Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 30 August 2018

امریکہ کی نئی مجوزہ افغانستان پالیسی

 

(محمد اکرام چوہدری)
امریکی پالیسی ساز ادارے ہمیشہ لمبے عرصے پر محیط بین الاقوامی پالیساں بناتے ہیں اور بین الاقوامی معاملات اور مفادات کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے ۔انگریز کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اگلے سو سال تک کے قومی امور زیر نظر رکھتے ہیں اور امریکی کم از کم پچاس سال ۔پاکستان میں صرف آج یا پھر کل ہمارے مدنظر رہا یہی حال تقربیاً سارے مسلم ممالک کا ہے بجز چند ایک کے جس میں ان دنوں ترکی اور ملائشیاء شمار ہوتے ہیں نئے پاکستان کی نئی قیادت کے بعد کس سمت قومی امور اور مسائل رخ اختیار کرتے ہیں ۔قوم امیدوں اور توقعات کے وسیع اور بہتر مستقبل کو دامن میں لیے پاکستان کو ایک آزاد، خود مختار اسلامی ریاست کے خواب کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھنا چاہتی ہے دراصل ستر سال میں یہ تمنائیں منزل کی حتمی صورت کو دیکھنے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔2018کوتبدیلی کا سال قرار دیا جارہا ہے جبکہ کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں اس متوقع تبدیلی کے عمل کو سراب قرار دے رہی ہیں ان کی انفرادی اور اجتماعی کوششیں نئی حکومت بننے کے دن سے دوسرے ہفتے میں داخل ہونے اور صدارتی الیکشن تک ایک ہنگامہ برپا کیے ہوئے ہیں دراصل مفادات کی سیاست نے پاکستان کو گرداب میں لیا ہوا ہے ہماری نہ اندرونی ملک دشمن عناصر اور نہ بین الاقوامی طاقتوں کے عزائم پر نظر ہے بلکہ کچھ تو خود ان کے الہ کار رہے اور ابھی بھی ہیں ۔

کچھ سال قبل میں نے اپنے مضامین میں اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ ہمیں مغربی ملکوں اور خاص کر امریکہ سے کچھ نہیں ملا ماسوائے مسائل در مسائل سینٹو ، سیٹو اور آر سی ڈی اور اب نیٹو اتحادی ہماری الجھنوں اور مشکلات میں اضافے کا سبب بنے ۔مشرق بعید کی جنگوں کے بعد کچھ پرانا اسلحہ بارود اور کچھ معاشی اور اقتصادی امداد اور امریکی جنگوں کا حصہ بننے اپنے سویلین اور فوجی شہیدوں کا تحفہ ۔چند ارب ڈالر وہ بھی ہماری معیشت کو 100ارب ڈالر سے تباہ کر کے گرانقدر صلے میں ہیروین ،کلاشنکوف،افغان مہاجرین جو 30لاکھ اب شاید کئی لاکھ اضافہ کے ساتھ پاکستانی معیشت اور بدامنی کا کسی حد تک سبب ہیں پاکستان کو دھشت گردی کا مسلسل سامنا ہے خاص کر بلوچستان اور کسی حد تک KPKبھی اس کا شکار ہے افغانستان ،بھارت اور امریکہ سمیت کئی مہربان اس عذاب کے پیچھے کار فرما نظر آتے ہیں ۔یادیو کلہبوشن ایک بھارتی فوجی افسر پاکستان میں دھشت گردی کے نیٹ ورک چلانے کے سبب فوجی عدالت سے موت کی سزا پا چکا مگر بھارت نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کر دیا جبکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ اس قسم کے جرائم میں عالمی عدالت اختیار سماعت نہیں رکھتی ۔یہ معاملہ کسی طرح سے بھی کسی بھی قانون کے تحت قابل سماعت نہیں مگر بھارت اور اس کے کئی یورپین ۔امریکن ساتھی پاکستان کو دباؤ میں رکھ کر اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں ۔دراصل ہمارے کمزور جمہورت اور کمزور سفارت کاری کئی مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے دیکھئے عمران حکومت اس سلسلے میں کیا اقدامات کرتی ہے یہ بات توجہ طلب ہے کہ ہم نے بین الاقوامی امور میں توازن برقرار رکھنے کی بجائے زیادہ انحصار یورپ امریکہ کی طرف رکھا ۔جب کہ اب کسی قدر ریجنل قوتوں چین ،روس ،ترکی وغیرہ کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے روس سے فوجی اورترکی سے اقتصادی روابط بڑھے ہیں مڈل ایسٹ دیکھتے ہیں نئی حکومت سے کیا معاملہ کرتا ہے اور مقروض قوم مشکل ترین حالات سے سرخرو ہوکر مشکلات کے بھنور سے نکلتی ہے ۔

