پشاور (ویب ڈیسک)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے انکشاف کیا ہے کہ نیب نے بلین ٹری کیس میں ہماری حکومت کے موقف کو درست تسلیم کر لیا ہے اور جنوبی خیبر و ہزارہ ڈویژن میں الزامات سے بری کر دیا ہے ۔ پاکستان کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران سوال کا جواب
دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ہم نے نیب کی تحقیقاتی ٹیم کو اُن مقامات کا دورہ کروایا جہاں درخت لگائے گئے تھے اور اس حوالے سے تمام دستاویزات بھی پیش کیں اسی طرح ہر انداز سے بریفنگ بھی دی۔ باریک بینی سے تفتیش کے بعد نیب نے ہمیں ابتدائی طور پر ساؤتھ اور ہزارہ ڈویژن میں مکمل طور پر درست قرار دیا جبکہ باقی علاقوں میں بھی ان شاء اللہ جلد سرخرو ہونگے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے مخالفین گھروں میں بیٹھ کر تنقید کرتے ہیں آئیں اور موقعے پر جاکر مشاہدہ کر لیں۔اٹا کے انضمام کے معاملے پر سینئر سیاستدان مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اپنے موقف پر ڈٹ گئے،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیرصدارت دوسرا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت فاٹا کے انضمام کے معاملے پر دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اپنے اپنے موقف پر ڈٹ گئے ہیں تاہم پی ٹی آئی، اے این پی اور نیشنل پارٹی کی طرف سے فاٹا کے انضمام کی حمایت کی گئی۔سینئر سیاستدانوں کی مخالفت کے بعد وزیراعظم نے معاملہ(ن)لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کا معاملہ آج مسلم لیگ (ن)کی سی ای سی میں زیربحث لائیں گے اور پھر سی ای سی کے فیصلے سے پارلیمانی رہنماؤں کو آگاہ کیا جائے گا۔(ش۔ز۔خ)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2rzbQWx
via IFTTT

No comments:
Write komentar