Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 29 August 2018

پاک امریکہ تعلقات

 

(سیمسن سائمن شرف)

کسی بھی ملک و قوم کی حیثیت اور اہمیت کو جانچنے کے پیمانے اس کا جغرافیہ، علاقائی سیاست میں کردار اور اس ملک کی قیادت کا رویہ ہوا کرتا ہے، خوش قسمتی سے آج پاکستان کو یہ تینوں اجزا میسر ہیں۔ یہ خصوصیت پاکستان کا قوموں کی برادری میں مقام و مرتبہ بلند کر دے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کی وکٹری سپیچ کے بعد سیاسی مبصرین اور پالیسی میکرز کو پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں اندازے لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ کی پریشانی کا اندازہ اس لیے بھی لگانا مشکل نہیں کیونکہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں امریکہ کے مقابلے میں افغانستان اور چین سے تعلقات کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ وہ امریکہ اور پاکستان کے مابین باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے مطابق امریکی انتظامیہ سے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ یقینا عمران خان کی تقریر نے امریکہ کو ششدر کر دیا تھا اسی لیے امریکی حکام نے اس کو تقریر کو عالمی تناظر کے بجائے علاقائی تناظر میں قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کا ذکر نہیں کیا۔ یہی مسئلہ ہے جو پاک امریکہ تعلقات میں خرابی کی اصل جڑ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ کی پاکستان کے حوالے سے گزشتہ کئی دہائیوں سے گاجر اور چھری کی پالیسی رہی ہے۔ اب امریکی انتظامیہ بظاہر مزید انتظار میں ہے کہ دیکھا جائے حالات کس رخ جاتے ہیں۔ جب امریکہ کے یہ اقدامات بھی ثمر آور ثابت نہ ہوں گے تب امریکہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی پالیسی کی جانب بڑھے گا۔ امریکیوں کو اس بات کا بھی یقین ہو چکا ہے کہ اب ان کے پسندیدہ وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کی اقتدار میں واپسی کے امکانات معصوم ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے نہ صرف پاکستان کی عسکری امداد سے ہاتھ کھینچنا جنوری میں ہی شروع کر دیا تھا بلکہ مسلسل آئی ایم ایف کی بات بھی کی جا رہی تھی۔

آئی ایم ایف کے بارے میں بیانات بھی اس وقت سامنے آئے جب نئی حکومت اقتدار کی کرسی پر ابھی تک سنبھل کر بیٹھ بھی نہ پائی تھی اور پاکستان کی معاشی صورت حال اور مالیاتی خسارہ اور ادائیگیوں کے مسائل کو قابو کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ اس مشکل وقت میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس قسم کے بیان کا مقصد حکومتی کوششوں میں روڑے اٹکانے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ عمران نے اپنی پہلی تقریر میں ہی قوم کو یہ اشارہ دیا کہ وہ غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے مسائل کے حل میں بھی خود انحصاری پر توجہ دیں گے ان حالات میں پاکستان کے مشکل حالات سے امریکہ اگر کوئی فائدہ اٹھانے کا سوچ رہا تھا تو یہ امریکی سوچ بھی بری طرح ناکام ہوئی۔ امریکہ کی طرف سے وقت سے پہلے آئی ایم ایف کی طرف جانے کا مشورہ پاکستان کی نئی قیادت کے لیے اس لحاظ سے خوش بختی ثابت ہوا۔ امریکہ کو شبہ ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی حکومت کی پالیسی الیسا ارسی کی تصنیف ’’کونسل آف فارن ریلیشن‘‘ کے مصداق ہو گی۔ عمران خان نے معاملات کی حساسیت کو اس طرح نہیں لیا جس طرح امریکی عینک سے دکھایا جانا مقصود تھا۔

