صنعا (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ امور کے ایک ایرانی ماہر نے کہا ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور امریکہ کی مشکل مشترک ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک یمن میں ڈیموکریسی نہیں چاہتے کیوں کہ اس کے نتیجہ میں عوامی حکومت تشکیل پائے گی جو کہ امریکہ اور سعودی عرب کے مفادات کے خلاف ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ماہر تجزیہ نگار ’’سعد اللہ زراعی‘‘ نے مقامی میڈیا کے ساتھ انٹریو میں کہا سوالیہ انداز میں کہا کہ یمنی بچوں کی اسکول بس پر سعودی اتحاد کی جانب سے کی جانے والی بمباری جنگی جرائم کی انتہا ہے اور ان جنگی جرائم پر دنیا کے کم و بیش تمام ممالک نے مذمت کی لیکن امریکہ بجائے مذمت کے اپنے اور سعودی عرب کے درینہ تعلقات کی داستانیں سنا رہا تھا تو کیا امریکی حکام واقعاً انسان ہیں؟
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ وہ یمن میں اس قدر مشکل میں پھنس جائے گا اور اس کے لیے یمن کی جنگ ایک وبال بن جائے گیا اورسعودی عرب کی تمام تر پیشن گوئیوں کے خلاف یمنی عوام نے مقاومت کا مظاہرہ کیا اور یہی مقاومت سعودی عرب کے سکوت کا باعث بنے گا۔ موصوف ماہر نے کہا کہ سعودی عرب اسلام کا نعرہ لگا کر امریکہ اور اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتل عام میں مشغول ہے۔
انہوں نے بیشتر مسلم ممالک کی طرف سے یمن پر جاری آل سعود کی وحشیانہ جارحیت پر خاموشی کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف اسلامی ممالک کی خاموشی کا سبب ان کا سعودی امداد پر منحصر ہونا ہے اور اقوام متحدہ کی خاموشی کا سبب امریکہ غلامی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی جنگ میں یمنی عوام کی مقاومت اور اسلامی بیداری انصار اللہ اور حزب اللہ جیسی تحریکوں کے وجود میں آنے کا سبب بنی ہے جو مستقبل میں سعودی اور امریکی مفادات کو شیدد نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
The post یمنی مقاومت سعودی عرب کے سکوت کا باعث بنے گی: ایرانی تجزیہ کار appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2POqzaK
via IFTTT


No comments:
Write komentar