کوئٹہ (ویب ڈیسک)چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے تمام ایجنسیوں سے روپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق یہ نسل کشی ہے اس لیے سو موٹو نوٹس لینا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں کی گئی ۔چیف جسٹس نے کہا ہمارے پاس الفاظ نہیں کہ ان بدقسمت واقعات کی مذمت کرسکیں میرے مطابق یہ نسل کشی ہے اس لیے سو موٹو نوٹس لینا پڑا۔ ہم نے ہزارہ برادری کی جان و مال کی حفاظت کرنی ہے، تمام ایجنسیاں رپورٹ دیں کہ یہ سب کس طرح ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی ایف سی کہاں ہیں؟ جس پر ایف سی کے نمائندے نے بتایا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں اور ان کا نمائندہ موجود ہے۔ ہزارہ برادری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے معتبرین سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جس پر ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ انہوں نے سکیورٹی واپس نہیں لی۔ ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ گزشتہ 20 سال سے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے لیکن آج تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پی بلوچستان سے استفسار کیا کہ ٹارگٹ کلنگ سے متعلق رپورٹ بنائی؟ جس پر آئی جی بلوچستان نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ 2013 میں ہزارہ برادری کی سب سے زیادہ زیادہ ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور مذکورہ سال کے دوران 208 افراد کو قتل کیا گیا تاہم اب امن و امان کے حوالے سے کافی بہتری آگئی ہے۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2ryS11p
via IFTTT

No comments:
Write komentar