حکمران appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2tHAmpn
via IFTTT