لاہور(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے اعلیٰ سرکاری افسران پر ایک اور بجلی گرا دی ۔ تمام افسران کو کہہ دیا گیا یا تو اپنی دوہری شہریت چھوڑیں اور یا پھر سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ دیں ۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کے بیرون ملک
ملازمت کے این او سی کو بھی غیر قانونی قراردے کر اس کی درستی کے لئے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے حکم جاری کیا گیا ہے کہ کہ مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق این او سی جاری نہ ہونے کی صورت میں جنرل (ر) راحیل شریف اپنی موجود ہ غیر ملکی ملازمت سے فوری طور پر سبکدوش تصور کئے جائیں گے ۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ،مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال اور مسٹر جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے یہ حکم ججوں اور سرکاری وعدالتی ملازمین کی دوہری شہریت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جاری کیا۔فاضل بنچ نے سرکاری ملازمت کے بعد خودیا اپنے خاندان کے افراد کے لئے دوہری شہریت حاصل کرنے والے افسروں کے لئے ڈیڈ لائن مقررکرنے کا حکم بھی دیاہے ،جس کے اندر انہیں دوہری شہریت یا ملازمت میں سے ایک چھوڑنی ہوگی۔فاضل بنچ نے حکومت دوہری شہریت کے حوالے سے پیرامیٹرز اور راہنما اصول طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے قراردیا کہ اہم سرکاری عہدوں پر دہری شہریت والے افسران کو تعینات نہیں ہوناچاہیے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں دوہری شہریت کے حامل یاپاکستان کی شہریت نہ رکھنے والے سرکاری ملازمین اور پاکستان کی شہریت نہ رکھنے والے پاکستانی نژاد افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کے علاوہ حکومت کو ضروری قانون سازی کے لئے راہنما اصول بھی فراہم کئے ہیں۔
۔فاضل بنچ نے 52صفحات پر مشتمل اپنے اس فیصلے میں آئین ،شہریت ،سرکاری ملازمت اور نیشنل ڈیٹا بیس سمیت مختلف قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قراردیا ہے کہ کئی معاملات ایسے ہیں جن کی عدالتی تشریح کے ذریعے دادرسی ممکن نہیں ہے جب تک کہ پارلیمنٹ ان پر قانون سازی نہ کرے۔عدالت نے جنرل (ر)راحیل شریف کے حوالے سے قراردیا ہے کہ ان کا این او سی قانون کے مطابق نہیں ہے ، انہیں بیرون ملک ملازمت کے لئے جی ایچ کیو اور وزرات دفاع نے این او سی جاری کیا تھا جبکہ قانون کے تحت سابق سرکاری ملازم کو صرف وفاقی حکومت این او سی جاری کرسکتی ہے ،اس این او سی کے بغیر کوئی سابق سرکاری ملازم کسی غیر ملکی حکومت یا ایجنسی کی ملازمت نہیں کرسکتا۔عدالت قراردے چکی ہے کہ حکومت سے مراد وفاقی کابینہ ہے ،اٹارنی جنرل نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے عدالت سے مہلت طلب کی تھی ،اب سیکرٹری دفاع کو حکومت سے این او سی کی بابت ایک ماہ کی مہلت دی جاتی ہے اگر مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق این او اسی جاری نہیں کیا جاتا تو جنرل (ر) راحیل شریف بیرونی ملازمت سے سبکدوش تصور کئے جائیں گے۔(ش س م)
The post بریکنگ نیوز: بابا رحمتا جی نے میرٹ پر فیصلے کرنے کی مثال قائم کر دی :سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ اسلام آباد سے سعودی عرب تک ہلچل مچ گئی appeared first on Hassan Nisar Official Urdu News Website.
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2UV0tW2
via IFTTT

No comments:
Write komentar