امریکہ افغانستان میں داعش کو سپورٹ کر رہا ہے ۔کچھ گرفتاریاں بھی ہو چکیں ۔دراصل امریکہ طالبان کے خلاف جنگ ہا رچکا ہے اور نیٹو فورسزخاصی بے بس نظر آرہی ہیں فضائی حملوں کا سلسلہ تو جاری ہے مگر اب پراہ راست طالبان سے گفتگو کا سلسلہ بھی آگے بڑھ رہا ہے امریکی پاکستان کی مدد بھی چاہتے ہیں ۔سابقہ سالوں میں طالبان سے معاملہ کرنے کی کوششیں ہوئیں مگر امریکہ نے ڈرون حملوں میں طالبان لیڈرشپ کو نشانہ بنایا اور معاملات بگڑ گئے دراصل امریکی صدر ٹرمپ ایک انتہا پسند شخص ہے اور مسلم دشمنی کا اظہار کئی بار کر چکا ۔بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ بنا یا ۔فلسطینوں پر اسرائیلی ظلم کر رہے ہیں چند ماہ میں کئی سو فلسطینی شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی مگر نہ انسانی حقوق کے نمائندے اور نہ یورپ امریکہ انکی مدد کرنا چاہتا ہے بلکہ UNمیں اسرائیل کے خلاف قرار داد کو ویٹو کر دیا گیا ۔یہ سفاکی کوئی نئی نہیں دنیا پچھلی صدی میں اس طرح کی بربریت ویت نام ،کوریا ،جاپان ،یورپ اور جنوبی امریکہ میں دیکھ چلی ہے ۔

اب خبر ہے کہ Eric Princeنامی شخص کو افغانستان میں مقرر کر کے جنگ جاری رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے دراصل کنٹریکٹرز کے ذریعے نیا کھیل شروع ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ و ہ بہرحال جنگ ہا ر چکا ۔امریکی موجودگی تو ہر صورت اس علاقے میں رہے گی مگر اس میں پاکستان کو بھی محتاط فیصلے کرنے ہونگے غور کریں صدر اشرف غنی افغانستان میں خاصا مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اس کے چار سنیئر انٹیلجنس افسر استعفیٰ دے چکے کوشش جاری ہے کہ معاملہ سے بچے ۔افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ لیڈرشپ کے اپنے تحفظات ہیں طالبان سے امریکی بات چیت کے حوالہ سے جو بھی ہو افغان صورت حال اس خطے کے لیے خاصی پیچیدہ ہے روس میں ایک بیٹھک ہونا تھی طالبان اور جنگ کے حوالہ سے جو چند روز قبل ناکام بنادی گئی اور منسوخ ہوگئی آنے والے دنوں میں امریکہ کیا گل کھلاتا اور اس کے گردو نواح میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔موجودہ پاک حکومت کو خارجہ امور اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالہ سے چین ،روس اور دیگر ممالک سے امریکہ سمیت موثر اور بامقصد خارجہ پالیسی بنانا ہوگی جو مستقبل میں ہماری سالمیت اور آزادی کے لیے نہ صرف سود مند ہو بلکہ استحکام کا سبب بھی بنے جس سے ہمارے ہاں دھشت گردی کے واقعات کی روک تھام بھی ہوسکے ۔پاکستان کے موقف کو واضع اور مستقل سمت دینے کی انتہائی ضرورت ہے ۔اداروں کے درمیان مشاورت کے عمل کو موثر بنانا اور قابل اور دیانت دار مشیر اس سلسلے میں قابل قدر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔حکومت وقت نے کابینہ کی میٹنگ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے عمل میں پیش قدمی کی ہے پاکستان میں ٹاسک فورس بھی بن رہی ہیں تاکہ کرپشن اور سرمایہ کی بیرون ملک منی لانڈرنگ اور وسائل کا حصول اور قرضو ں کی واپسی کا عندیہ دیا ہے مگر جرمنی اور جاپان کا تذکرہ جنگ کی تباہی کے بعد اچھی بات ہے ان کے Economic Modelsکو Think Tanksکے ذریعے تجزیہ کرنے اور اپنے معروضی حالات میں عمل درآمد کرنے کی پالیسی ترتیب دینی چاہیے جس سے عوام کے مسائل بے روزگاری مہنگائی ،تعلیم ،صحت سمیت معاملات کو کم وقت اور اچھے طریقے سے نتیجہ خیز بنایا جا سکے ۔

The post امریکہ کی نئی مجوزہ افغانستان پالیسی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2MZs9b4
via IFTTT

No comments:
Write komentar