اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ بینک نے پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور ہیومن ڈیولپمنٹ کے لیے نو منتخب حکومت کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے طویل مدتی پالیسیز بنانے کی تجویز دے دی۔اس کے علاوہ ملک کو درپیش معاشی صورتحال میں کنٹری اسسٹیٹس اسٹریٹجی کے تحت پاکستان کو دیے جانے والے فنڈز میں اضافے سے معذوری ظاہر کی گئی ہے۔اس حوالے باخبر ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دورے پر آئے ورلڈ بینک کے ایک وفد نے سی اے ایس 2019- 24 کے 5 سالہ،
پروگرام کے تحت ترقی ہیومن کیپٹل ڈیولپمنٹ سمیت معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔وفد نے پاکستان میں ترقی کی تیز رفتار شرح کے حصول کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں طویل مدتی پالیسیوں اور نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ان خیالات کا اظہار ورلڈ بینک جنوبی ایشیا کے نائب صدر ہروگ شیفر اور پاکستانی وزیر خزانہ اسد عمر کے درمیان ہونے والی باہمی ملاقات میں کیا گیا۔پاکستانی وزیر خزانہ نے ہروگ شیفر کا استقبال کیا اور پاکستان کے ساتھ،
شراکت داری جاری رکھنے اور کئی سالوں سے پاکستانی حکومت کی حمایت کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔اس موقع پر ورلڈ بینک کے عہدیدار نے وزیر خزانہ کو نئی حکومت کے اقتصادی ترقی اور سماجی ترقی کے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانےکے لیےاپنی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔وزیرخزانہ نے وفد کو بتایا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے کی تا کہ ملکی معیشت کو واپس پٹری پر لایا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے کردار میں اضافہ کرنے کی،
خواہش رکھتی ہے، اور اس سلسلے میں ملکی معیشت کی بہتری کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔دوسری جانب اس ملاقات کے بارے میں جاری گئے باضابطہ بیان میں ہروگ شیفرکا کہنا تھا کہ ملک میں اقتصادی استحکام کا حصول حکومت کا اہم ترین ہدف ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ہیومن کیپیٹل ڈیولپمنٹ ، میکرو اکنامک استحکام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔خیال رہے کہ ورلڈ بینک کی جانب سے سی اے ایس 2014- 19 کے 5 سالہ پروگرام کے تحت 11 ارب ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
The post ورلڈ بینک کی حکومت کو معاشی استحکام کیلئے طویل مدتی پالیسی بنانے کی تجویز appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2N1NWi8
via IFTTT


No comments:
Write komentar