Technology

Ads

Most Popular

Friday, 11 May 2018

عمران خان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں ، اور ہم اس وقت تک الیکشن نہیں لڑیں گے جب تک ۔۔۔۔۔۔۔ کپتان کے سب سے بڑے ٹائیگر نے شاندار اعلان کر دیا

 

پشاور (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف محض عمران خان کا نام ہے مجھ سمیت کوئی بھی لیڈر یا امیدوار ان کے بغیر الیکشن جیتنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔میں 2013ء کے انتخاب میں بھی عمران خان ہی کی وجہ سے کامیاب ہوا

ہم میں سے کسی ایک کا بھی کوئی ذاتی ووٹ بینک نہیں ہے یہ سب کچھ قائد پی ٹی آئی کی بدولت ہے ۔پاکستان تحریک انصاف 2018ء کے الیکشن میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں کرے گی انتخابی اتحاد محض ایک دھوکہ ،جھوٹ اور ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کا نام ہے جب ہر جماعت کا منشور علیحدہ ہے تو اتحاد کیسا ۔الیکشن میں محض سیٹ جیتنے کے لئے اکٹھے ہو جانا اتحادی کو دھوکہ دینا ہی ہے جسے میں جھوٹ سمجھتا ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان وزیر اعلیٰ میں روزنامہ پاکستان اور پاکستان آن لائن کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات نجیع اللہ خٹک اور وزیر اعلیٰ کے پریس سیکرٹری بہرہ مند خان بھی موجود تھے ۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اپنی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر سیر حاصل گفتگو کی اور کہا کہ چاروں صوبوں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا نمبر ون دکھائی دے گا ہمارے اس دعوے کو ملکی اور غیر ملکی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے حتیٰ کہ وفاقی شماریاتی ادارے نے بھی ہماری گڈ گورننس کا اعتراف کیا اور صوبائی سطح پر چار شعبوں میں

ہماری کارکردگی کو باقی صوبوں کی نسبت بہتر قرار دیا اس طرح ورلڈ بینک ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل بھی ہمیں بہترین کارکردگی کا سرٹیفکیٹ دے چکے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے اس امر کا اعتراف کیا کہ جماعت اسلامی کی خیبر حکومت سے علیحدگی کے بعد انہیں اکثریت حاصل نہیں رہی تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن جماعتوں سے اس حوالے سے طویل گفتگو کی اور انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائیں گے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا ساتھ بڑا اچھا رہا ہم نے کم و بیش پانچ سال اکٹھے حکومت کی اور اس دوران کسی قسم کا اختلاف بھی سامنے نہیں آیا اب الیکشن ہونے والے ہیں تو انہوں نے اپنے منشور کے ساتھ اس میں جانا ہے اس لئے حکومت سے علیحدگی ضروری تھی ۔ہم نے جماعت اسلامی سے الیکشن کے بعد اتحاد کیا یہ حکومت میں ایڈجسٹ منٹ تھی ان کی ایک ماہ قبل علیحدگی کا مجھے افسوس ہے یہ کڑوی نہیں بلکہ میٹھی گولی تھی ۔عام الیکشن بروقت ہوں گے یا نہیں ، اس سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ن واضح الفاظ میں کہا کہ انتخابات ملتوی ہونے کا سوال ہی پیدال نہیں ہوتا یہ بروقت اور شفاف ہوں گے۔

