(تسنیم خیالی)
پچھلے دنوں شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ صرف شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار کو ختم کرنے پر زور دے گا تو شمالی کوریا مذاکرات منسوخ کرتے ہوئے اپنا ایٹمی اور میزائل پروگرام جاری رکھے گا شمالی کوریا کے اس شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ بھی حرکت میں آئے ہوئے ہیں، انہوں نے کم جونگ اون کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کےلئے کہا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ضمانت دی جائے گی کہ کم جونگ اون ہی شمالی کوریا کے سربراہ رہیں گے اور شمالی کوریا ترقی کے منازل طے کرے گا البتہ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات نا کام ہونے کی صورت کم جونگ اون کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو لیبیا کے سابق صدر کرنل معمر القذافی کےساتھ ہوا، ٹرمپ کا یہ آخری جملہ (قذافی والا) اور کم جونگ اون کو دھمکی انتہائی مضحکہ خیز اور قہقہے کا باعث ہے، ٹرمپ شاید بھول گئے ہیں کہ قذافی عربی تھا جبکہ اون عربی نہیں، قدافی کا جو حال ہوا اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کمال نہیں تھا اور ناہی اس میں قذافی کی کوئی خامی یا غلطی، دراصل قذافی کے ساتھ جو ہوا وہ اس لئے ہو اکہ وہ ایک عرب لیڈرتھے اور انکے ارد گرد عرب ریاستیں تھیں اور انکا ملک لیبیا عرب خطے کا حصہ ہے۔
اگر قذافی عربی نا ہوتے اور عرب ملک کے علاوہ کسی دیگر غیر عرب ملک کے سربرا ہ ہوتے تو انکا یہ حال نہ ہوتا، القذافی کے ساتھ خود عرب ممالک کے سربراہوں اور حکومتوںنے غداری کی اور اسے موت کے گھاٹ اتارنے میں امریکہ کی مدد کی، شمالی کوریا دنیا کے ایک ایسے خطے کا حصہ ہے جہاں کوئی عرب موجود نہیں اور ناہی امریکی اثرورسوخ کی تائید کرنے والے عربوں جیسے غلام موجود ہیں، امریکہ کا زور صرف مشرقی وسطیٰ کے ممالک بالخصوص عرب ممالک پر چلتا ہے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ عربی آپس میں اتفاق نہیں رکھتے اور انکے حکام ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں، انھی حکام نے قذافی کو دھوکہ دیا اور اسے مارنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور مدد کی لہٰذا کم جونگ اون کے ساتھ القذافی والا حال کبھی نہیں ہوسکتا دوسری بات یہ ہے کہ شمالی کوریا کے پڑوسی چین اور روس جیسے ممالک ہیں جو امریکہ کے تابعدار نہیں بلکہ حریف ہیں، ایسے حریف جو شمالی کوریا میں کسی بھی طرح لیبیا جیسے حالات پیدا نہیں ہونے دیں گے اور ناہی شمالی کوریا میں امریکی اثرورسوخ قائم ہونے دیں گے۔
The post ٹرمپ نے کم جونگ کو خبردار کردیا appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2IXAg5M
via IFTTT


No comments:
Write komentar