(ڈاکٹر دوست محمد)
بات یہ ہے کہ ایف سی آر (فاٹا کرائمز ریگولیشنز) کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس کو قانون کہنا گناہ ہے ۔ اور جس کسی نے بھی اسے کالا قانون کہا ہے ، بجا کہا ہے اور اگر اس قانون کی برائی ظاہر کرنے کے لئے اس سے زیادہ موثر کوئی لفظ ہو سکتا ہے تو وہ بھی جائز ہوگا۔ انگریز نے تو اس حریت پسند خطے کے آزاد عوام کو غلامی میں جکڑنے میں ناکامی کے بعد دل کی بھڑاس نکا لنے کے لئے ایف سی آر کے نام سے اس خطے کے عوام کو ملک صاحبان کے ذریعے محدود رکھنے کے لئے سارے جتن کئے جو تاریخ میں ہمیشہ کے لئے انگریز کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ رہے گا ۔ کہ آخر اپنے آپ کو بہت اصول اور انسانیت پرست سمجھنے والے نے ہمارے قبائل کے لئے انسویں صدی میں ایسا قانون بنا یا جو کسی بھی لحاظ سے کسی پڑھی لکھی اور مہذب قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ کوئی ایک آدمی کوئی جرم کرے تو اُس کی سزا اُس کا پورا خاندان بھگتے ۔ اور جرم بھی کیسا ۔۔۔آزادی کا حصول ، انگریز سے اپنے گھر علاقے اور وطن کو محفوظ رکھنے کے لئے لڑنا ۔۔اور پھریہ بھی کوئی بات تھی کہ انگریز بہادر قبائلی علاقہ جات کے کسی فرد( مرد حر) کو قید کرنا چاہے تو ضروری نہیں کہ اُسے اُس کا جرم اور خطا اور غلطی بھی بتائی جائے ۔ یعنی بغیر کسی جرم و خطا کے بھی انگریز کے من میں کسی کیخلاف میل پیدا ہوجائے تو اُسے حبس بے جامیں مہینوں سالوں تک ڈال کر کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ سب سے بڑا ظلم اور انسانی تاریخ کا سیاہ باب تو یہ تھا کہ فرد واحد کے جرم کی سزا بعض اوقات پورے گائوں وعلاقے کے لئے اجتماعی سزا بھی بن جاتی تھی جو شاید ہی دنیا میں کہیں اور اس قسم کی سزاکا تصور بھی ہو ۔
افریقہ کے وحشی قبائل میں بھی شاید ہی ایسا ہو لیکن افسوس تو اس بات پر ہے کہ قیام پاکستان کےبعدعرصہ تک یہ قانون کیوں کر نافذ کر رہا ؟َاس میں یقیناً پاکستان کی نکمی سیاست کا بڑاکردار رہا ہے ۔ اور اگر قبائلی نوجوان مجھے معاف رکھ سکیں تو عرض کروں کہ اس میں تھوڑا بہت حصہ قبائلی ملکان ومشران کا بھی تھا ۔پاکستان کی وفاقی حکومت سے وظائف ومراعات کی وصولیابی جاری تھی ، فاٹا کے منتخب نمائندے بھی اسلام آباد کے مزے لوٹتے تھے ، غریب قبائلی عوام اور بالخصوص قبائل کے پڑھے لکھے نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا یہی وجہ ہے کہ فاٹا کے انضمام میں پڑھے لکھے قبائلی نوجوانوں کابہت بڑا کردار ہے ۔ اس کے لئے انہوں نے میڈیا اور جلسے جلوس کے ذریعے اپنے منتخب نمائندوں کو مجبور کیا کہ فاٹا کے انضمام کے لئے بھر پور آواز اُٹھائے اور آج جب یہ بل قومی اسمبلی سے د و تہائی اکثریت کے ساتھ پاس ہوگیا تو استحکام پاکستان کی خوشی ، قبائلی عوام کو بنیادی حقوق کے حصول کی آئینی ضمانت اور انگریز کے اس ناخوشگوار یادوں پر مشتمل قانون سے نجات کی خوشی میں میری ذاتی خوشی اس لحاظ سے شامل ہے کہ بہت سارے قبائلی طلبہ وطالبات کی تعلیم و تربیت اور رہنمائی میں احقر کا بھی بحیثیت استاد ایک کردار رہا ہے ۔ لہٰذا اپنے سارے نوجوانوں شاگردوں او ردیگر قبائلی عوام اور یوتھ کو مبارک باد اس دعا کے ساتھ کہ یہ عمل وطن عزیز کے لئے استحکام و تقویت کا باعث بنے ۔ اس موقع پر یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اب قبائل کے نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں سخت محنت کرنا ہوگی کیونکہ اب فاٹا ڈومیسائل اور کوٹہ وغیرہ کے مزے گئے دنوں کی بات ہوگئی ۔ اب مقابلہ کے امتحانات میں مقابلہ کرنا ہوگا ۔ علاوہ ازیں اس بات پر اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی طور پر شکر انہ کے نوافل ادا کرنا ہوں گے کہ اس طویل قبائلی پٹی کو اُس قانون سے نجات مل گئی جس میں اپیل ، دلیل ، وکیل اور عقل کو رسائی حاصل نہ تھی ۔
فاٹا انضمام کے بل کا پاس ہو نا آئین پاکستا ن میں 31ویں ترمیم کے ذریعے تاریخ پاکستان کا بہت اہم دن ہے ۔ یہ ایک لحاظ سے تحریک تکمیل پاکستان کا تسلسل ہے ہماری دعا ہے کہ ایک دن کشمیر بھی اسی طرح پاکستان کا حصہ بن جائے ۔ فاٹا انضمام کا بھی اکثریت سے پاس ہونے کے باوجود پختونخوا ملی عوامی نیشنل پارٹی اورجے یو آئی (ف) کی تائید و حمایت سے اگر چہ محروم ہے ، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو آئینی تاریخی جدوجہد میں یہ بہت بڑا واقعہ ہے ۔ ان دونوں جماعتوں کے مئوقف میں تاریخی وسیاسی وزن ہونے کے باوجود پاکستان کی روایتی سیاست کا بھی کردار ہے۔ آخر عوامی نیشنل پارٹی جو شاید آج بھی ’’لبروبر یو پختون‘‘ ہی کی قائل ہے لیکن اس کے باوجود فاٹا انضمام کو تاریخی فتح قراردیتی ہے۔
اچکزئی کبھی اسفندیار ولی خان سے ملاقات کرکے پوچھ تو لیں کہ آخر اُنہوں نے کیوں فاٹا انضمام کی پرزور حمایت کی ۔ اگر چہ پختونخوا ملی کے عثمان کاکڑ کی اس بات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ فاٹا نہ ہوتا تو انگریز کی غلامی سے نجات مشکل تھی ، لیکن ہم نے دراصل انگریز کے جانے کے بعد فاٹا کو صحیح طور پر سنبھالا نہیں ۔ اس مئوقف کے حامل اس لئے آج بھی انضمام کی مخالفت کرتے ہیں کہ قبائل کا اپنا پنچائتی جرگہ نظام اور آپس کے تعلقات ، تہذیب وثقافت ، انگریز سے ورثے میں ملے سیاسی نظام جس میں پٹواری ، ایس ایچ او اور ڈپٹی کمشنر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، کہیں اور پیچیدگیوں کا سبب نہ بن جائے ۔لیکن امید خیر کی رکھنی چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ فاٹا انضمام پاکستان کے استحکام اور قبائلی عوام کی آزادی اور خوش بختی کی نویدبن کر سامنے آئے ۔ آمین۔بشکریہ مشرق نیوز
The post فاٹا انضمام ایک تاریخی لمحہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2JlL1z0
via IFTTT


No comments:
Write komentar