جہاں تک پی ٹی آئی کا الیکشن جیتنے کا سوال ہے تو میں سو فیصد وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات جیتیں گے پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس نے منشور پر کام کیا ، نظام بدلا صحت ، تعلیم، پولیس ، محکمانہ ریفارمز میں جو انقلاب ہم نے برپا کیا اس کا کوئی توڑ نہیں اس کا رزلٹ ضرور ملے گاہم نے میرٹ کا جو نظام متعارف کروایا ،ایک ایک بھرتی این ٹی ایس کے ذریعے کی گئی ۔ اب الیکشن ہونے والا ہے مارشل لاء کے سوا کوئی بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتا ۔ہم پوری تیاری کے ساتھ الیکشن میں جا رہے ہیں پی ٹی آئی کو نئے خون کی ضرورت ہے ہمارا کام یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر امیدواروں کو ٹکٹ دیں میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایک بھی غلط آدمی پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ایک ایک حلقے سے پی ٹی آئی کے دس دس امیدوار سامنے آ رہے ہیں جب ایک ٹکٹ ملے گا تو باقی مخالفت کریں گے اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی پالیسی کیا ہو گی؟ اس سوال پر پرویز خٹک کا جواب تھا کہ ہم نے

تمام امیدواروں سے حلف لینا شروع کر دیئے ہیں میرا خیال نہیں کہ جسے ٹکٹ نہ ملے وہ پارٹی سے بغاوت کر دے لیکن اوپن مارکیٹ ہے اگر کوئی شخص جانا چاہتا ہے تو چلا جائے ہمارے پاس نئے شامل ہونے والوں کی قطاریں لگی پڑی ہیں ۔آئندہ الیکشن میں پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو گی پچھلے الیکشن کی نسبت حالیہ انتخابات میں ہم پہلے سے ڈبل سیٹیں جیتیں گے خیبر پختونخوا میں ہم نے نیک نیتی سے کام کیا ہے ہماری حکومت 60فیصد اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر پہلے نمبر پر ہے تو دوسرے نمبر والا 20فیصد کے ساتھ ہے ۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پانچ سال قبل ہم نے حکومت بنائی تو حالت یہ تھی امن و امان کا مسئلہ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا دہشتگردی ، اغواء، دھماکے عروج پر تھے بڑے بڑے صنعتکار کار صوبہ چھوڑ کر جا چکے تھے جو انفراسٹرکچر ہمیں ملا سکول، ہسپتال، پولیس کا نظام سب کچھ رشوت سے بھرا پڑا تھا ہمارے نزدیک سب سے پہلا کام قانون سازی تھا ہم قانون سازی کر کے اس پر عملدرآمد کروا سکتے تھے جو ہم نے بطریق احسن مکمل کیا ۔سکول میں فرنیچر تھا ، پانی نہ ٹیچرز ، امتحانات کا نظام تباہ ہو چکا تھا۔

ہر درجے کی عمارت نقل پر کھڑی تھی ہمارے پاس صرف ایک ایجنڈا تھا کہ پی ٹی آئی نے نظام بدلنا ہے ۔مردان، نوشہرہ، صوابی، سمیت کئی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کرائے کی عمارتوں میں تھے گراؤنڈ پر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ہم نے اپنی اراضی خرید کر دو ضلعے کے سوا تمام اضلاع میں یونیورسٹی کیمپسز قائم کر دیئے ہیں 35ارب روپے پرائمری سکولوں پر خرچ کئے گئے 200ہائی اور مڈل سکولز شروع کئے 90 کالجز کا آغاز کیا جن میں سے 55مکمل ہو چکے ہیں باقی جلد ہونے والے ہیں۔ اس میں مجھے سب سے بڑا مسئلہ وفاقی حکومت کے عدم تعاون کی شکل میں ملا تعلیم میں جب تک وفاق اور صوبہ اکٹھے نہ ہوں نتائج ممکن نہیں لیکن ہم نے اس کے باوجود تعلیمی انقلاب برپا کیا ۔ سرکاری سکولوں میں انگریزی کا رواج ڈالا جو بچے ہم نے داخل کئے وہ آج چوتھی کلاس میں ہیں ۔ اردو اپنی جگہ پر قائم ہے لیکن سکولوں کا بنیادی میڈیم انگریزی کر دیا کیونکہ اسے جانے بغیر یونیورسٹی آپ کسی بھی سطح پر مقابلہ نہیں کر سکتے پاکستان بھر میں بچوں کا ڈراپ ریٹ 85%ہے لیکن خیبر میں یہ نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے ۔ اس سوال پر کہ چیف جسٹس پاکستان نے تو

