Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 2 May 2018

ملحمہ کبری ،آرمگڈون یا تیسری عالمی جنگ ۔۔؟

 

مشرق وسطی میں مزید آگ بھڑکانے کی کوشش
اس بات میںکسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ کے حالات اسی ٹریک پر ہیں کہ جس کا انجام ایک بڑے تصادم کی شکل میں ہی نکلے گا ۔ایک ایسا تصادم کہ جس کے بارے میں ماہرین سیاسیات و سماجیات دنیا کے اختتام کا ذکرکرتے آئے ہیں ایک ایسا تصادم کہ جس کے بارے میں مختلف مذاہب ہزاروں سالوں سے پیشن گوئی کرتے آئے ہیں،کوئی اسے آرمگڈون یا ہرمجدو کہتا ہے تو کوئی اسے ملحمہ کبری ،یا معرکہ کبری ۔۔یہودیت اسے معرکے کو ماشیح کی آمد ،تو عیسائی اسے حضرت عیسی کی آمد ،تو زرتشت اسے سوشیانت۔۔۔جبکہ مسلمان اسے امام مہدی کے نام سے یاد کرتے ہیں

ہم یہاں اس موضوع کی مذہبی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے لیکن ہم اسے نظر انداز بھی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی نظر انداز کیا جانا مناسب ہوگا ،ہم یہاں صرف مشرق وسطی جیسے اہم ترین خطے میں جو کچھ اس وقت ہورہا ہے اس پر تبصرہ اور تجزیہ کرناچاہتے ہیں ۔لیکن اس تجزیے اور تبصرے کے وقت مشرق وسطی کے سامنے دکھائی دینے والے حالات کےپیچھے پوشیدہ عوامل اور جذبوں کونظر انداز بھی تو نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
اس سے قبل ہم نے لکھا تھا کہ کیسے نہر فرات سے لیکر دریائے نیل تک کا علاقہ صیہونی یہودی تعلیمات اور تفسیر تورات کے تحت ان کے لئے ایک مقدس سرزمین کی حیثیت رکھتاہے (قارئین کو وقت ملے تو پیج کو رول کرکے نیچے اس مضمون کو پڑھ سکتے ہیں ۔)

معروف روسی تجزیہ نگار ولادیمیر ساگین اپنے تازہ ترین مضمون کہ جس کا عنوان ’’معاہدے کی خلاف ورزی جنگ کاپیش خیمہ ‘‘میں لکھتا ہے کہ ’’مشرق وسطی اور پوری دنیا نئے چیلنجوں کی طرف بڑھ رہی ہےاگر ایران کے ساتھ ہونے والامعاہدہ ٹرمپ کی وجہ سے کینسل ہوجاتا ہے تو مشرق وسطی میں نئی سیاسی اور عسکری صف بندیاں اور بحرانوں کا آغاز ہوگا ،اور اس بات کا پورا امکان پایا جاتا ہے کہ کچھ قوتیں مل کر ایرانی ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنےکی ٹھان لیں جس کامطلب ایک بڑی جنگ چھڑ جانا ہے ‘‘

بات صرف ولادیمیر ساگین کی نہیں بلکہ اکثر تجزیہ کار اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اگر ٹرمپ معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے ،یا ٹرمپ اس معاہدے میں مزید شرطوں کا اضافہ کرنا چاہتا تو اس صورت میں مشرق وسطی کو کسی بھی بڑے معرکے سے کوئی نہیں بچاسکتا ہے ۔ٹرمپ کی جانب سے معاہدے میں باقی رہنے کی تین شرطیں پیش کی گئیں ہیں جیساکہ فرانسی صدر میکرون اور جرمنی چانسلر میرکل نے کہا ۔

