پشاور(ویب ڈیسک)صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں شاہین مسلم ٹاؤن کے رہائشیوں نے پولیو ویکسین کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ پشاور پریس کلب کے باہر دو بچوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں بچوں کی اموات پولیو ویکسین سے ہوئی، لہٰذا ہم چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار سے
مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔اس مظاہرے کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلور اور کونسلرز گل محمد، عرفان اللہ خان اور محمد عمران نے کی، مظاہرین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ویکسین کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لانے میں ناکامی پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ پولیو ویکسین کے استعمال کے بعد پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن میں 2 بچے ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ ان کی موت انجیکشنز کے بعد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ علاقے میں کسی بھی انسداد پولیو مہم والے افراد کو آنے نہیں دیں گے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج تک احتجاج جاری رہے گا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پولیو کی دو اقسام کی ویکسین استعمال کرنے سے دنیا کو اس مرض سے جلد چھٹکارا دلانے کی کوششوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ قطروں کی شکل میں پلائی جانے والی ویکسین دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے،
لیکن بھارت میں کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ قطروں کے ساتھ ساتھ اضافی طور پر ویکسین کا انجیکشن لگانے سے اس مرض کے وائرس کے خلاف مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی یہ دریافت ’صحیح معنوں میں تاریخی‘ ہے۔یہ مرض متاثرہ مریض کے فضلے سے پھیلتا ہے اور اس سے مریض زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو کر رہ جاتا ہے جب کہ بعض مریض ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔پولیو کے خلاف جنگ عالمی صحت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ 1988 میں دنیا بھر کے 125 ملکوں میں پولیو کے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ مریض تھے۔ لیکن اب یہ مرض صرف تین ملکوں یعنی پاکستان، افغانستان اور نائجیریا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔لیکن اب یہ مرض صرف تین ملکوں یعنی پاکستان، افغانستان اور نائجیریا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عالمگیر سطح پر اس مرض کے مریضوں کی تعداد میں 99 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پولیو کی روک تھام کے لیے اس کی ویکسین کے دو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس کے اندر پولیو وائرس کمزور حالت میں موجود ہوتا ہے، جو مرض تو نہیں پھیلا سکتا لیکن اس کے خلاف جسم کا مدافعتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے جو مرض پیدا کرنے والے وائرس کا مقابلہ کرتا ہے۔یہ قطرے بہت سستے ہوتے ہیں نظامِ انہضام میں کام کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر انجیکشن سے دی جانے والی ویکسین خون کے اندر شامل ہو کر کام کرتی ہے۔ لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر نکولس گراسلی نے بی بی سی کو بتایا: ’منھ سے دی جانے والی ویکسین نسبتاً کم طاقت ور ہوتی ہے۔‘ ایک خیال یہ بھی ہے کہ دوسرے انفیکشن اس ویکسین کی تاثیر پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس کا حل دہری ویکسین ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے بھارت کی کامیاب مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بعض بچوں کو 30 خوراکیں دی گئی تھیں۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Kadp4c
via IFTTT

No comments:
Write komentar