Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 6 May 2018

تحریک پاکستان کے مجاہد اور فاطمہ جناح کے سپاہی : عمران خان کے شیرمان خان قبیلہ کا یہ تعارف ملاحظہ کرنے کے بعد کپتان اورانکے والد پر الزامات لگانے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے

 

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) اکرام اللہ خان نیازی کا تعلق نیازی قوم کے شیرمان خیل قبیلے سے تھا شیر مان خیل قبیلہ اپنی سیاسی وابستگیوں میں استقامت اور جرات کے حوالے سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔مسلم لیگ اور نظریہ پاکستان سے والہانہ اور لازوال وابستگی عمران خان کے دادا

ڈاکٹر محمد عظیم خان شیر مان خیل مرحوم کے خانوادے کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان شیر مان خیل کے چار بیٹے ظفر اﷲ خان نیازی، امان اﷲ خان نیازی، کرنل فیض اﷲ خان نیازی اور اکرام اﷲ خان نیازی تھے۔ اکرام اﷲ خان نیازی نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدمحکمہ پی ڈبلیو ڈی میں ملازمت اختیار کر لی۔ گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں وہ پی ڈبلیو ڈی میں چیف انجینئر تعینات تھے تو میانوالی میں ان کا خاندان ایوبی آمریت کے خلاف ڈٹا ہوا تھا۔اس خاندا ن کی نفسیات جاننے والوں کے مطابق’’اس خاندان کا ہمیشہ سے یہ امتیاز رہا ہے کہ یہ لوگ مصیبت میں گھبرانے کی بجائے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران عمران خان کا خاندان اپنے علاقے میں مسلم لیگ کا پشتیبان تھا۔اس خاندان کو یہ شرف اور افتخار بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مجاہد ملت مولانا محمد عبد الستار خان نیازی ؒ کا ساتھ دیا ہے۔مولانا نیازی ؒحریت اور جسارت کا دبستان ، نظریہ پاکستان اور اسلام سے وابستگی کی ایک اجلی داستان کا نام ہے۔عمران خان کا خاندان اور مولانا نیازی ؒ ہمیشہ یک قالب و یک جان رہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں اس خاندان نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا ساتھ دیا۔

انہوں نے سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کو عین اس وقت للکارا تھاجب ان کی سطوت کا سورج نصف النہار پر تھا۔میانوالی میں انجینئر اکرام اﷲ خان نیازی کے بھائیوں ظفر اﷲ خان اور امان اﷲ خان ایڈو کیٹ کی سیاسی سر گرمیوں کی وجہ سے اس وقت کے گورنرمغربی پاکستان ملک امیر محمد خان آف کالاباغ ان سے ناراض تھے۔یہی وجہ تھی کہ اکرام اﷲ خان نیازی کو ملازمت سے ریٹائر منٹ لینا پڑی۔ریٹائرمنٹ کے بعد اکرام اﷲ خان نیازی اور انکی اہلیہ محترمہ شوکت خانم مرحومہ نے اپنے بیٹے عمران خان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔عمران خان نے ایچی سن کالج سے اکتوبر 1972 ء میں میٹرک لیول کا امتحان پاس کیا ۔ جس کے بعد اسے آکسفورڈ یونیورسٹی سے الحاق شدہ کیبلے کالج لندن میں داخل کر وادیا گیا۔کیبلے کالج لندن سے عمران خان نے سیاسیات اور اکنامکس کے مضامین میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ عمران خان نے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت دنیائے کرکٹ کے بادشاہ کہلائے۔اور پاکستان کو ورلڈ کپ کا فاتح بنایا۔عمران خان نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے والد کی بھرپور سرپرستی میں سماجی خدمت کے میدان میں قدم رکھا۔

سماجی خدمت کے عظیم الشان اور بے مثال ادارے ’’ شوکت خانم ہسپتال ‘‘ کی تعمیر میں بھی عمران خان کے والد کا بہت نمایاں کردار رہا۔عمارت کی ڈیزائننگ میں بھی ان کی تجاویز اور مشاورت کا خاصا عمل دخل رہا۔ سماجی خدمت کے میدان میں اپنے اکلوتے بیٹے کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اکرام اﷲ خان نے عمران خان کو سیاسی میدان میں بھی تنہا نہیں چھوڑا۔ جب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے عمران خان کو اپنی کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اکرام اﷲ خان نے اپنے بیٹے کو منع کر دیا تھا کہ ابھی آپ کو مزید منزلیں طے کر نا ہیں۔نئی اڑانیں تمہاری منتظر ہیں۔بعد میں سابق وزیر اعظم اور آج کی دنیا میں عمران خان کے سب سے بڑے حریف میاں محمد نواز شریف ( جو کرکٹ کے کھیل سے دلچسپی کے باعث عمران خان سے خصوصی مراسم رکھتے تھے ) نے بھی عمران خان کو اپنی مسلم لیگ میں شامل ہونے کے عوض مسلم لیگ کی سینئر نائب صدارت اور ڈپٹی وزیر اعظم کے منصب کی پیش کش بھی کی تھی۔لیکن اکرام اﷲ خان نیازی کی روایتی خاندانی استقامت اور سیاسی بصیرت نے عمران خان کو اس پیشکش سے بھی دور رکھا۔اگر عمران خان یہ پیشکش قبول کر لیتے تو عالمی پہچان رکھنے والا یہ پاکستانی ہیرو پاکستان کی سیاست کے صلاحیتوں کے قبر ستان میں دفن ہوجاتا۔۔ اللہ اس باپ کے درجے بلند کرے جس نے پاکستان کو عمران خان جیسا بیٹا دیا۔(ش س م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2wh09sq
via IFTTT

No comments:
Write komentar