رپورٹ:(جے اے رضوی)
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں ہر نیا دن گزرنے کے ساتھ ہی نت نئے پہلو معروض وجود میں آ رہے ہیں، خاص کر شہری ہلاکتوں کے حوالے سے صورتحال تیزی سے دگرگوں ہو رہی ہے۔ قابض فورسز کی جانب سے آئے روز کی کارروائیوں میں یہ بات واضح ہو کر سامنے آنے لگی ہے کہ حالات سے نمٹتے وقت، خاص کر جہاں مسلح تصادم پیش آتے ہیں، معیاری ضابطہ کار کو بالائے طاق رکھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانا ایک عام رجحان بننے لگا ہے۔ حالیہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر اور شوپیان اضلاع میں پیش آمدہ واقعات، جن میں چھے عام شہری شہید کئے گئے، اس نئے رجحان کی کھلم کھلا نشاندہی کر رہے ہیں۔
سرینگر واقعہ میں پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کی طرف سے ایک احتجاجی نوجوان کو کچلنے کو اگرچہ پہلے پہل حکام کی جانب سے حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اُس انسانیت سوز سانحہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ واقعہ جو بادی النظر میں ہی قتل عمد لگتا ہے، ایک ایسے ادارے کے افراد کی جانب سے وقوع پذیر ہوا ہے، جن پر آئینی اعتبار سے عوام کی حفاظت کرنے کی ذمہ داریاں عائد ہیں لیکن جب یہی افراد عام لوگوں کی جان لینے کے درپے ہوں تو آئین و قانون کی کیا حیثیت باقی رہے گی اور اس سے وابستہ اداروں,
پر عوام کے اعتبار کی حالت کیا ہوگی۔؟ اسی طرح ضلع شوپیاں میں ایک دن کے اندر پانچ عام شہریوں کی شہادت ایک نہایت ہی خطرناک صورتحال کی غماز ہے۔کشمیر میں مسلح تصادموں کی تاریخ کم و بیش تین دہائیوں پر محیط ہے لیکن واردات کی جگہوں پر احتجاج کرنے والوں پر بندوقوں کے دہانے کھولنے کی روایت جس طرح اب تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے، وہ پہلے دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حالت ایک ایسی صورتحال کو جنم دے رہی ہے جس میں قابض فورسز کے غیر مسلح عام شہریوں سے متصادم ہونے کو قانونی حیثیت عطا ہو رہی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک رجحان ہے، جو کسی بھی,
جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ اس صورتحال پر اگر سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض نہ کیا جائے تو آنے والے ایام میں نہایت ہی خوفناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بھلے ہی سیاسی جماعتیں خاص کر حکمران طبقے اس پر زبانی ردعمل ظاہر کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس حوالے سے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو رہے ہیں، اگرچہ مقبوضہ کشمیر بھر میں ماضی میں کئی ایسے واقعات کی تحقیقات کے احکامات بھی صادر ہوئے لیکن ان کا انجام بعد میں کیا ہوا؟ شاید بھارتی آلہ کار حکام کو بھی اس کا علم نہیں ہوگا۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ شہری ہلاکتوں کی وجہ سے حکومت پر عوام کا اعتماد مزید,
متزلزل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر اس طریقہ کار کو تقویت حاصل ہو جائے تو یقینی طور پر حالات میں بہتری آنے کی بجائے مزید خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایک جانب مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلٰی اور حکومت کی جانب سے کشمیر میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے متواتر بیانات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں مگر دوسری طرف اس طرز عمل سے خوف و ہراس اور بےچینی کی جو کیفیت مجسم ہو کر سامنے آ رہی ہے، اس میں سیاسی، معاشی اور سماجی فروغ کی امیدیں قائم کرنا رات کو دن کہنے کے مترادف ہے۔سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس بات پر انتہائی عدم اطمینان پایا جاتا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے بیشتر.
واقعات کے حوالے سے الجھاؤ و تردّد پیدا کر کے صحیح صورتحال کو سامنے نہیں آنے دیا جاتا اور نہ ہی تحقیقاتی عمل کو آگے بڑھا کر ممکنہ قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ نتیجتاً عوام اور حکومت کے درمیان معاملات کے افہام میں خلیج مزید وسیع ہو رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہو سکتی۔ فی الوقت مقبوضہ کشمیر کی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہلاکتوں کے تازہ واقعات کی حقیقی صورتحال کو سامنے لانے کی کوشش کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلٰی چونکہ سیکورٹی اداروں کی متحدہ کمان کونسل کی سربراہ بھی ہیں، لہٰذا اُن کے لئے,
یہ اور بھی زیادہ ضروری بنتا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں نام نہاد سکیورٹی اداروں کی طرف سے جاری کارروائیوں کی ماہیت مشکوک و مشتبہ ٹھہرنے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس سے حکومتی اداروں کی جوابدہی کا سسٹم، جو کسی بھی جمہوری نظام کے بنیادی عناصر میں شامل ہے، کمزور پڑنے کا شدید احتمال پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال مستقبل میں کسی بھی حلقے کے حق میں نہیں ہو سکتی۔
The post مقبوضہ کشمیر، عام شہری ہلاکتوں کا رجحان تشویشناک appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2rCjSOi
via IFTTT


No comments:
Write komentar