
Monday, 1 October 2018

ان مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے سے پہلے ضرور سوچیں ۔۔۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بڑی خبر آگئی
لاہور(ویب ڈیسک)پبلک آفس اورتعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلیے درخواست پرسماعت ہوئی جس پر ہائیکورٹ نے پبلک آفس اورتعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی پرپابندی کےقوانین پرسختی سےعملدرآمد کرنےکاحکم دےدیا ہے۔ عدالت نے ڈی جی سوشل ویلفیئر کو بھی کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے تاکہ جلد سے جلد
اس پر عمل درامد کروایا اور کیا جا سکے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے سکولوں،والدین کے وکیل،سیکریٹری لاءاینڈجسٹس کومشترکہ سفارشات تیارکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ نسلوں کوذہن میں رکھ کرپالیسی سفارشات تیارکریں۔پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں کی ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سکول ٹیکسٹائل یاسٹیل ملز نہیں،مجھے بتائیں پرائیویٹ سکولوں کوکونسی باڈی ریگولیٹ کرتی ہے؟پرائیویٹ سکول مالکان کسی کو جوابدہ نہیں،تعلیم،لیڈرشپ اورجوڈیشل سسٹم کی بنیادپرقوموں نے ترقی کی ہے،ترقی کرناہرشخص کاحق ہے لیکن سکولوں والے والدین پراضافی بوجھ نہ ڈالیں۔عدالت نے سکولوں،والدین کے وکیل،سیکریٹری لاءاینڈجسٹس کومشترکہ سفارشات تیارکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ نسلوں کوذہن میں رکھ کرپالیسی سفارشات تیارکریں۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Nci0Uv
via IFTTT

تحریک انصاف کے ایم پی اے عمران شاہ کے شہری کو تھپڑ تو آپ کو یاد ہوں گے لیکن اب انہوں نے ایسا کام کر دیا کہ آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی
کراچی (ویب ڈیسک ) میڈیا کی کوریج حاصل کرنے کیلیے نت نئے سیاسی حربے تو آپ نے دیکھے ہی ہوں گے ، کوئی سائیکل پر پارلیمنٹ میں آ کر خود کوخبروں کی زینت بناتا ہے تو کوئی گدھا گاڑی کا استعمال کرتے پایا جاتا ہے ، آج تحریک انصاف کے ایم پی اے ڈاکٹر عمران شاہ کی اپنی

والدہ کی 44 سالہ پرانی فوکسی کار میں سندھ اسمبلی میں آمد۔۔ عمران شاہ نے اپنی گاڑی کو پی ٹی آئی کے پرچموں اور سلوگن سے سجایا ہوا تھا ، یاد رہے کہ عمران شاہ وہی آدمی ہے جس نے کراچی کے ایک شہرے کو 5 تھپڑ مارے تھے جس کا اس کو 35 لاکھ جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2RjOy2e
via IFTTT