الف:ایران اپنا دفاعی ساوزسامان بنانا بند کردے ،خاص کر میزائل پروگرام

ب:خطے میں اپنا اثر ورسوخ ختم کردے

ج:معاہدے کی محدود مدت کو ختم کرکے اسے دائمی شکل دی جائے ۔

اگر بغور ان تین شرائط کو دیکھاجائے تو ٹرمپ چاہتا ہے کہ ایران کو دفاعی اعتبار سے بالکل ناکارہ بنادیا جائے دوسرے الفاظ میں وہ کہنا چاہتا ہے کہ اپنی دفاعی اور اسٹراٹیجک سرحدوں کو کھول دو ۔امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے اس وقت تک کسی بھی ملک پر حملے کی جرات نہیں کی ہے جب تک اس ملک کو پہلے پابندیوں اور سختیوں کے ذریعے کمزور نہ جائے ۔

چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے

الف :ایران کا میزائل پروگرام اس کی دفاعی سرحد اور بارڈر یا کسی بھی جنگ و معرکے کے میدان کو اپنی سرزمین سے دور بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔

ب:خطے میں اپنےدفاعی اور جغرافیائی محاذوں سے انخلا یا دور ی کا مطلب بھی اپنی طاقت کو کم کرنے کے علاوہ دشمن کو اپنے دروازے پر دعوت دینے کے مترادف ہوگا ۔آج اگر اسرائیل ،امریکہ یا کوئی اور ایران پر حملہ کرنا چاہے تو پہلے انہیں ان محاذوں سے گزرنا پڑے گا جو ایران کے اتحادی محاذ ہیں جن کا آغاز فلسطین سے لیکر لبنان شام اور عراق سے ہوتا ہے

ج:دنیااور خاص کر مشرق وسطی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی آپ کمزور ہونگے اور آپ اپنی طاقت کے توازن کو برقرار نہیں رکھ پائیںگے تو آپ کو ترنوالہ بنایا جائے گا ۔

اسرائیل صبح و شام ایران پر حملے کی بات کرتا ہے جو کہ ایک ایٹمی قوت بھی ہے اس کے مقابل ایران سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنا دفاعی پروگرام بند کردو جبکہ اسرائیل جدید ترین اسلحے اورآئے دن نئے نئے ایٹمی تجربات کرنے میں مکمل آزادہے ۔لہٰذا ایران نہ تو اپنے دفاعی میزائل پروگرام کو بند کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنے اتحادیوں کو چھوڑے گا تو صورتحال کیا بنے گی ؟

الف:امریکہ اکیلا ہی معاہدے سے نکل جائے

ب:امریکہ اور اسکے قریبی تین یورپ ممالک اس معاہدے کی خلاف ورزی کریں

ج:امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی معاہدے کی پاسداری کرے
اگر امریکہ اکیلا اس معاہدے کی خلاف وزری کرتا ہے تو ایران کے پاس آپشن ہوگا کہ وہ اس معاہدے کو کینسل سمجھے یا پھر باقی ملکوں کے ساتھ اسے جاری رکھے ،اگر امریکہ اور کچھ یورپی ممالک اس معاہدے کی خلاف ورزی کریں تو اس صورت میں یہ معاہدہ تقریباً خوبخود بے کار ہوکر رہ جائے گا اور یوں ایران نہ صرف اس معاہدے سے بلکہ این پی ٹی معاہدے سے بھی نکل سکتا ہے ۔لہذا اس صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کا پورا امکان ہے کہ امریکہ یورپی مصالحت کے بہانے سے اس معاہدے کی خلاوف ورزی سے ماضی کی طرح رک جائے ۔

اہم ترین نکتہ:جب تک ایران کے پاس دفاعی قوت اور طاقت کا توازن برقرار ہے جب تک ایران خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہیں ایران پر کسی بھی قسم کی کوئی جنگ مسلط کرنا پاگل پن سے آگے کی بات ہوگی اور اگر کسی قسم کی جنگ مسلط کی جاتی ہے تو یہ جنگ آرمگڈون ،ملحمہ کبری ،معرکہ آخر یا تیسری عالمی جنگ جو چاہے نام رکھا جائے ہوگی اور اس جنگ کے بعد کی دنیا یقیناً پہلی جیسی نہیں ہوگی ۔۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

The post ملحمہ کبری ،آرمگڈون یا تیسری عالمی جنگ ۔۔؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2KvXhLg
via IFTTT

No comments:
Write komentar