خیبر میں ہسپتالوں کی صورتحال پر عد م اطمینان کا اظہار کیا ہے وزیر اعلیٰ خٹک کا کہنا تھا کہ انہیں چند لوگوں نے شکایات ضرور کیں لیکن چیف صاحب نے ہمارے چیف سیکرٹری، آئی جی اور ہیلتھ سیکرٹری کی تعریف بھی کی ۔وہ چیف جسٹس پاکستان ہیں ،میں انہیں یہ تو نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہم عدالت میں چلتے ہیں وہاں بھی لوگ نظام عدل کی شکایات کرتے مل جائیں گے ۔میری تمام صحافیوں ، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو دعو ت ہے کہ وہ ہمارے صوبے میں آئیں اور ہسپتالوں میں دی گئی سہولیات کا خود مشاہدہ کریں اور ان کا دوسرے صوبوں سے موازنہ کر کے دیکھ لیں ۔جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو یہاں 35سو ڈاکٹرز تھے ہم نے 46سو مزید بھرتی کئے ٹیکنیشنز ، نرسز سمیت پیرامیڈیکس نئے تعینات کئے گئے ٹوٹی پھوٹی مشینیں درست کرائی گئیں جن پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہسپتالوں میں ایوننگ پریکٹس کا آغاز کیا آج ہمارے سرکاری ہسپتال نجی ہسپتالوں سے بہتر سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔ جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے تو ہم نے اپنے طور پر قانونی سقم دور کئے یہ بنیادی طور پر وفاقی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ کمزور قوانین میں ترامیم کرے ہم نے وفاقی تعاون کے بغیر ہی فارسٹ اور ہیلتھ کے قوانین میں

ترامیم کی جس کے خلاف لوگ عدالتوں میں گئے اور حکم امتناعی لے آئے میں عدالتی سربراہان سے ملا اور ان سے اس بارے معاملات درست کرنے کو کہا ہم نے وہ سارے سٹے ختم کرائے اور ایک بھی کیس نہیں ہارا۔خیبرپختونخوا میں صوبائی نیب کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام بارے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی نیب ختم نہیں ہوا قائم مقام ڈی جی کام کر رہے ہیں ڈی جی نیب اور کمشنرز میں اختلاف پیدا ہوا تھا ڈی جی نیب نے استعفیٰ دے دیا ہم نے اس حوالے سے قوانین میں ترمیم کی کہ کسی کو بے عزت نہ کیا جائے اور جب عدالت گرفتاری کا آرڈر دے تو اسے پکڑا جائے صوبائی اسمبلی نے پشاور ہائیکورٹ سے اس حوالے سے رجوع کیا تھا عدالت نے اس بارے میں ایک سال بعد فیصلہ دیا ۔ ہمارے مخالفین نے بے پرکی اڑا دی کہ نیب ختم ہو گیا ہے اسی طرح میڈیا کے بعض حصے بھی یکطرفہ سٹوری چلا رہے ہیں میری ان سے اپیل ہے کہ ہماری محنت پر پانی نہ پھیریں خود جا کر گراؤنڈ پر مشاہدہ کریں کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔ میٹرو بس سروس کے بارے میں سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارا بی آر ٹی دنیا کی تیز ترین ٹرانسپورٹ سروس بننے جا رہا ہے۔