سوال تو محض یہ ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں سے کس طرح نمٹتا ہے اور ان کا صفایا کس طرح کیا جاتا ہے۔ امریکی ماہرین کے نزدیک دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی صرف ایک یہ صورت بچی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک انداز میں وعدہ کرے، یقینا یہ معاملہ بھارت اور افغانستان کی بھی اولین ترجیح ہو گا۔ عمران خان کے لیے دہشت گردی کے مسائل پر توجہ دیے بغیر افغانستان ،امریکہ اور بھارت سے معاملات آگے بڑھانا خاصا دشوار ہو گا۔ امریکہ کی طرف سے وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے بعد تو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ وہ بھی درج بالا نکات کی غمازی کرتا ہے۔ پاکستان نے گو یہ بات یکسر مسترد کر دی ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں دہشت گردی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی بات نہیںہوئی۔ جبکہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والی اس قسم کی گفتگو نہ صرف پہلے سے تحریر شدہ ہوتی ہے جو بولی جاتی ہے بلکہ بات چیت کو ریکارڈ بھی کیا جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا موقف زیادہ مضبوط اور قابل فہم ہے۔

بہرحال ابتدا میں ہی پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے مشکل صورت حال پیدا کر دی گئی ہے۔خاص طور پر ان حالات میں جب سیکرٹری پومپیو پاکستان کے دورہ پر آنے والے ہیں۔ امریکی میڈیا اور دیگر ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کی طرف سے زلمے خلیل زاد کو افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیے جانے کا بھی امکان ہے۔9/11کے بعد وہ امریکی مشیر کے علاوہ افغانستان ،عراق اور اقوام متحدہ میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ امریکہ کے ایک مخصوص میڈیا گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیل زاد خطہ کے تمام پلیئرز کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور افغانوں میں بھی رسائی رکھتے ہیں مگر یہاں یہ بات نظر انداز کی جا رہی ہے کہ زلمے خلیل زاد کو افغانستان اور پاکستان میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ گزشتہ چار دہائیوں سے افغانستان اور عراق میں گاجر اور چھڑی کی پالیسی کے دوران خلیل زاد کے کمشن وصول کے چرچے شامل ہیں۔ وہ ایک خود ساختہ پشتون ہیں جو پشتو بول سکتے ہیں نہ ہی فارسی۔ مگر ان کی اسی خوبی کی وجہ سے امریکہ کو امید ہے کہ خلیل زاد کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خلیل زاد کی تقرری سے پاک امریکہ تعلقات خراب ہوں گے بلکہ افغانستان میں عدم استحکام بھی بڑھے گا۔ ان کا شمار بھی ہالبروک کی طرح ایسے افراد میں ہوتا ہے جو کٹوتیوں حامی سمجھے جاتے ہیں۔اور پھر واشنگٹن ڈی سی کے ورڈ رو ولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرز کے ماہر مشعال کوگل مین کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ امریکہ کی طرف سے نظرثانی شدہ پلان کبھی بھی پاکستان کا پلان بی نہیں رہا۔ پاکستان کے پلان اے کو 1996ء میں امریکی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا کہ جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا سے مورہرش تو بے نظیر کو سپیشل قاتل اسکواڈ کا شکار نہیں دیکھتے رہے؟ پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کبھی بھی سیدھے اور ہموار نہیں رہے ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں 2010-11ء کو ہی لے لیجیے۔ میں اس وقت بھی اس حوالے سے مضامین میں لکھتا تھا کہ پاکستان کا امن منصوبہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں۔