یونیورسٹی کا لیکچر روم ، شادی شدہ طالبہ اور ایک مشکل سوال۔۔ ایک ایسی تحریر جو آپ کو مدتوں یا د رہے گی
لاہور (ویب ڈیسک) کلاس میں سمندری مخلوق پر گفتگو کرتے ہوئے میڈم نے بتایا کہ وھیل مچھلی 30 دن تک بغیر کچھ کھائے زندہ رہ سکتی ہے۔ جس پر ایک بچہ حیرت میں ڈوب گیا۔ کھڑے ہو کر کہنے لگا۔۔ لیکن میڈم ! میں نے تو بائیولوجی کی کتاب میں پڑھا تھا کہ
مشہور کالم نگار علی عمران جونیئر روزنامہ نئی بات کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وھیل مچھلی بغیر کھائے صرف 10 دن زندہ رہ سکتی ہے ۔۔میڈم سٹپٹا گئی۔ اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے بولی ۔۔ نہیں ، وہ 30 دن تک زندہ رہتی ہے۔۔بچے نے میڈم کے غصے اور بحث سے بچنے کے لیے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔ ٹھیک ہے۔ جب میں جنت میں جاؤں گا تو وھیل مچھلی سے خود ہی پوچھ لوں گا۔۔میڈم نے بچے کو مزید چڑانے کے لیے فاتحانہ انداز میں چوٹ کی۔۔ لیکن اگر وھیل مچھلی جنت کی بجائے جہنم میں چلی گئی تو۔۔۔؟؟۔۔بچے نے میڈم کا سوال غور سے سنا، چند لمحے اپنی میڈم کے چہرے کو تکا،پھر کندھے اچکا کر جواب دیا۔۔ تو میڈم۔ پھر آپ پوچھ لیجئے گا ۔۔پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی… دے تھپڑ،دے چماٹ۔۔کہانی کی دُم: جب سامنے والے کے پاس دلائل ختم ہوجاتے ہیں تو پھر وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔۔یونیورسٹی میں لیکچر چل رہا تھا۔۔پروفیسر نے ایک married لڑکی کو کھڑا کیا،اور کہا کہ۔۔ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25۔ 30 لوگوں کے نام لکھو جوآپ کو سب سے زیادہ پیارے ہوں۔۔لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے۔۔
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا ۔۔لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے ۔۔پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا ۔۔لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسیوں کے نام مٹا دیے ۔۔اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا۔۔لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے ۔۔اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے مما۔ پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا ۔۔اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو۔۔لڑکی کشمکش میں پڑ گئی ،بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے مما، پاپا کا نام مٹا دیا ۔۔تمام لوگ دنگ رہ گئے، لیکن پرسکون تھے ،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکہ ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا۔۔ اب صرف 2 ہی نام باقی تھے۔۔شوہر اور بیٹے کا ۔۔ پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو ۔۔لڑکی اب سہم سی گئی۔۔بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا ۔۔پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا، تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ ۔۔ پھر سب کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا۔۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا۔۔
سب خاموش رہے ۔۔پھر پروفیسر نے اسی لڑکی سے پوچھا کہ اسکی کیا وجہ ہے؟ ۔۔لڑکی نے جواب دیا، میرا شوہر ہی مجھے میرے ماں باپ، بہن بھائی، حتا کے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔ وہ میرے ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہے، میں اس سے ہروہ بات شیئر کر سکتی ہوں جو میں اپنے بیٹے یا کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتی،میں اپنی زندگی سے اپنا نام مٹا سکتی ھوں مگر اپنے شوہر کا نام کبھی نہیں مٹا سکتی۔۔کہانی کی دُم: بیوی گھر کی ملکہ ہوتی ہے، اسے پیر کی جوتی کبھی نہ سمجھیں، ورنہ گھر میں تو جوتیاں پڑیں گی ہی، باہر بھی ٹینشن میں ہی رہیں گے۔۔ بچے کے پیدا ہونے کے پانچ سال بعد ایک دِن اچانک ماں کو احساس ہوا کہ، یہ بچہ ہمارا نہیں لگتا، کیوں ناں اِس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے۔۔۔ شام کو اْس کا شوہر تھکا ہارا ڈیوٹی سے گھر واپس آیا تو اْس نے اپنے خدشے کا اظہار اْس سے بھی کیا کہ، ۔۔دیکھو! اِس بچے کی عادتیں بہت عجیب ہیں، اِس کا دیکھنا، چلنا، کھانا، پینا اور سونا وغیرہ ہمارے سے بہت مختلف ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارا بچہ ہے، چلو اِس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرواتے ہیں۔۔۔
شوہر نے موبائل میں مسڈ کالیں چیک کرتے ہوئے بیگم کی بات سنی اور کہنے لگا۔۔بیگم! تمہیں یہ بات آج اچانک 5 سال بعد کیوں یاد آ گئی؟، یہ تو تم مجھ سے 5 سال پہلے بھی پوچھ سکتی تھی۔۔۔بیگم اپنے مزاجی خدا کی بات سن کر حیران رہ گئی، حیرانی بھرے انداز میں پوچھنے لگی۔۔کیا مطلب تم کہنا کیا چاہتے ہو؟۔۔شوہر نے مسکراتے ہوئے بیگم سے کہا۔۔بیگم! یاد کرو ہسپتال کی وہ پہلی رات جب ہمارا بچہ پیدا ہوا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اْس نے پیمپر خراب کر دیا تھا، تو تم ہی نے مجھے کہا تھا،۔۔اے جی سنیے! پلیز بے بی کو’’ چینج ‘‘تو کر دیں۔۔ تب میں نے بڑی حیرانگی سے تمہاری طرف دیکھا تھا تو تم نے ہی کہا تھا۔۔ہمارے پیار کی خاطر، میں نے 9 مہینے اِسے اپنی کوکھ میں رکھا اور اب جبکہ میں ہل جْل بھی نہیں سکتی تو کیا آپ یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں کر سکتے؟۔۔ تو تب میں اپنے بچے کو اْٹھا کر دوسرے وارڈ میں گیا، وہاں اپنے گندے بچے کو’’چینج‘‘ کر کے دوسرے صاف بچے کو اْٹھا کر تمہارے ساتھ لا کر سْلا دیا تھا۔۔۔کہانی کی دُم: کسی کو کام بتاتے ہوئے اپنی مادری زبان استعمال کریں، دوسری لینگوئج کا بے جا استعمال کریں گے تو اسی طرح کا’’چینج‘‘آئے گا۔۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2NbQlD3
via IFTTT

