(تسنیم خیالی)
مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں ان کے اتحادی شام اور شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کی کامیابی کے باعث خود کو ایک بند راستے کے سامنے کھڑے پارہے ہیں اور ماہرین کے نزدیک ان مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ترکی کا شامی حکومت کے حوالے سے بدلتا ہوا موقف ہے جس میں ترکی ان کی مخالفت کرتے ہوئے شام کے حوالے سے ہونے والے آستانا مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہا ہے ، لہٰذا مغربی ممالک اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے لئے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ شام میں 7 سالوں سےشروع جنگ کو کس طرح جاری رکھے اور اس غرض کیلئے ’’کیمیائی حملے ‘‘ کا ڈرامہ اب صوبہ ادلب میں رچانے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ، ادلب اس وقت امریکہ ، یورپ اور ان کے عرب اتحادیوں کےزیراثر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا آخری ٹھکانہ ہے جو کہ حقیقی معنوں میں دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بننے کے ساتھ ساتھ شام کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے ، شامی حکومت ادلب پر پھر کنٹرول حاصل کرنے کے ذریعے شام میں جاری کشیدگی کا سدباب کرنا چاہتی ہے ، یہی نہیں بلکہ ادلب پر کنٹرول کا مطلب یہ ہے کہ شام بغیر کسی دشمن کے دبائو اور شرائط کے تحت مکمل فتح حاصل کرلیگا خاص طور پر کہ شامی حکومت نے ملک کے بیشتر علاقوں میں مکمل کامیابی پہلے سے ہی حاصل کررکھی ہے۔
امریکہ اپنے یورپی اور عرب اتحادیوں کی مدد سے ادلب پر شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کے حملے کو روکنے کے لئے متحرک ہوچکا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ادلب آپریشن کسی بھی صورت نہ ہوسکے تاکہ یہ آخری گڑھ دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ سے نہ نکل جائے ، اس غرض کیلئے امریکہ، برطانیہ اور فرانس ادلب میں کیمیائی حملے کا سکرپٹ تیار کررہے ہیں تاکہ انہیں پھرسے شام پر حملہ کرنے کا بہانہ ملے اور وہ شام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچائیں،روسی وزارت دفاع کے ترجمان ’’ایگور کوناشنکو‘‘ نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم النصرہ فرنٹ نےادلب کے علاقے’’ جسر الشغور‘‘ میں کیمیائی حملہ کیا ہے اور الزام شامی حکومت پر عائد کیا ہے، النصرہ فرنٹ نے جسر الشغور کے علاقے میں کلورائڈ کے زہریلی گیس سے بھرے 5 ٹینکرز داخل کئے تھے اور اس اقدام کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پر حملے کی پوزیشن لے لی ہے۔
ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ چند روز قبل ماسکو میں امریکی فوجی سلامتی کے مشیر ’’جان بولٹن ‘‘ نے اپنے روسی ہم منصب ’’نیکولائی پاثروشف‘‘ سے ہونے والی ملاقات میں روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بشار الاسد اور ان کی حکومت نے شام میں کیمیائی حملہ کیا تو شام پر حملہ کی تیاری مکمل ہے ‘‘ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ادلب پر پھر سے شامی حکومت کے کنٹرول سے خوفزدہ اور پریشان ہیں جو کہ دہشت گردوں کا آخری گڑھ ہے اورادلب پر شامی حکومت کا قبضہ روکنے کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔
ان کوششوں کے باوجود ماہرین کے نزدیک امریکہ شام کے میدان میں بہت کچھ ہار چکا ہے جسکی تلافی امریکہ کیلئے ممکن نہیں، علاوہ ازیں شام کے کرد بھی بشار الاسد کے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں ، شام میں خان شیخون اور دوما(مشرقی غوطہ ) کے علاقو ں میں کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا تھا جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پر حملہ کیا تھا، حالانکہ شامی حکومت نے اقوام متحدہ کے تعاون سے اپنے تمام کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہوتے ہوئے انہیں ملک سے باہر نکال دیا تھا جبکہ بعد میں یہ بات منظر عام پر آئی کہ شام کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں نے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی غرض سے اپنے اپنے کارخانے قائم کررکھے ہیں ، شامی افواج اپنے اتحادیوں کی مدد سے اور بنا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے دہشت گرد تنظیموں کو شکست دیتے ہوئے شام کے بیشتر علاقوں کو آزاد کراچکی ہیں اور آج جبکہ یہ جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے تو وہ بھلا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیوں کرے؟ شامی حکومت اس قسم کے حساس مرحلے میں قطعی طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریگی کیونکہ ایسا کرنے سےحکومت اور فوج کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
امریکہ اور اس کے اتحادی کیمیائی حملوں کے بہانے پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی ناکام ہوں گے اور آخر کار ادلب کو بھی دہشت گردوں سے آزاد کرالیا جائے گا جس سے شام میں جاری جنگ خاتمے کی طرف ایک قدم اور بڑھ جائے گی۔
The post شام میں پھر سے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا جائے گا ، آخر ان ڈراموں کی وجہ کیا ہے ؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2wpAw6i
via IFTTT


No comments:
Write komentar