(حسن نثار)
مولانا فضل الرحمن کا مسئلہ کیا ہے؟ ایسی کون سی شے ہے جو انہیں سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہی؟ مولانا اپنے دونوں حلقوں سے مسترد کئے گئے جن میں وہ حلقہ بھی شامل ہے جہاں سے ان کے والد محترم و مرحوم مولانا مفتی محمود نے بھٹو جیسے ہر دلعزیز سیاست دان کو شکست دی تھی۔ مزید یہ کہ وہ موجودہ اسمبلی کو بھی دھاندلی سمجھتے ہیں اور اس حد تک سمجھتے ہیں کہ یوم آزادی منانے سے بھی انکاری ہیں تو پھر؟ بالفرض محال وہ صدر بن بھی جاتے ہیں تو کیا یہ ان دو حلقوں کے ووٹرز کی توہین نہیں ہو گی جنہوں نے آپ کو اپنی قومی اسمبلی کے قابل بھی نہ سمجھا اور پھر جس اسمبلی کے بارے آپ کے اقوال زریں ریکارڈ پر موجود ہیں ان سے تعاون کی طلب آپ کو ہضم کیسے ہو رہی ہے؟ باوقار یا بااصول ہونا تو دور کی بات ہے ہمارے ’’رہنما‘‘ تو باوقار یا بااصول ہونے کی اداکاری کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ بات گھوم گھام کر پھر وہیں آ جاتی ہے کہ مولانا کا مسئلہ کیا ہے جو ایک آرائشی، نمائشی، زیبائشی منصب کیلئے تماشا بن بھی رہے ہیں، تماشا لگا بھی رہے ہیں۔ ایک شے ہوتی ہے ضمیر جو دکھائی نہیں دیتی اور دنیا کی کسی دکان پر بھی دستیاب نہیں لیکن انسانی زندگی میں فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ بندے کے پاس اچھی صورت ہو نہ ہو، خیر ہے۔ دولت شہرت بھی نہ ہو تو چل جاتا ہے۔ صحت کاملہ کے بغیر بھی روپیٹ کر گزر بسر ہو جاتی ہے لیکن ضمیر کے بغیر زندگی کا تصور مکمل ادھورگی کے بغیر کیا ہے؟
مجھ کو گرنا ہے تو پھر اپنے ہی قدموں پہ گروں جس طرح سایہ دیوار پہ دیوار گرے۔ ضمیر خیر اور شر میں، صحیح اور غلط میں، جائز اور ناجائز میں تمیز کرنے کا نام ہے جو شاید کوئی مشکل کام نہیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اس سے نقصان بھی نہیں ہوتا البتہ کچھ فوائد ضرور تج دینے پڑتے ہیں ’’نفع‘‘ سے محرومی ضرور بھگتنی پڑتی ہے۔ ’’اخلاقیات سے محروم‘‘ گندے گورے اسے CONSCIENCE کہتے ہیں اور صرف کہتے ہی نہیں اسے پریکٹس بھی خوب کرتے ہیں۔ ایسا ہی اک فضول گورےEMANUEL SWEDEN BORG نے تو یہ تک کہہ دیا ۔ʼʼCONSCIENCE IS GODʼS PRESENCE IN MANʼʼ کسی اور بیوقوف کا خیال ہےʼʼCONSCIENCE: SOME THING THAT FEELS TERRIBLE WHEN EVERY THING ELSE FEELS WONDERFULʼʼ جارج واشنگٹن کا یہ جملہ بھی شاید وہی بول سکتا تھا کہʼʼLABOR TO KEEP ALIVE IN YOUR BREAST THAT LITTLE SPARK OF CELESTIAL FIRE CALLED CONSCIENCEʼʼ لیکن ہماری سیاسی دنیا کا معمول یہ ہے کہ جب ضمیر نامی شے کسی سیاست دان کو کال کرے تو اول یہ کہ وہ فون ہی نہیں اٹھاتا اور اگر اٹھا بھی لے تو ’’رانگ نمبر‘‘ کہہ کے ریسور پٹخ دیتا ہے۔ ضمیر مر جائے تو اکیلا کبھی نہیں مرتا۔ دیانت اور دلیری بھی اس کے ساتھ ہی مرجاتے ہیں۔ ضمیر روح کی پکار ہے کہ کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنے ضمیر کے ساتھ جنگ میں شکست کھا جائے، بہت بڑا فاتح ہوتا ہے۔ لوگ جتنی توجہ اپنے لباس پر دیتے ہیں اس سے آدھی اپنے ضمیر پر دیں تو دنیا دو گنا بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ہماری تو دنیا ہی نرالی ہے جس میں ٹیکس پیئر کا پیسہ شیر مادر کی طرح پیا جاتا ہے۔ یہاں بڑے بڑوں سے ان کے اربوں کھربوں کی منی ٹریل مانگی جائے تو وہ جواب دینے کی بجائے جیل جانے یا ملک سے فرار ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ابھی کل ہی زرداری صاحب سے گزشتہ 10 سال کے اثاثوں کی تفصیلات ’’طلب‘‘ کی گئی ہیں ۔’’رسد‘‘ عنقریب آپ کے سامنے ہو گی یا نہیں؟ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جسے ’’نیب‘‘ طلب کرے وہ ’’غیب‘‘ سے مدد مانگتے وقت با آسانی بھول جاتا ہے کہ وہ مجرم ہے۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے کیسا گلہ شکوہ یا شکایت:
چڑھدے سورج ڈھل دے دیکھے
بجھدے دیوے بل دے دیکھے
ہیرے دا کوئی مُل نہ تارے
کھوٹے سکے چل دے دیکھے
جنہاں دا ناں جگ وچ کوئی
اوہ پتر وی پلدے دیکھے
ضمیر کے بغیر زندگی کا بھی کوئی مزہ ہو گا جو لوگ اسے خوشی خوشی خود اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
The post ضمیر کے بغیر زندگی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2oprdid
via IFTTT
No comments:
Write komentar