“یہ تمام پائلٹ آف لوڈ کردیں۔۔۔” چیف جسٹس نے قومی ائرلائن کو اہم حکم جاری کردیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک) پی آئی اے کے جعلی ڈگری والے افسران سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ہے ۔چیف جسٹس نے جعلی ڈگری والے افسران کو آف لوڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ تمام پائیلٹس اپنی اصلی اسناد کی تصدیق کرویئں ۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا یہ کیا بدمعاشی لگا
رکھی ہے کہ جعلی ڈگریوں والا دور ختم ہو گیا اب سب کی تصدیق کی جایے گی ۔ واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بنی گالہ تجاوزات کیس اور جعلی ڈگریوں سے متعلق معاملہ سمیت اہم مقدمات کی سماعت آج ہو رہی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔پائلٹس اور کیبن کریو جعلی ڈگری کیس کی سماعت آج ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے پائلٹس اور دیگر عملے کی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والے 19 تعلیمی بورڈز اور جامعات کے سربراہوں کو آج طلب کر رکھا ہے۔بنی گالا تجاوزات کیس کی سماعت بھی آج ہو رہی ہے۔ گزشتہ سماعت سات اگست کو ہوئی تھی جس میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عمران خان اس معاملے کو دیکھیں گے جب کہ سروے آف پاکستان نے عدالت سے چھ ہفتے کا وقت مانگا تھا۔اسلام آباد کی خواتین کے لیے مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست، اسکولوں کی فیس میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت بھی آج ہو رہی ہے۔گزشتہ الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لیے درخواست دینے والی ایک خاتون نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی آبادی میں نصف تعداد خواتین کی ہے لیکن یہاں سے خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں رکھی گئیں۔سپریم کورٹ پہنچنے والی درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2RjOgZc
via IFTTT

ممی ڈیڈی کلاس والے سکولوں میں تو پیمپر بھی ۔۔۔ چیف جسٹس نے نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں اہم انکشاف کر دیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسکولوں کی جانب سے زائد فیسیں لینے کے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق کیس کی دو رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ۔ نجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
تعلیم اور صحت کا معاملہ کوئی کمرشل کام نہیں ۔ اسکولوں کواولیول اوراےلیول کرکےبہت چارجز لیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسکول ممی ڈیڈی کلاس کومتاثرکرنے کے لیے سہولتوں کے نام پرلوٹتے ہیں، ممی ڈیڈی کلاس والے اسکول میں توآیا پیمپر بھی تبدیل کرتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ فیسیں بڑھانے کا جواز دینا ہوگا۔ پرائیوٹ سکول کی جانب سے آنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیسوں میں اضافہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری سے ہوتا ہے،۔
، چیف جسٹس نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اختیارات نہیں ہیں تو ان کو ریگولیٹ کون کرتا ہے؟چیف جسٹس کیا اسکول کو اختیارات ہیں کہ وہ من پسند فیسیں بڑھائے۔ ہمیں فیسوں کا اسٹرکچر دکھا دیں۔ چیف جسٹس نے وکلا کو مخا طب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں سامنے رکھ کر بات کریں ۔ ، تعلیم کے لیے یکساں پالیسی ہونی چاہیے ۔، پالیسی میں بھی تعلیمی اداروں کے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔۔ فیس میں سالانہ 5 فیصد اضافہ کوئی جواز نہیں، کیوں نہ بڑے بڑے تعلیمی اداروں کا فرانزک کروا لیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے ٹیوشن دے کر فیس حاصل نہیں کی ۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2NeaNDc
via IFTTT
Sunday, 30 September 2018

The Week in Culture: Native Art at the Met; the Fringe Festival in a Ferry

By THE NEW YORK TIMES from NYT Arts https://ift.tt/2QjJdq7