یکم اگست 2010ء کو میں نے ایک موقر انگریزی اخبار میں’’ فریبیٔ امن: غلطیوں کی جنگ ‘‘میں یہ لکھا تھا کہ حالیہ سفارتی محاذ آرائی اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں خطہ میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو گا یہاں تک کہ پاکستان کے اندر فضائی حملے بھی بڑھ جائیں گے تجربہ کی بنیاد پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ اسی طرح کی خود فریبی پر مبنی سربراہ مملکت کی کانفرنس کی صورت میں خطہ ایک بار پھر سانپوں کی آماجگاہ بن جائے گا اور اس پر خطر راستے پر پاکستان کو چلنا پڑے گا۔ وکی لیکس کے ذریعے مواد شائع کروانا بھی اسی امریکی پالیسی کا حصہ تھا تمام مغربی میڈیا 92ہزار رپورٹس میں سے محض 30رپورٹس کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے وہ بھی ایسی رپورٹس جن کی اصلیت بارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں مگر ہدف پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی تھی اور آج بھی ہے۔یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔ اور طالبان کی اتحادی فوج کے مقابلے میں مدد کر رہی ہے اور ایل ای ٹی کی معاونت سے ایک نئی دہشت گرد تنظیم بنائی جا رہی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ امریکہ پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ نہیں یہاں تک کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف کی طرف نہ بھی جائے تب بھی امریکہ کی کوشش ہو گی کہ پاکستان پر ایف اے ایف ٹی کی صورت میں شکنجہ کسا جائے اور فنڈنگ کے دوسرے ذرائع بند کئے جائیں۔اس حوالے سے امریکہ ترکی اور وینزویلا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکا ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا پاکستان کو گرتی ہوئی افرادی قوت اور معیشت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی مگر جس طرح اناٹول لیون نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ’’ بہتری کی طرف گامزن مگر ابھی تک بہائو کی سمت بہہ رہا ہے‘‘۔ پاکستان آہستگی سے ایک ملک کے سہارے پر منحصر اپنی فوج کو خود انحصاری کی طرف لے کر جانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ عمران خان کی طرف سے پیدا کی گئی سماجی بیداری کی لہر اس عمل کو مزید تیز کر دے گی ۔اسی طرح عمران کی طرف خیر سگالی کے اظہار کے افغانستان اور بھارت سے تعلقات کے حوالے سے بھی بہتر آثار نمودار ہوں گے۔ پاکستان کی قومی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو گا کیونکہ قیادت کے فیصلوں کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو گی۔

امریکی قیادت کو پاکستان کے بارے میں مستقبل میں بھی پالیسی مرتب کرتے وقت مندرجہ ذیل عوامل کو ذہن میں رکھنا چاہیے عمران خاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ابھی اناڑی ہیں ان کا صوبہ خیبر پختونخوا وزیرستان سے ملحق ہے جہاں سے پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کو نکال باہر کیا ہے یہ علاقہ اب خیبر پختونخواہ کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان کی فوج کو یہ بے مثال کامیابی حاصل ہونا ناممکن تھی اگر کے پی کے کی حکومت فوج کے ساتھ بھر پور تعاون نہ کرتی یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کے پی کے کا وہ وزیر اعلیٰ جو تباہ حال صوبے میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوا اب پاکستان کا وزیر دفاع ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کو یہ بات بھی یاد رکھنا ہو گی کہ 2011ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا آج وہ عمران خان کی زیر قیادت ایک بار پھر وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھال چکے ہیں ان کی سفارت کاری کی یادداشت اس تحریر کی طرح آہستہ آہستہ غائب ہونے والی نہیں اور مستقبل میں امریکی حکام سے معاملہ کرنے میں ماضی کا تجربہ بھی معاون ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا عوام میں مقبولیت کے حوالے سے بڑھتا گراف بھی افغانستان اور بھارت کی قیادت کے مقابلے میں ان کا پلڑا بھاری کر دیتا ہے پاکستان میں وہ مضبوط پشتون اور قومی علامت کے طور پر ابھرے ہیں ان کے اقتدار میں آنے سے تنگ نظری اور تعصب کے دروازے کسی حد تک بند ہو گئے ہیں۔

افغان قوم بھی پاکستان میں پشتون اورگوجر اتحادپر فخر محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی دانشور بھی ماسوائے انتہا پسند ہندوئوں کے یہ بات بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کیا کہہ رہے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے کہے پر کتنے سنجیدہ ہیں۔ عمران خان کا مرکز نگاہ کی صورت میں ابھرنا خطہ میں مثبت تبدیلی کی ہوا چلنے کا اشارہ ہے۔ آخری بات یہ کہ ملائشیا میں مہاتیر محمد اور ترکی میں طیب اردوان کا ابھرنا مسلم قیادت میں انقلابی فکر کا مظہر ہے۔ جغرافیائی تدبیر کے خاتمے کے بعد یہ تعلقات مضبوط تر ہوں گے۔

The post پاک امریکہ تعلقات appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2okyYWw
via IFTTT

No comments:
Write komentar