لاہور اور اسلام آباد میں میٹرو سروس 15ماہ میں تیار ہوئی اور اب تک اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے لیکن ہم نے صرف 6ماہ کی قلیل مدت میں 80فیصد کام مکمل کر لیا ہے آئندہ 2ماہ میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا تاہم اس کے ایک حصے کا افتتاح رواں ماہ کے دوران ہی ہونے والا ہے ٹینڈرز سے پیمنٹ تک تمام مراحل ایشین بینک کر رہا ہے ہمارا کام صرف پراگرس مانیٹر کرنا ہے یہ ایک نیا ورلڈ ریکارڈ ہے کہ 6ماہ کی مدت میں میٹرو تیار کر دی گئی اسے گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں محفوظ کیا جائے گا ۔اس دوران ہمارے 2ماہ وفاقی حکومت نے بھی ضائع کئے اب ہم 300بسیں لا رہے ہیں جس کی ہمارے مخالفین کو بے حد تکلیف ہے ہم ان بسوں کی پارکنگ کے لئے مخصوص مقام بنا رہے ہیں ایک سسٹم طے کر دیا ہے جس کے تحت تمام معاملات مکمل ہوتے جا رہے ہیں جہا ں تک ٹرانس پشاور کے سی ای او الطاف درانی کی فراغت کا تعلق ہے ۔پنجاب میں میٹروپراجیکٹ اطراف سے کمیشن میں گھرا ہے لیکن ہمارا بی آر ٹی پنجاب والا پراجیکٹ نہیں ہے یہ میرے ماتحت نہیں بلکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تحت ہے جبکہ پنجاب میٹرو براہ راست حکومت کے نیچے تھا پنجاب کا جو

پراجیکٹ 47ارب کا دکھایا گیا وہ مختلف حصوں میں تقسیم کر کے رقم کا دھوکہ تھا وہاں صرف سٹرکچر پر 32ارب روپے خرچ کئے گئے ہمارا ٹریک بھی ڈیڑھ کلو میٹر زیادہ ہے ہم کمرشل پلازے بھی بنا رہے ہیں اور ساتھ پارکنگ بھی دے رہے ہیں 12ارب کے پلازے فروخت ہو ں گے ۔600پرانی بسیں بیچ کر ایک ارب روپے کی آمدن ہو گی جس سے متاثرین کو رقوم ادا کی جائیں گی30ارب روپے کا سٹرکچر ہے ہم نے بسوں کی قیمت پنجاب کی طرح الگ نہیں رکھی یہ بھی مجموعی مالیت میں شامل ہے پنجاب اور اسلام آباد میں سبسڈی بھی دی جا رہی ہے جس سے اربوں کا سالانہ بوجھ قومی خزانے پر پڑے گا جبکہ ہم نے عام ویگنوں والا ٹکٹ رکھا ہے کیونکہ خیبرپختونخوا عیاشی والا صوبہ نہیں ہے مقروض ملک میں سبسڈی دینا احمقانہ پن ہے میں صوبے کو ڈبونا نہیں چاہتا وہ تو بادشاہ ہیں اور بادشاہت ہی چاہتے ہیں ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وفاق ہماری کوئی مدد نہیں کر رہا جبکہ کراچی میں وفاقی حکومت ترقیاتی کاموں میں ہر طرح تعاون کر رہی ہے لیکن ہم نے سوات موٹر وے اپنے اخراجات سے بنائی ۔ ہم نے ہسپتالوں اور سکولوں میں سولرائزیشن متعارف کروائی اور اس کے لئے بھی اربوں کھربوں میں قرضے نہیں لئے گئے ۔ ٹور ازم کے لئے پوری جدوجہد کی 3500نئے سپاٹ بنا کر وہاں درخت لگائے گئے تفریحی سہولتیں دی گئیں بلین ٹری پروجیکٹ پر مخالفین بے جا اعتراض کر رہے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے آ کر دیکھیں اور ایک ایک درخت گن لیں ۔ہم نے نتھیا گلی کی شکل صورت بدل دی تجاوزات ختم کیں کالام کا حلیہ بدل دیا چترال کی سڑکیں کشادہ اور محفوظ بنائیں سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے کیچنگ سپاٹ بنائے ہیں ۔۔(ش۔ز۔خ)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Kg1YaT
via IFTTT

No comments:
Write komentar