عمر کوٹ(ویب ڈیسک ) پولیس نے 11 روز بعد بازیاب ہونے والی عمر کوٹ کی 13 سالہ امیشا کی ملاقات اس کی والدہ اور بھائی سے کروا دی۔واضح رہے کہ 18 اپریل کو گائوں ہاشم پلی میں پولیس نے کم عمری کی شادی کی تقریب میں چھاپہ مار کر 13 سالہ امیشا خاصخیلی کو تحویل میں لے
کر والدین کے حوالے کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم امیشا کے والدین نے بچی کے اغوا کا الزام پولیس پر عائد کردیا تھا۔لڑکی کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے مقامی وڈیرے کی ایما پر شادی رکوائی اور لڑکی کو اپنے ساتھ لے گئی جو اب تک لاپتہ ہے، دوسری جانب پولیس حکام کا دعویٰ تھا کہ لڑکی کو قانونی کارروائی کے بعد اہلخانہ کے حوالے کردیا گیا تھا، جس کا تحریری معاہدہ بھی موجود ہے۔بعدازاں گذشتہ روز وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ امیشا حیدرآباد پولیس کی تحویل میں ہے، جسے ایک بلوچ جوڑے نے پولیس کے حوالے کیا، جو انہیں سڑک کنارے ملی تھی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ بچی کو تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اہلخانہ کے حوالے کردیا جائے گا۔حیدر آباد سے امیشا کی بازیابی کے بعد اسے سخت حفاظتی انتظامات میں عمر کوٹ کے سول اسپتال لایا گیا، جہاں میڈیکل ٹیسٹ کے بعد بچی کو ویمن تھانے منتقل کردیا گیااور بعدازاں امیشا کی والدہ اور بھائی سے اس کی ملاقات کرائی گئی۔ملاقات کے دوران امیشا کا کہنا تھا کہ اسے عمر کوٹ ویمن تھانے کی سابقہ ایس ایچ او خوش بخت سمیت مقامی وڈیرے فیض علی اور سیف اللہ نے اغوا کیا تھا۔امیشا کا کہنا تھا کہ اسے کوئی چیز کھلائی گئی، جس کے بعد اسے ہوش نہ رہا۔بچی کو آج عمرکوٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔(ع،ع)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2jrOAVY
via IFTTT

No comments:
Write komentar